کرونا پھیل گیا،اللہ رحم کرے، مایوس تو نہ کریں

کرونا پھیل گیا،اللہ رحم کرے، مایوس تو نہ کریں
کرونا پھیل گیا،اللہ رحم کرے، مایوس تو نہ کریں

  

ذہن یکسو نہیں ہو پا رہا، اردگرد بیسیوں مسائل بکھرے پڑے ہیں، کس کس کے حوالے سے بات کریں۔اِن دنوں تو کرونا وائرس سر پر سوار ہو کر رہ گیا، کہا جاتا ہے کہ گھبرائیں نہیں، احتیاط کریں، لیکن جس انداز سے ہمارے ملک میں واقعات رونما ہو رہے ہیں اور اچھائی کی خاطر سہی، جو پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، اس نے تو بھلے سے بھلے بندے کو لرزا دیا ہے،حالانکہ ہم تم وہ لوگ ہیں جو یہاں سے زیارتوں کے لئے گئے اپنے ایمان کو پختہ جان کر زیارتیں،لیکن واپسی پر صبر کا مظاہرہ نہیں کر سکے اور یہ ہمارا پاکستان جو محفوظ چلا جا رہا تھا یکایک ہی اس وباء کے چکر میں اُلجھ کر رہ گیا ہے اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ کاروبارِ زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔سندھ میں تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد زیادہ ہوئی تو وہاں اقدامات بھی زیادہ سخت کر دیئے گئے، حتیٰ کہ ہمارے میڈیا نے ”سندھ میں لاک ڈاؤن“ شہ سرخی جما دی اور درست بھی ہے کہ تعلیمی ادارے بند تھے تو اب ریسٹورنٹ اور مارکیٹیں بھی بند کر دی گئی ہیں، مقصد یہ ہے کہ کرونا زیادہ نہ پھیل پائے اور جو تصدیق شدہ یا مشتبہ کیس ہیں انہی سے نمٹا جائے،لیکن یہاں بھی مسئلہ مختلف ہے کہ ایسا ایران سے آنے والے زائرین کے باعث ہوا، جن کو سکریننگ کے لئے تفتان کے کیمپ میں رکھا گیا،لیکن ان حضرات نے اسے اپنی آزادی پر پابندی جانا اور ان میں سے سینکڑوں کسی سکریننگ کے بغیر ہی سکھر اور ڈیرہ غازی خان اپنے اپنے آبائی علاقوں میں پہنچ گئے، سکھر والوں اور ڈی جی خان والوں میں سے جو لوگ میسر آئے ان کی تو سکریننگ کی گئی اور ان میں سے آدھے سے زیادہ افراد کا ٹیسٹ مثبت آ گیا۔ یہ خطرناک صورت ِحال ہے اور اسی سے نبرد آزما ہونے کے لئے ”لاک ڈاؤن“ جیسی صورت بن گئی۔

اس سلسلے میں سندھ حکومت نے جو انتظامات کئے ان سے مطمئن یا غیر مطمئن ہوئے بغیر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک بات بہت اچھی ہے، جس کے مطابق متاثرہ یا مشکوک افراد کو قرنطینہ یا ہسپتال میں زیر علاج رکھا جائے گا تو ان کے اہل خانہ کو راشن بھی دیا جائے گا، اس کے ساتھ دوسرا فیصلہ اس سے بھی اہم ہے کہ حکومت سندھ کے دیہات میں صابن بھی تقسیم کرے گی کہ سٹر لائیزر ان عوام کے بس میں نہیں تو وہ صابن استعمال کر سکیں گے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت ہی کو یہ اہتمام کرنا ہو گا کہ یہ تقسیم درست اور منصفانہ ہو اور حق بحق دار رسید کے مطابق صحیح اورضرورت مند حضرات و افراد تک یہ امداد پہنچ جائے اور شکایات نہ ہوں، کیونکہ ماضی کے تجربات کچھ اچھے نہیں ہیں کہ یہاں تو بے نظیر انکم سپورٹس پروگرام کے ہزار دو ہزار کے لئے بھی بددیانتی کی گئی، اس کے علاوہ جو دوسری بے احتیاطی ہوئی وہ یہ بھی کہ تفتان کی سرحد پر سکریننگ کے عمل کے لئے جو کیمپ بنائے گئے ان میں لوگوں کے میل جول پر کوئی پابندی نہیں تھی،حالانکہ متاثرین کی تلاش کے لئے بھی یہ لازم تھا کہ یہ سب ایک دوسرے سے الگ ہوتے اور سکریننگ کا عمل تیزی سے مکمل کیا جاتا، بلوچستان حکومت کے اس شکوے کو بھی خیال میں رکھیں کہ ان کے پاس آلات و اسباب کی شدید کمی ہے، لہٰذا یہ ضروری ہو گیا ہے کہ اب بھی درست اقدامات کئے جائیں کہ مزید پھیلاؤ روکا جا سکے۔ ضروری امر یہ بھی ہے کہ جو لوگ تفتان سے نکل چکے ان سے رضا کارانہ طور پر بھی واپسی کی درخواست کی جائے، نہ معلوم اب تک یہ حضرات متاثرین کی تعداد میں کتنا اضافہ کر چکے ہوں گے۔

