پیراڈائیز پیپرز ،پاناما پیپرز اور سعودی کریک ڈاؤن

پیراڈائیز پیپرز ،پاناما پیپرز اور سعودی کریک ڈاؤن
پیراڈائیز پیپرز ،پاناما پیپرز اور سعودی کریک ڈاؤن

  

آئی سی آئی جے کی طرف سے پہلے پانامہ پیپرز اور پھر پیراڈائیز پیپرز کا منظر عام پر آنا عالمی سطح پر ایک دھماکے سے کم نہیں تھا، کئی سربراہ، کئی اعلیٰ عہدیدار استعفے دے گئے یا ایسا کرنے پر مجبور کردئیے گئے، جہاں ایسا نہیں ہوا وہاں حکومتوں نے عدالتوں نے نوٹس لیا اور عدالتی فیصلوں کے ذریعے ایسا کیا گیا۔ ’’اتفاق‘‘ سمجھ لیں پاکستان اور سعودی عرب میں حکومتی اور عدالتی اقدامات کے ذریعے ایسا ہوا۔

یہ بھی ’’اتفاق‘‘ سمجھ لیں کہ دونوں ممالک میں ان اقدامات کو ’’سازش‘‘ قرار دیا گیا۔ پاکستان میں جو ہوا یا ہورہا ہے، وہ ہم سب کے سامنے ہے۔

یہاں بھی اسے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ملی بھگت کی سازش قرار دیا گیا۔ ایٹمی طاقت بنانے کی سزا قرار دیا گیا، (بے چارہ ذوالفقار علی بھٹو جس کو واقعی ہنری کسنجر کے کہنے کے مطابق ایک مثال بنا کر پھانسی دے دی گئی) اور اُس کی جماعت اس کا کریڈٹ لینے میں بوجوہ ناکام رہی ہے۔

کبھی اسے پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا گیا،وہ ترقی جس میں اپنے اثاثے کروڑوں سے اربوں اور کھربوں میں تبدیل ہوئے اور ملک کروڑوں سے اربوں اور کھربوں کا مقروض ہوگیا۔۔۔

سعودی عرب میں کریک ڈاؤن کو ولی عہد کی طاقت پر اپنی گرفت مضبوط کرنے اور ممکنہ بغاوت کو بزور دبانے کی کوشش قرار دیا گیا، لیکن پاکستان کی عدلیہ کی طرح شہزادہ محمد بن سلمان ثابت قدمی سے ڈٹے رہے اور ڈٹے ہوئے ہیں اور اب تک کامیاب ہیں۔

جب ولی عہد نے کریک ڈاؤن شروع کیا تو کہا گیا کہ فوج اورنیشنل گارڈ پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ افواہوں کا ایک سیلاب تھا، پھر یہ الزام بھی سامنے آیا کہ شہزادہ عبدالعزیز کی موت طبعی نہیں تھی، وہ پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ شاہی خاندان اور مسلح افواج میں وہ طبقہ جو ولی عہد کے انقلابی اقدامات اور اصلاحات کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے خطرہ سمجھتا تھا، یمن میں جنگ کا مخالف تھا۔ شہزادہ عبدالعزیز جو مرحوم بادشاہ فہد کے بیٹے تھے اور میڈل(MBC)ایسٹ براڈ کاسٹنگ کمپنی میں بڑے حصہ دار تھے ، جو العریبیہ ٹیلی ویڑن کی مالک کمپنی ہے۔

دوسرے بڑے حصہ دار ولید بن ابراہیم آل ابراہیم ہیں، جو بادشاہ کی بیگمات میں سے ایک کے بھائی ہیں، شہزادہ ولید بھی نظر بند کئے گئے تھے۔ افواہ یہ بھی تھی کہ شہزادہ عبدالعزیز سابقہ ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کے ہمدرد تھے، اس لئے انہیں راستے سے ہٹا دیا گیا۔

وہ لبنانی وزیر اعظم سعد حریری کی کمپنی Saudi Oger میں بھی حصہ دار تھے، انہیں ولی عہد سے شکایت ہے کہ سعودی عرب نے لبنان کو غیر مستحکم کردیا ہے۔

