جسٹس جاوید اقبال چیئرمین نیب۔۔۔بلاتفریق احتساب کا عملی مظاہرہ

جسٹس جاوید اقبال چیئرمین نیب۔۔۔بلاتفریق احتساب کا عملی مظاہرہ
جسٹس جاوید اقبال چیئرمین نیب۔۔۔بلاتفریق احتساب کا عملی مظاہرہ

  

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ’’احتساب سب کیلئے‘‘ کا جو نعرہ لگایا تھا وہ آج 5ماہ گزرنے کے بعد نہ صرف سچ ثابت ہوا ہے بلکہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ پوری قوم کی آواز بن چکا ہے اور پوری قوم کی نظریں اب قومی احتساب بیورو پر ہیں اور قوم بجا طور پر اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ جسٹس جاوید اقبال چیئرمین نیق بلاتفریق احتساب کا جو مشکل ذمہ داری جس طرح نبھائی ہے اور جس طرح ہر دباؤ، دھمکی اور تنبیہ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے عملی طور پر نیب کے ادارے کو آج اس مقام پر کھڑا کر دیا ہے وہ یقیناًقابل تحسین ہے، آپ نے نہ صرف سیاستدانوں، بیورو کریٹس اور سابق اعلیٰ فوجی افسران کے خلاف مبینہ بدعنوانی کی شکایات پر بلاتفریق کارروائی کا عمل شروع کیا ہے اس کی وجہ سے ایک تو نیب کے وقار میں اضافہ ہوا ہے بلکہ بلاتفریق احتساب ہوا ہوا نظر آ رہا ہے، نیب کا بنیاد فرض یہاں بدعنوان عناصر کو گرفتار کرنا ہے وہاں ان سے قوم کی لوٹی گئی رقم برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کروانا ہے۔ نیب نے نہ صرف قوم کے تقریباً2.89ارب روپے بدعنوان عناصر سے برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں وہاں نیب کی سزا دلوانے کی شرح 76فیصد ہے جو کہ دنیا میں کسی بھی انسداد بدعنوانی کے ادارے سے کم نہیں جو پاکستان کے لئے ایک فخر کی بات ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی ساری زندگی انصاف کی فراہمی میں گزری، ان کی ذات اور شخصیت بے داغ ہونے کے علاوہ ان کے دل میں ملک و قوم اور پروردگار سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہے ۔

وہ ایک سچے عاشق رسولؐ ہونے کے علاوہ بلاتفریق احتساب پر سختی سے یقین رکھتے ہیں، وہ نہ تو کسی کے ساتھ زیادتی، اس کی عزت نفس، امتیازی سلوک پر یقین رکھتے ہیں بلکہ انسان دوست، انتہائی سادہ اور شفیق طبیعت کے انسان ہیں جن کے سینے میں ایک درد مند دل ہے جو ہر وقت ملک کی ترقی و خوشحالی، ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اور احتساب سب کیلئے کے اصول پر سختی سے عمل کرنے پر یقین رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے آج تک جو کہا اس پر اللہ تعالیٰ اور رسول کریمؐ کی برکت سے عمل کیا جس کاواضح ثبوت ان کی 5ماہ کی مختصر عرصہ کی کارکردگی سے ملتا ہے۔

