سپر ہیروز موجود ہیں

سپر ہیروز موجود ہیں
سپر ہیروز موجود ہیں

  

بچپن میں سپر ہیروز کی کہانیاں،فلمیں یا کارٹونز تو سب نےہی دیکھے ہیں جن میں دنیا پر کوئی بری طاقت قبضہ کرتی ہے یا کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیئے کوئی سپر ہیرو آتا ہے اور ان بری طاقتوں سے لڑ کر پوری دنیا کو بچاتا ہے۔

آج کل پری دنیا کو کرونا جیسے برے ولن کا سامنا ہے اور اس سے لڑنے کے لیئے جو سپر ہیروز موجود ہیں وہ سفید کوٹ پہنتے ہیں۔

چین مین کرونا وائرس کی وبا پھوٹی تو ساری دنیا میں افراتفری پھیل گئی۔ چین کا صوبہ ووہان کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ تھا، جہاں پر چین کے مقامی طبی عملے کو رضاکارانہ طور پر طلب کیا گیا،اس بیماری سے لڑںے والے طبی عملے کے لیے  یہ ایک خود کش مشن تھا۔ چین میں پورے ملک سے سینکٹروں کی تعداد میں طبی عملے کے ماہرین نے اپنی خدمات پیش کیں،جن میں ایک پاکستانی  ڈاکٹر عثمان جنجوعہ بھی شامل تھے جنہوں  نے رضاکارانہ طور پر چین میں کرونا وائرس جیسی جان لیوا بیماری کے خلاف اپنی خدمات پیش کیں۔ ڈاکٹر عثمان جنجوعہ  چین میں کورونا وائرس کے خلاف لڑنے والے پہلے بین الاقوامی ڈاکٹر ہیں۔چین میں جہاں انہیں ہیرو کا درجہ ملا وہیں پاکستانیوں کے سر بھی فخر سے بلند ہوئے ہیں۔

ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی بڑا کام نہیں کیا ہے۔ بحثیت ڈاکٹر یہ مجھ پر لازم تھا کہ میں اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے جو کچھ کرسکتا ہوں وہ کروں۔ اس موقع پر ایک قدم پیچھے ہٹنا بھی بزدلی ہوتی اور میرا ضمیر یہ برداشت نہیں کر سکتا۔

خیر پوری دنیا کی طرح اب اس بیماری نے پاکستان کا بھی رخ اختیار کر لیا ہے۔ اب تک پاکستان میں کرونا سے متاثرمریضوں کی تعداد 292 ہو چکی ہے۔ اس وائرس سے تقریبا ہر شعبہ متاثر ہوا ہے۔ سکول،کالج،یونیورسٹٰٓیاں،دفاترحتیٰ کہ عالمی معشیت تک اس وبا کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے مگر ایک شعبہ ایسا بھی ہے جو دن رات ایک کر کے ہماری خدمت کر رہا ہے۔جو نا تو ہماری چھینک سے خوفزدہ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ ہم سے ایک مقررکردہ فاصلے پر رہ کر ہم سے بات کرتا ہے۔ میں بات کر رہی ہوں ہمارے مسیحاوئوں کی ۔۔ ڈاکٹرز کی۔

ڈاکٹرز کبھی ہڑتال کر دیں تو کہا جاتا ہے مسیحا ہی جان کے دشمن بن گئے مگر کیا کبھی کسی نے یہ سوچا کہ ان ڈاکٹرز کی مسیحائی کون کرے گا؟ چین جیسے بڑے آبادی والے ملک میں کرونا جیسی بیماریوں کی روک تھام اور اس سے بچائو کے لیئے بے شمار وسائل ہیں۔ اس بیماری کی شدت اور خطرے کے پیش نظرچین میں اس سے نمٹنے کے لئے چھ  دن میں ایک ہزار بستروں پر مشتمل جدید ترین ہسپتال مریضوں کے لیئے کھول دیا گیا اور ایک ہی ہفتے کے اندر ہزاروں افراد پر مشتمل میڈیکل سٹاف تیعنات کر دیا گیا مگر ہم ابھی تک اتنا عرصہ گزرنے کے باجود اپنے شہروں کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتالوں میں اس وائرس کے ٹیسٹ کی سہولت بھی مکمل طور پر دینے میں ناکام ہیں۔ کیا ہم اس طرح کی کسی ایمرجنسی کے لیئے تیار ہیں؟

مسافروں کی اسکریننگ کا جو سلسلہ جاری ہے وہ بھی ناکافی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں چالیس سے پچاس فیصد تک ادویات ناقص اورغیرمعیاری ہیں۔ پاکستان میں صحت عامہ کے شعبہ کو ویسے ہی بہت چیلنجز کا سامنا ہے جن میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی سیکیورٹی سرفہرست ہے۔

دنیا بھر میں سب سے عاجز اور سب سے زیادہ برداشت کرنے والا طبقہ ڈاکٹرز کا ہے،یہ وہ طبقہ ہے جس میں معاشرے کے سب سے زیادہ ہونہار نوجوان ہیں جنہوں نے اپنی تعلیم،محنت اور قابلیت سے اپنا مقام حاصل کیا ہے۔دنیا بھر کے کسی شعبے میں ایسا نہیں ہوتا جہاں کوئی شخص دن میں سو سے زائد مریضوں کا علاج کرے۔ایسا صرف ایک ڈاکٹر کرسکتا ہے۔ایک سرکاری ہسپتال میں ایک دن میں ہزاروں مریض علاج کے لیئے آتے ہیں ان میں نشئی،چرسی اورغنڈے بھی شامل ہیں اور جن کو یہ ڈاکٹر خندہ پیشانی کے ساتھ دیکھتے ہیں اور ان کا علاج کرتے ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ  پاکستان میں سب سے زیادہ جان کا خطرہ بھی انہی ڈاکٹرز کو رہتا ہے جو ہزاروں لوگوں کی جانیں بچاتے ہیں۔

دنیا بھر میں ڈاکٹر اور مریض کے درمیان رشتہ انتہائی حساس تصور کیا جاتا ہے جس میں اعتماد اور رازداری کا عنصر نہایت اہم ہے۔ جہاں ڈاکٹرز کی اپنے مریضوں کی جانب کچھ ذمہ داریاں ہیں وہیں مریضوں کا بھی فرض ہے کہ وہ ڈاکٹر اور عملے کے ساتھ تعاون کریں۔گزشتہ روز مجھے زکام کی

شکائت ہوئی تو میں اپنی تسلی کے لیئے سروسز ہسپتال چلی گئی کہ کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرا لوں، جب پرچی بنوانے کے لیئے کاوئنٹر پر پہنچی تو ایک ہجوم دیکھا جو کائونٹر پر موجود شخص سے کافی تلخ کلامی کر رہا تھا،معلوم ہوا کہ سروسز ہسپتال میں ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں تھی مگر آئسولیشن وارڈ قائم کر دیا گیا تھا۔ بس اسی بات پر آئے ہوئے مریض کے ساتھی  بیچارے کاؤئنٹر پر کھڑے شخص کو دنیا کے سامنے رسوا کر رہے تھے۔اب اگر ہسپتال میں ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں تو اس میں عملے کا کیا قصور ہے؟وہ غریب تو وہاں بیٹھا عوام کی رہنمائی کر رہا ہے۔

پاکستان کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں ڈاکٹرز کو خود اپنی جان کے خطرات لاحق رہے ہیں، ہمارے ہاں مقامی سطح پر ہسپتالوں کے اندر توڑ پھوڑ یا ہسپتالوں میں گھس کر کسی مخالف کو قتل کردینے کے واقعات تو آئے روز رونما ہوتے رہتے ہیں ۔

 چودہ اکتوبر 2016 میں بینظیر ہسپتال میں دو گروپوں کے درمیان فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں ایک خاتون جابحق جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔

10 مارچ 2019 کو ملتان میں نشتر ہسپتال کے کینسر وارڈ کے انچارج ڈاکٹر اعجاز مسعود پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، نا معلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی۔ مبینہ حملہ آور نے فائرنگ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر ڈال دی۔

11 دسمبر 2019 کا دن تو سب کو ہی یاد ہوگا جب ہمارے ملک کے قانون کے رکھوالوں نے لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی پر کسی دشمن فوج کی طرح حملہ کرتے ہوئے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف اور مریضوں پر جان لیوا حملہ کیا تھا۔

 یہ تو کچھ ایسے واقعات ہیں جو خبروں کی زینت بنے مگر بعض کیسیز ایسے بھی دیکھنے کو ملے ہیں جس میں زچگی کے دوران ہسپتال میں بستر نا ملنے کے سبب،یا آئی سی یو میں وینٹی لیٹرنا ملنے پر یا کوئی دوائی میسر نہ ہونے کی وجہ سے کسی مریض کی وفات کا ذمہ دار ڈاکٹر کو بنا کر اس ڈاکٹر یا ہسپتال پر لواحقین حملہ کر دیتے ہیں اور یہ بہت عام بات ہے کیونکہ اس طرح کے کیسز کی کوئی چھان بین بھی نہیں ہوتی۔ اور ہمارا میڈیا ٹٰی آر پی یا ریٹینگ کے چکروں میں سارا ملبہ ہسپتال اور انتظامیہ پر ڈال دیتا ہے مگر یہ نہیں بتاتا کہ ہسپتال میں بستریا دوائی کے میسر نہ ہونے میں کسی ڈاکٹر کا کوئی ہاتھ نہیں ہوتا بلکہ یہ حکومت کی نا اہلی ہوتی ہے۔ جنیوا کنونشن کے تحت ہسپتالوں پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ماضی میں متعدد مواقع پر ہسپتالوں پر حملوں کے ذمہ داروں کو عالمی عدالت انصاف کا سامنا بھی کرنا پڑچکا ہے مگر پاکستان میں سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں پر تشدد کے حملے ہونا معمولی بات ہے۔

ہر دور حکومت میں حکمرانوں نے شعبہ صحت کی بدحالی کا رونا روتے ہوئے اس کی بحالی کے لئے انقلابی اقدامات اٹھانے کے دعوے کئے لیکن حقائق ہمیشہ اس کے برعکس رہے۔ حکمران شعبہ صحت کی بحالی میں کس قدر سنجیدہ ہیں، اس کا ایک اندازہ ہیلتھ بجٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد گویا کہ صحت کا شعبہ براہ راست صوبوں کے ماتحت آ چکا ہے، تاہم وفاقی حکومت کے تحت صحت کے حوالے سے تاحال مختلف ہیلتھ پروگرامز چل رہے ہیں۔

پی ایم ڈی سی کے مطابق پاکستان میں اس وقت جنرل فیزیشینز کی تعداد ساٹھ ہزار ہے جبکہ ضرورت چھ لاکھ ڈاکٹروں کی ہے۔ہسپتالوں میں بیڈز پر دو دو مریض لٹائے جاتے ہیں ،بعض لوگوں کو فرش پر ہی لٹادیا جاتا ہے یہ ساری صورتحال غربت کی وجہ سے ہے کیونکہ نجی ہسپتالوں میں علاج انتہائی مہنگا ہے اور دوسرے پاکستان میں ادویات ہندوستان کی نسبت چار گنا زیادہ مہنگی ہیں۔

 آخر میں یہ کہوں گی کہ اگلی دفعہ مفت علاج و ادویات نہ ملنے اور فیسوں کی وصولی ہونے پر ہسپتال عملے پہ برسنے کی بجائے حکمران وقت پر چڑھ  دوڑیں یا اپنی بری قسمت کو کوسیں کیونکہ ہسپتال کے مالی معاملات چلانا حکومت کی زمہ داری ہے نا کہ کسی ڈاکٹر یا ہسپتال عملے کی۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -