لہو سے دُھلتے ہیں بدنامی کے داغ؟

لہو سے دُھلتے ہیں بدنامی کے داغ؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تحریر:بے نام ضوریز

ممکن ہے کہ آپ کو قاتل کا نام ابھی تک معلوم نہ ہو۔ ممکن ہے، آپ اُس خبیث کا نام جاننا ہی نہ چاہتے ہوں۔ہاں مگر، ذَرائع اِبلاغ سے لبریز اِس جامِ جہان میں، یہ بھی ممکن ہے کہ کرائسٹ چرچ میں واقع مسجد میں ہونے والے قتلِ عام کی واردات کی ویڈیو آپ کی نظروں سے گذری ہو۔ اور، آپ نے صاف دیکھا ہو کہ صاف ستھری وردی پہنے، گورا چٹا ، پڑھا لکھا اور جدید آدمی، ایک آدمی ،تنِ تنہا، سو سے زائد نہتے انسانوں کا خون بہا دیتا ہے، بے دریغ، اُن سب پر گولیاں برسا دیتا ہے۔ جن میں پھر پچاس انسان موقع پر جاں بحق ہو جاتے ہیں۔


یہ سانحہ عین اپنے سامنے رونما ہوتے دیکھ کر آپ میں خوف، گھبراہٹ اور نفرت کے جذبات اُبھرتے ہیں۔ نفرت ، اُس قاتل سے۔ اورگھبراہٹ، اِس خیال سے کہ اُس گھڑی اُس جگہ اگر میں بھی ہوتا، اُف! پھر، گہرا خوف، اُن مردہ پڑے انسانوں کو دیکھ کر، جو کہ ابھی ابھی بالکل زندہ سلامت تھے۔ ایک پَل پہلے جو اپنا ایسا انجام تصور تک نہ کر سکتے تھے۔ وہ سب جو اپنے رَب سے دُعائیں مانگنے آئے تھے۔گویا جو اُمنگوں سے بھرے پڑے تھے ۔ وہ سب جو اپنے اپنے گھر والوں کے لئے اِنتہائی اَہمیت رکھتے تھے، وہ مر چکے تھے۔ ابھی ابھی جو تمام زندہ تھے، وہی مر بھی چکے تھے۔ اور، اُن سب کو مارڈالا تھا ، صرف ایک آدمی نے۔ تعجب ہے،محض ایک بندوق ایک آدمی کو کتنا طاقتور بنا دیتی ہے! یہی قاتل شمشیر بدست ہوتا، تو نفرت سے دھڑا دھڑ جلتی اپنی چھاتی سمیت بھی، یہاں ایسی دہشت کبھی نہ پھیلا سکتا۔ مگر، بڑے ہتھیاروں نے بڑی دہشت گردی کو بھی جنم دیا ہے۔


پھر، انسان کی انسان سے نفرت کوئی نئی بات نہیں۔ مگر، انسان کے پاس انسان کو برباد کر دینے کا اختیار اب جتنا ہے، پہلے کبھی نہ تھا۔ المختصر، اب نسلِ انسانی کو سنجیدگی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اب انسان کی انسان سے خوامخواہ نفرت نہایت خطرناک ہے۔ اب انسان کو انسان کی قدر سمجھانے کی ضرورت کہیں زیادہ ہے۔اور، یہی قدر اِس دُنیا میں ہنوز سب سے غیر واضح ہے۔۔۔ انسان کیا ہے؟ انسانی زندگی کا مقصد بھی کیا ہے؟ اِن دونوں اَہم ترین سوالوں کے مستند ترین جوابات ہی ابھی تک دُنیا میں کہیں نہیں کہ جن پر کُل نسلِ انسانی پھر مکمل متفق بھی ہو۔اور تو اور، ابھی انسانی اَہمیت کا خوب پیمانہ ہی طے نہیں گویا۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ انسانی اَہمیت کی حقیقی وجہ کس کو قرار دیا جا سکتا ہے! کیا نسل کو؟ یا، علاقہ کو؟ یا پھر عقیدہ کو؟ تو یعنی کسی ایک نسل کے انسان باقی سب انسانوں سے اَہم ہو سکتے ہیں؟ یا کسی ایک علاقہ کے لوگ باقی ساری زمین پر بستے تمام انسانوں سے اعلیٰ ہو سکتے ہیں؟ اور یا پھر کسی ایک عقیدہ کے ماننے والے باقی سبھی انسانوں سے اَفضل ہو سکتے ہیں؟ تو پھر، نسل یا علاقہ یا پھر عقیدہ ، اِن تینوں میں آخر کون سا اَمر ، انسان کی اَہمیت کا حقیقی پیمانہ قرار پا بھی سکتا ہے؟ مگر، کوئی نہیں! اور، کبھی نہیں! اِن میں ہر ایک کو اپنی اَہمیت بزورِ بازو ہی منوانی پڑے گی۔ اور، اِن میں کوئی بھی اِتنا بااختیار بہرحال نہیں کہ جس کا زور پوری نسلِ انسانی پر ہی بَلا کا ہو۔ پَس، اِن میں جو کوئی اپنی فضیلت کا دعویدار ہو گا، وہ اپنی تمام عظمت کا واحد شاہد و مداح پھر خود ہی ہو گا۔ باقی نسلِ انسانی کی نظروں میں وہ نرا نادان ہو گا۔ اور، کہیں وہ اپنی ’’عظمت‘‘ اپنے ہاتھ میں ہتھیار اُٹھا کر ثابت کرنے نکل پڑے ، تو باقی ساری دُنیا اُس کو خبطی اور وَحشی قرار دے گی، اورعین وہی سلوک کرے گی جو کہ خونخوار درندوں کے ساتھ پھر ہوا کرتا ہے۔


تو پھر، کوئی نسل نہیں، کوئی علاقہ نہیں اور کوئی عقیدہ بھی نہیں کہ جس کے لوگ کھلے عام، اپنی ’’عظمت‘‘ کی سب سے بڑی دلیل کے طور پر اپنی دہشت یا ہیبت ہی دکھایا کریں۔اور، سب سے زیادہ دہشت یا ہیبت پھیلتی ہے موت سے۔ مگر، اب کسی بھی نسل یا علاقہ یا عقیدہ کا کوئی بندہ یا گروہ پھر خاص اپنی نسل یا خاص اپنے علاقہ یا خاص اپنے نظریہ کے نام پر قتل وغارت گری کرتا ہے تو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ لعن طعن پھر اُنہی سے سنتا ہے کہ جن کی خاطر وہ مسلح ’’جدوجہد‘‘کیا کرتا ہے۔ ۔۔ کرائسٹ چرچ کی تاریخ میں سیاہ باب رقم کرنے والے سفید فام کے ایسے بھیانک اقدام پر بھی، سب سے زیادہ اور سب سے سنجیدہ تنقید ، خود سفید فام انسانوں کی جانب سے ہو رہی ہے۔ باقی نسلِ انسانی بھی جیسے چونک اٹھی ہے اور سمجھ رہی ہے کہ دہشت پسند بندے اور گروہ کسی ایک نسل، علاقہ یا نظریہ کی دین کسی طورنہیں۔ یہ مرض تو کسی بھی رنگ یا نسل یا نظریہ کے کچھ نہ کچھ لوگوں میں خطرناک حدوں تک اُبھر سکتا ہے۔ قصہ مختصر، کرائسٹ چرچ کی مسجد میں بہنے والے مسلمانوں کے خون سے وہ پریشان کُن داغ ایکبار تو دُھل سا گیا ہے کہ انتہا پرست صرف اسلامی گھرانوں میں پروان چڑھتے ہیں۔ گویا کیسے شَر سے پھر کیسے خیر کی اُمید بندھی ہے!

مزید :

رائے -کالم -