اگر ہم اپنے پنجاب حتیٰ کہ لاہور ہی کی صورتِ حال کا اندازہ لگائیں تو یہاں کل تک اللہ توکل کا ذکر کیا جا رہا تھا، کسی کو کوئی فکر نہیں تھی، تاہم اب آگاہی مہم کے بعد لوگوں نے صابن سے ہاتھ دھونے اور زیادہ سے زیادہ گھروں میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم سودا سلف کی خریداری کے لئے تو باہر آتے ہی ہیں،ہم نے مشاہدہ کیا کہ ٹریفک تو تعلیمی اداروں کی بندش کے باعث کم ہے تاہم لوگ احتیاط بھی کر رہے ہیں، حتیٰ کہ سیر صبح والوں کی تعداد بھی کافی کم ہوئی ہے۔اب ذرا غور کریں تو آپ کو یہ پتہ چلے گا کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں اکثریت ایسے حضرات اور خاندانوں کی ہے جو کوئی احتیاط نہیں کرتے یا پھر ان کی استطاعت نہیں ہے کہ وہ سٹرلائیزر خرید سکیں۔ یہاں بھی ہاتھ دھونے والے صابن سے کام چل سکتا ہے،لیکن یہ سب ان گھرانوں کو مہیا کرنا پڑے گا جو استطاعت نہیں رکھتے اور یہاں بھی تقسیم میں بہت احتیاط کرنا ہو گی۔

اس حوالے سے ہم ذرا اپنے ایک کالم کی وضاحت کرنے پر مجبور ہیں۔ سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہے، کئی قسم کی سازشی تھیوریوں کو ”طشت ازبام“ کیا جا رہا ہے،دور دور کی کوڑھیاں لائی جا رہی ہیں، ہم اس حوالے سے ہمیشہ محتاط رہے اور سوشل میڈیا سے مستفید بھی نہیں ہوئے،لیکن برطانیہ میں مقیم ہمارے عزیز نے جب یونیسیف کی ایک رپورٹ ہمیں ارسال کی تو ہم متاثر ہوئے بناء نہ رہ سکے اور اس کی بنیاد پر کالم میں بھی ذکر کیا کہ گرمی آ رہی ہے، درجہ حرارت بڑھا تو کرونا وائرس مرجائے گا کہ یہ26،27 سینٹی گریڈ ہی میں جہاں سے گذر جاتا ہے، لیکن ہماری یہ خوش فہمی ایک محترم ڈاکٹر فرخ نے ہی دور کر دی۔ان کا ریکارڈڈ پیغام ملا، جس میں انہوں نے بتایا کہ یہ رپورٹ درست نہیں، یہ پہلے پہل کمبوڈیا سے چلی اور پھر ترجمہ ہوتے ہوتے تمام ممالک میں پھیل گئی اور اب بھی چل رہی ہے۔اگرچہ یونیسیف نے بروقت اس کے بارے میں وضاحت کر کے تردید کر دی تھی، اس کے باوجود یہ چلی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر فرخ کا موقف ہے کہ درجہ حرارت سے وائرس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ پھیلتا ہے تو دوسرے وائرس کی طرح اپنی مدت پوری کر کے ہی ختم ہوتا ہے،اِس لئے اس کا خاتمہ احتیاط ہی سے ممکن ہے اور یہ ازبس ضروری ہے۔انہوں نے تو علاج اور سکریننگ کے انتظامات پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اپنی طرف سے بہت معقول مشورے بھی دیئے ہیں، ہم ہمیشہ محتاط رہے تاہم یہ رپورٹ ان ذرائع سے آئی جو خود احتیاط کرتے ہیں اور اسی بناء پر ہم نے کالم میں بھی ذکر کر دیا۔اگرچہ صورت حال مختلف ہے۔

بات مکمل کرنے سے قبل ہم اپنے محترم کپتان کی قوم سے خطاب والی تقریر کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔شاید انہوں نے پہلی بار ایک ہی موضوع پر اپنی طرف سے مختصر تقریر کی،اس میں انہوں نے گھبرانے یسے منع تو کیا ہے،لیکن خود اپنے خطاب میں مایوس کر دیا کہ پاکستان کے پاس وسائل اور ذرائع نہیں ہیں کہ اس وباء پر قابو پایا جا سکے،اِس لئے لوگ گھبرائیں نہ، مقابلہ کریں اور یہ سب احتیاط سے ہو سکتا ہے، اب ہم تو کوئی تبصرہ نہیں کرتے۔ تاہم لوگ کیا کہتے ہیں، یہ ان کو خود معلوم کرنا چاہئے۔

ذرا سن تو سہی جہاں میں تیرا افسانہ ہے کیا؟

مزید :

رائے -کالم -