مولانا ناصر مدنی پر حملہ!

مولانا ناصر مدنی پر حملہ!

  

کرونا کی وبا نے پورے ملک کو متاثر کیا تو اس کے بارے میں مثبت اور منفی آرا بھی سامنے آ رہی ہیں۔ علامہ ناصر مدنی ایک ایسی شخصیت ہیں، جو ٹک ٹاک کے ذریعے تنقیدی رویہ اپنا لیتے ہیں۔ان کی طرف سے کورونا وائرس کے حوالے سے بھی تنقید کی گئی اور ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ گزشتہ روز علامہ ناصر مدنی لاہور پریس کلب آئے، ان کے ساتھ ان کے وکیل بھی تھے۔ مولانا نے بتایا کہ ان کی طرف سے ٹک ٹاک کے ذریعے کرونا پر تنقید وائرل ہوئی تو بعض افراد نے ویٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کیا اور ایک دُعائیہ تقریب کے لئے کھاریاں مدعو کیا۔ وہ وہاں پہنچے تو دُعا کرانے کی بجائے ان کی مرمت شروع کر دی گئی۔ الزام لگایا گیا ہے کہ مولانا کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی گھنٹے حبس بے جا میں رکھنے کے بعد چھوڑا گیا۔مولانا نے پولیس میں رپورٹ درج کرا دی ہے۔اس نوعیت کے اغوا،حبس بے جا اور تشدد کا معاملہ انتہائی افسوسناک ہے،جانی نقصان کی دھمکیاں اور مار پیٹ کے ذریعے تنقید سے روکنا کوئی مناسب اقدام نہیں ہے، ملک میں قانون موجود ہیں۔عدلیہ بھی انصاف مہیا کر رہی ہے،اس کے باوجود کسی کو غیر قانونی طور پر اغوا کر کے تشدد بہت ہی افسوسناک ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض حضرات کے نزدیک تنقید کا جواب مثبت انداز یا قانونی ذرائع سے دینا چاہئے، تشدد ہر صورت قابل ِ مذمت ہے۔ اگر مولانا ناصر مدنی کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا سکتا ہے تو کسی کو بھی اِس طرح ظلم کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔حکومت کو اِس واقعہ کی تفتیش کرا کے ملزموں کو گرفتار کرنا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -