عدلیہ کی نگرانی میں انتخابات پر کوئی سوال اٹھا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟

عدلیہ کی نگرانی میں انتخابات پر کوئی سوال اٹھا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ...

تجزیہ :سعید چودھری 

چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے گزشتہ دنوں ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ عام انتخابات کو شفاف بنائیں گے ۔سپریم کورٹ ماضی میں بھی انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے مختلف راہنما اصول اور احکام جاری کرتی رہی ہے جس کی ایک بڑی مثال ورکرز پارٹی پاکستان کیس ہے ،8جون 2012ءکو اس کیس کا فیصلہ جاری کیا گیا جبکہ 15جنوری2013ءکو اس فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے ایک مرتبہ پھر احکامات صادر کئے گئے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا الیکشن کمشن پاکستان کے پاس اختیارات کی کمی ہے ؟کیاالیکشن کمشن شفاف الیکشن کروانے کا اہل نہیں ؟اگر ماضی میں شفاف انتخابات نہیں ہوئے تو کیا سپریم کورٹ پر بھی اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔آئین کے تحت الیکشن کمشن ایک خود مختار ادارہ ہے جسے شفاف انتخابات کروانے کے لئے وسیع اختیارات حاصل ہیں ۔الیکشن کمشن کو انتظامیہ کی معاونت طلب کرنے سے متعلق وہی اختیارات حاصل ہیں جو سپریم کورٹ کے پاس ہیں۔آئین کے آرٹیکل190کے تحت پاکستان بھر کی تمام انتظامیہ اور عدلیہ سپریم کورٹ کی معاونت کی پابند ہیں ۔اسی طرح آئین کے آرٹیکل 220میں کہا گیا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے تمام حکام عاملہ کا فرض ہوگا کہ وہ کارہائے منصبی کی انجام دہی کے لئے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشن کی معاونت کریں،انتظامیہ اور تمام اداروں کو آئینی طور پر جس طرح سپریم کورٹ کا حکم ماننے کا پابند بنایا گیا ہے ،اسی طرح وہ الیکشن کمشن کے احکامات ماننے کے پابند ہیں۔ورکرز پارٹی پاکستان کیس میںسپریم کورٹ نے قراردیا تھا کہ الیکشن کمشن کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ یہ اختیار بھی ہے کہ وہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے الیکشن اخراجات کو ریگولیٹ کرے ۔ جہاں پر امیدوار انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کرے ،وہاں قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں ۔الیکشن کمشن تمام انتخابی تنازعات حل کرے ، شفاف ،آزادانہ ،انصاف پر مبنی اور دیانت دارانہ انتخابات آئین کا تقاضہ ہے اور قانون اس حوالے سے الیکشن کمشن کو تمام اختیارات تفویض کرتا ہے ۔سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل218(3)کے تحت انتخابات کے انعقاد اور انتظامات کے حوالے سے الیکشن کمشن تمام مروجہ قوانین کو بروئے کار لانے اور سختی سے ان پر عمل درآمد کروانے کا مجاز ہے ۔الیکشن کمشن الیکشن میں بدعنوانی اور انتخابی مہم میں قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کا مکمل اختیار رکھتا ہے ۔سپریم کورٹ نے یہ بھی قراردیا تھا کہ الیکشن کمشن انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے قواعد و ضوابط وضع کرنے کا مجاز ہے ۔سپریم کورٹ نے یہاں تک قرار دے رکھا ہے کہ موجودہ انتخابی نظام کے تحت ضروری نہیں کہ منتخب ہونے والے رکن اسمبلی نے حلقہ میں 50فیصد سے زائد ووٹ لئے ہوں ،ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ مخالفت کے ووٹ تقسیم ہونے کے باعث کم ووٹ لینے والا امیدوار بھی کامیاب قرار پاتا ہے ،اس سلسلے میں الیکشن کمشن "رن آف الیکشن "کاطریقہ کار اختیار کرسکتا ہے ،تاکہ واضح ، دو ٹوک اور قطعی اکثریت حاصل کرنے والا امیدوار ہی اسمبلی میں پہنچے ۔

الیکشن کمشن کو اس حد تک خود مختار بنایا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور کمشن کے دوسرے ارکان کو حکومت برطرف نہیں کرسکتی ،ان کی ملازمتوں کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور انہیں عہدہ سے ہٹانے کے لئے وہی طریقہ کار اختیار کیا جاسکتا ہے جو اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے لئے مستعمل ہے ۔الیکشن کمشن کو انتخابات کے حوالے سے بھرپور اختیارات حاصل ہیں ،وہ انتخابی حلقہ بندیوں کا مجاز ہے جس میں کوئی ادارہ مداخلت نہیں کرسکتا ۔وہ انتخابات کے ضمن میں بدعنوانیوں اور دیگر جرائم سے متعلق امور کے فیصلے کرسکتا ہے ،وہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخاب کے لئے قواعد و ضوابط طے کرسکتا ہے اور پارلیمنٹ کوئی ایسا قانون نہیں بناسکتی جس کے تحت کمشنر یا الیکشن کمشن کے اختیارات میں کمی کی جائے یا انہیں سلب کیا جائے یا انہیں غیر موثر بنایا جائے۔اس آئینی صورتحال کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہیں کہ الیکشن کمشن اپنے اختیارات کو صحیح معنوں میں استعمال کرے تو وہ شفاف الیکشن کے لئے کسی ادارے یا عدالت کا محتاج نہیں بلکہ ادارے آئینی طور پر الیکشن کمشن کے احکامات ماننے کے پابند ہیں ۔

انتخاب کے انعقاد کے علاوہ انتخابی تنازعات کے حوالے سے بھی الیکشن کمشن کو وسیع تر اختیار ات حاصل ہیں ۔آئین کے آرٹیکل 225کے تحت کسی ایوان یا صوبائی اسمبلی کے انتخاب کے تنازع پر دادرسی کے لئے الیکشن ٹربیونل کے سوا کسی دوسرے فورم سے رجوع نہیں کیا جاسکتا جس کا مطلب ہے کہ محض انتخابی عذر داری کے ذریعے صرف الیکشن ٹربیونل سے ہی انتخابی تنازعات پر دادرسی طلب کی جاسکتی ہے۔آئین کے آرٹیکل 219(سی )کے تحت الیکشن ٹربیونل تشکیل دینا چیف الیکشن کمشنر کا اختیار ہے۔آئین کے آرٹیکل 225کے حوالے سے مختلف عدالتی نظائر موجود ہیں ،ایک یہ کہ اگر الیکشن ٹربیونل موجود نہ ہوں تو پھر شہریوں کے پاس دادرسی کا کوئی فورم نہیں ہوگا ،ایسی صور ت میں آرٹیکل 199کے تحت ہائی کورٹس میں رٹ درخواست دائر ہوسکتی ہے۔دوسرا یہ کہ کسی بھی ٹربیونل یا ادارہ یا شخص کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہو تو اس کے خلاف بھی رٹ درخواست دائر ہوسکتی ہے۔علاوہ ازیں اگر کسی شخص کا کوئی بنیادی آئینی حق متاثر ہوتا ہے تو اسے بھی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ماضی میں عدالتیں انتخابی معاملات میں مداخلت کے حوالے سے کافی محتاط رہی ہیں۔ابتداءمیں ایسے فیصلے آئے کہ مدمقابل امیدوار کے خلاف کوئی دوسرا شہری یا ووٹر رٹ درخواست کے ذریعے کاغذات نامزدگی کو چیلنج نہیں کرسکتا۔بعدازاں جاوید ہاشمی اور غلام مصطفی جتوئی کے مقدمات کے فیصلوں تک یہ روایت برقرار رہی کہ کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف صرف امیدوار ہی ہائی کورٹ میں رٹ درخواست دائر کرسکتا ہے ،اس کے سوا کسی دوسرے تنازع کے بارے میں رٹ درخواست دائر نہیں ہوسکتی تھی۔بعدازاں 2008ءمیں سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں قائم بنچوں کی طرف سے صلاح الدین ترمذی اور انتصار حسین بھٹی کے مقدمات میں اوپر تلے ایسے فیصلے آئے جنہوں نے انتخابی تنازعات سے متعلق رٹ درخواست کے ذریعے دادرسی کے کئی دیگر دروازے بھی کھول دیئے،جس کے باعث الیکشن ٹربیونل کے منفرد دائرہ اختیار میں عدالتی مداخلت میں اضافہ ہوا ۔اس حوالے سے الیکشن کمشن کو آئین کے آرٹیکل 225اور199کی نئی تشریح کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے ۔الیکشن کمشن آزادانہ انتخابات کے انعقاد کے علاوہ انتخابی تنازعات اور انتخابی جرائم کی مکمل بیخ کنی کے اختیارات رکھتا ہے ۔اعلیٰ عدلیہ کسی ادارہ کے معاملہ میں اسی وقت مداخلت کی مجاز ہے جب وہ ادارہ اپنے قانونی اور آئینی ذمہ داریاں ادا نہ کررہا ہو۔ماضی میں عدلیہ کی معاونت سے انتخابات ہوتے رہے ہیں ،2013ءسے قبل انتخابی عذرداریوں کی سماعت کے لئے الیکشن ٹربیونلوں کی تشکیل کے لئے ہائی کورٹس کے ججوں کی خدمات لی جایا کرتی تھیں ۔2013ءکے عام انتخابات کے حوالے سے ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل الیکشن ٹربیونل تشکیل دیئے گئے ۔ماضی میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے جوسوالات اٹھتے رہے ہیں ،عدلیہ بھی ان کی لپیٹ میں آتی رہی ہے ۔سپریم کورٹ  انتخابات کی نگرانی اپنے ہاتھ میں لیتی ہے تو اسے مستقبل میں انتخابی عمل کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات کا سامنا کرنے کے لئے بھی تیار رہنا ہوگا۔

مزید : تجزیہ