ایک اور شہزادے ترکی بن سلطان نے 2005ء میں جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں ایک مقدمہ شہزاد ہ عبدالعزیز بن فہد کے خلاف درج کرایا تھا۔ ان کے یہ الزام عائد کرنے پر کہ شہزادہ عبدالعزیز نے اسے اغوا کیا اور تشدد کیا، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ انہوں نے شہزادہ عبدالعزیز ،جو اس وقت دفاع اور داخلہ کے طاقتور وزیر تھے ،کے خلاف کرپشن کے الزامات عائد کئے تھے اور اس پر ایک سیمینار منعقد کرانے کا عندیہ دیا تھا۔

محلاتی سازشوں کے اس دور اور پس منظر کو مغربی میڈیا کریمنالوجی کہتے اور لکھتے ہیں، جیسا دور اور ماحول سوویت یونین کے آخری دور میں تھا۔۔۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ولی عہد کے کریک ڈاؤن کو ان کی بھرپور حمایت حاصل ہے جو ایک عرصے سے ٹھیکوں کی بندر بانٹ اور شہزاد گان کی زمینوں پر قبضے، رشوت اور منی لانڈرنگ سے سخت نالاں تھے اور ہیں۔

ابھی تک یہی سمجھا جاتا تھا کہ ملک میں جو بھی ہے۔ وہ شہزادوں کی ملکیت ہے اور وہ جیسے سمجھیں، تیل کی آمدنی کو اپنے ذاتی مفاد میں استعمال کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے، لیکن پاناما پیپراور پیراڈائیز پیپر منظر عام پر آنے کے بعد جس میں Global Elite کی رشوت، منی لانڈرنگ اور عوامی فنڈز کو ذاتی استعمال کا انکشاف ہوا۔ سابقہ ڈپٹی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلطان بن عبدالعزیز، جنہوں نے چین سے میزائل خریدے تھے، اس سودے میں ’’مال بنانے‘‘ کا انکشاف ہوا، جس سے انہوں نے 1989ء سے 2014ء تک دوٹرسٹ اور آٹھ کمپنیاں رجسٹرکرائی تھیں۔

جتنے شہزادے نظر بند اور گرفتار ہوئے تھے، سب کے اثاثوں کی تفصیل ان پیپرز میں تھی، جو سعودی عرب کے شاہی خاندان کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش کہی جاسکتی ہے۔

ان میں ریاض کے سابق گورنر شہزادہ ترکی بن عبداللہ بن عبدالعزیز السعود بھی ہیں، جن کی کمپنی Petro Saudi کا نام ملائشیا کے ایک اربوں ڈالر فراڈ میں لیا جاتا ہے۔ وہ کئی جہازوں اور قیمتی کشتیوں کے مالک ہیں۔

شہزادہ فہد بن عبداللہ بن محمد ماحولیات کے سابق وزیر، سابق ڈپٹی وزیر دفاع شہزادہ سعود، شاہی خاندان کے بن سلمان کے کئی شہزادے، جن کے نام پاناما پیپرز اور پیراڈائز پیپر میں آئے، ان کے اثاثوں کی تفصیل منظر عام آنے پر کریک ڈاؤن کیا گیا ، کئی شہزادوں نے غیرملکی ارب پتی حکمرانوں کے نام بھی بتائے کہ ان اثاثوں میں وہ بھی ہمارے حصہ دار ہیں۔

یہاں یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ امریکہ کے صدر ٹرمپ نے،جو اپنی دلچسپ حرکات کی وجہ سے کافی مشہور ہوگئے ہیں، اس کریک ڈاؤن کی حمایت کی ہے کہ کرپشن، فراڈ، منی لانڈرنگ کے خلاف ہر جگہ پر مہم کو امریکہ کی حمایت حاصل ہوگی

ولی عہد کو اس کریک ڈاؤن میں عوامی حمایت حاصل ہے، عسکری ادارے بھی ان کے ساتھ ہیں، لیکن ان کے ایران کے ساتھ، یمن میں، لبنان میں، قطر کے ساتھ ایڈونچرزکو تشویش کے ساتھ دیکھا جارہا ہے۔

مزید : رائے /کالم