احتساب خصوصاً بلاتفریق احتساب کیوں ضروری ہے اور اس کے ملکی ترقی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ ایک بہت اہم اور بنیادی سوال ہے جو کہ اکثر لوگ پوچھتے تھے جب بلاتفریق احتساب نہیں ہو رہا تھا اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ بدعنوانی ایک کینسر ہے جو آہستہ آہستہ کینسر کی طرح ہمارے معاشرے کے وسائل کو نہ صرف کھوکھلا کر دیتی ہے بلکہ بدعنوانی کی وجہ سے حق دار کو اس کا حق نہیں ملتا، وسائل کا صحیح استعمال نہیں جس کی وجہ سے ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن نہیں ہوتا اور ہم پوری دنیا خصوصاً ورلڈ بینک، آئی ایم ایف سے اپنے بجٹ کا خسارہ اور ملک کے اہم منصوبوں کی تکمیل کے لئے قرض مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے قرض دینے والے ادارے نہ صرف اپنی شرائط پر قرض دیتے ہیں بلکہ کنسلنٹس کی صورت میں اپنے آدمیوں کو نہ صرف مشیر مقرر کرتے ہیں جن پراجیکٹس کے لئے ہم فنڈز یا قرض لیتے ہیں اس سے مبینہ طور پر ہمیں فائدہ کی بجائے نقصان ہوتا ہے اور ہم اس نقصان کو پورا کرنے کے لئے مزید قرض لینے پر مجبور ہوتے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہم نسل در نسل مقروض ہوتے جاتے ہیں یہ ایک ایسی حقیقت تھی جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر پاکستانی قوم دنیا کی بہترین صلاحیتیں رکھنے والی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ اور رسول پاکؐ نے نہ صرف بہترین دماغ دیا ہے بلکہ ہمارے ملک کو ہر طرح کے وسائل اور موسموں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ہم اپنے وسائل کی تقسیم منصفانہ کرتے اور میرٹ، شفافیت اور انصاف کا بول بالا ہوتا، آج جسٹس (ر) جاوید اقبال چیئرمین قومی احتساب بیورو جہاں ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے بلاتفریق احتساب کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں اس کی پوری قوم نہ صرف تعریف کر رہی ہے بلکہ نیب کے ساتھ بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے یک زبان ہے اگر یوں سمجھا جائے کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال چیئرمین نیب کے دلیرانہ فیصلوں، بلاتفریق احتساب کی بدولت احتساب اب پوری قوم کی آواز بن چکا ہے اور ملک کے تمام صوفوں اور اداروں میں بدعنوانی سے انکار کا پیغام نمایاں طور پر لکھا ہوا ہے بلکہ اس پر عملی طور پر اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے بدعنوان عناصر اب نیب کے پیغام کو نہ صرف سنجیدہ لے کر بدعنوانی سے انکار کر رہے ہیں بلکہ بدعنوانی کی ملک بھر میں شرح میں واضح کمی واقع ہو رہی ہے۔ نیب نے جہاں پورے ملک میں 50ملین روپے یا اس سے زائد کے کنٹریکٹس کی کاپیاں متعلقہ پبلک سیکٹر ڈیپارٹمنٹس سے طلب کی ہیں وہاں نیب نے فیس کی بجائے کیس پر توجہ دے کر بڑی مچھلیوں کو واضح پیغام دیا تھا کہ اب قانون کی نظر میں چھوٹے اور بڑے سب برابر ہونگے اور سب کو ایک ہی صف میں کھڑا کرتے ہوئے بلاتفریق اور احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج احتساب نہ صرف ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے بلکہ بدعنوان عناصر کے خلاف بھی کارروائیاں تیز سے تیز کی جا رہی ہیں اور کسی صوبہ اور پارٹی کی تفریق کیے بغیر قانون اور شواہد کی بنیاد پر بدعنوانی کے خاتمہ اور کرپشن فری پاکستان کے لئے نیب کا ہر افسر جسٹس (ر) جاوید اقبال کی قیادت میں اپنے فرائض انتہائی ایمانداری، محنت، لگن، میرٹ شفافیت اور دیانتداری سے سرانجام دے رہے ہیں اوروہ وقت اب دور نہیں جب ہمارے پیارے وطن سے بدعنوانی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے گا اس کے لئے نیب کے ساتھ ساتھ میڈیا، سول سوسائٹی، طلباء، دانشور، اساتذہ، مفکر اور معاشرے کے تمام طبقے نہ صرف عوام میں مزید بدعنوانی کے مضراثرات کے بارے میں آگاہی اور شعور اجاگر کر رہے ہیں اس کے یقیناً مثبت اور حوصلہ افزاء نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال اپنی ذاتی کوششوں اور عملی کاوشوں کی بدولت بدعنوان عناصر کے سامنے جس طرح ڈٹ کر اپنے مشن پر عمل پیرا ہیں اور بلاتفریق احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر جس طرح عملی مظاہرہ کیا ہے اس پر پوری قوم ان سے توقع کرتی ہے کہ بقول شاعر

نہیں ہے نہ امید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

مزید :

رائے -کالم -