کرونا اور حکومت

کرونا اور حکومت
کرونا اور حکومت

  

حزبِ اختلاف خواہ کسی بھی ملک کی ہو، حکومتی اقدامات سے کبھی مطمئن نہیں ہوتی۔ جمہوری ممالک میں ایک وقت کی حزبِ اختلاف دوسرے وقت کی حکومت ہوتی ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں تو گزشتہ ایک ڈیڑھ صدی سے دو ہی جماعتیں ہیں، لیکن اب پاکستان میں بھی سیاسی جماعتیں مضبوط ہو رہی ہیں۔گذشتہ تین دہائیوں سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) مختلف اوقات میں حکومتیں بناتی رہیں،ایک دوسرے کو رِنگ سے باہر بھی پھینکتی رہیں اور کبھی کبھار قریب بھی آتی ر ہیں۔ گذشتہ دس برس سے ملک میں ایک تیسری سیاسی قوت بھی بار بار ابھرتی رہی، ناکام ہوتی رہی اور آخر کار دونوں بڑی جماعتوں کو پچھاڑ کر حکومت پر قابض ہو گئی۔ عمران خان نے کرپشن کے خلاف مہم کا آغاز کیا، جو ابھی جاری ہے۔ اب سیاسی خانوادوں کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی احتساب کی زد میں ہے۔اس تیزی سے ابھرتے ہوئے منظر میں کرونا وائرس نے دُنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ نامراد وائرس چین سے پھوٹا اور چین کی سرحدوں کو عبور کرتا ہوا پوری دُنیا میں پھیل چکا ہے۔ یورپ میں اٹلی اور سپین کو تو اس نے نڈھال کر دیا ہے۔ حکمران اور فوجی سربراہان بھی اس کی زد میں آ چکے ہیں، امریکہ کے صدر نے بھی اپنا ٹیسٹ کروا لیا ہے، برطانیہ کی ملکہ نے بکنگھم محل چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔دُنیا کی فضائی کمپنیاں اپنے جہازوں کو ہوائی اڈوں پر ”لاک ڈاؤن“ کرنے پر مجبور کر دی گئی ہیں۔ وائرس کا خوف اس حد تک بڑھا ہے کہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے نریندر مودی نے بھی سارک کانفرنس کو وائرس کی روک تھام کے لئے درخواست کرتے ہوئے پاکستان کو شرکت پر آمادہ کرنے کی ضرورت پرزور دیا ہے۔

اس سے قبل اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس کو مودی حکومت سبوتاژ کر چکی ہے۔ بھارت اگر سارک کانفرنس کی اہمیت کو نظر انداز نہ کرتا تو سارک کانفرنس اس خطے کے ممالک کے عوام کی غربت ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی تھی،لیکن بھارت سارک ممالک کو اپنی منڈی کی حیثیت دینا چاہتا ہے،جبکہ پاکستان اور دیگر ممالک سارک کو مساوی اور باہمی خوشحالی کے لئے وقف رکھنا چاہتے ہیں۔بہرحال اب کرونا وائرس نے سارک کانفرنس کی راہ بھی ہموار کر دی ہے۔اس پس منظر میں اگر پاکستان کی موجودہ حکومت کے اقدامات کو دیکھا جائے تو پاکستان میں ابھی صورتِ حال اطمینان بخش قرار دی جا سکتی ہے۔پاکستان کی حکومت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ہنگامی اور موثر اقدامات کئے ہیں،سکولوں، شادی ہالوں اور عوامی اجتماعات پر پابندی کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے ہسپتالوں میں خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔پاکستان میں چونکہ مقامی طور پر وائرس کی کوئی اطلاع نہیں ملی،جو مریض سامنے آئے، وہ سب کے سب غیر ممالک کے سفر سے لوٹے تھے۔اس نئے وائرس کے ٹیسٹ کی سہولت پاکستان کی ایک آدھ لیبارٹری میں بھی موجود تھی،لیکن اب ٹیسٹ کی سہولت فراہم ہو گی…… لاہور میں کڈنی ٹرانس پلانٹ انسٹیٹیوٹ کے تین فلور کرونا وائرس کے مریضوں کے لئے مختص کر دیئے گئے ہیں۔

لاہو میں پہلا مریض لندن سے آیا ہے۔ اگرچہ پورے ملک میں گزشتہ ایک روز میں نئے بیس مریض سامنے آئے ہیں،لیکن ان میں سے کوئی بھی خطرناک حد میں نہیں ہے۔ سارک کانفرنس کے حوالے سے بھی حکومت پاکستان نے کشمیر میں کرونا وائرس کے پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر کشمیری عوام کے خلاف مہینوں سے جاری لاک ڈاؤن ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مودی حکومت کو دُنیا کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا، کیونکہ اب تک بھارتی حکومت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے کشمیر میں کیا اقدامات کئے ہیں؟ بھارت نے اس حوالے سے کوئی اطلاع دُنیا کو فراہم نہیں کی، لیکن سارک میں پاکستانی حکومت نے کشمیری عوام میں اس خطرے کے پھیلنے کے حوالے سے جو مطالبہ کیا ہے،وہ کشمیری عوام کے لئے پاکستان کے عوام میں موجود تشویش کا اظہار ہے۔ اس وقت پاکستان میں کرونا وائرس سے کسی موت کی اطلاع نہیں ہے اور شاید یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے۔ حکومت کو اس صورتِ حال پر کڑی نظر رکھنا ہو گی۔ اگرچہ حکومت اس سلسلے میں کافی سرگرم نظر آتی ہے،مگر مہنگائی اور اپوزیشن نے اس کے لئے مشکلات پیدا کی ہیں،لیکن جہاں تک کرونا وائرس سے نپٹنے کا معاملہ ہے، حکومت اب تک کامیاب ہی نظر آ رہی ہے۔اگرچہ چین میں اس پر کنٹرول ہوتا جا رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دُنیا میں پھیلتا جا رہا ہے۔ اب تو افریقی ممالک بھی اس کی زد میں آ گئے ہیں۔ ابھی تک براعظم آسٹریلیا محفوظ نظر آ رہا تھا، لیکن گزشتہ ہفتے صرف ایک رات میں اچانک دس افراد اس کا شکار ہوئے۔اگرچہ ان کا علاج جاری ہے،لیکن کرونا دُنیا کے ہر حصے میں پھیل رہا ہے، ہمیں مکمل احتیاط اور فوری علاج کی طرف بڑھنا ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -