جوش نہیں ہوش سے فیصلے کریں

جوش نہیں ہوش سے فیصلے کریں
جوش نہیں ہوش سے فیصلے کریں

  

اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہم نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے ہڑبڑا کر فیصلے کئے ہیں۔ دُنیا میں یہ سلسلہ تو بہت پہلے سے چل رہا تھا۔چین میں جب اس وائرس کی تصدیق ہوئی تو ہم نے بس اتنا کیا کہ طالب علموں کو وہیں روک دیا اور چین سے آنے والے مسافروں کی ہلکی پھلکی سکریننگ شروع کر دی۔ یہ بھول گئے کہ پاکستان میں داخلے کے باقی راستے بھی موجود ہیں، حتیٰ کہ جب کرونا وائرس کے مریض سامنے آنا شروع ہوئے تو ہم نے پھر بھی کوئی ایمرجنسی نہ دکھائی۔ پی ایس ایل کے میچز بھی جاری رکھے،جو پوری دُنیا میں براہِ راست دیکھے جاتے رہے۔ دُنیا حیران ہوئی کہ ایک ملک اس زمین پر ایسا بھی ہے،جہاں کسی کو کوئی پروا نہیں، سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہے۔پھر غالباً کوئی عالمی دباؤ پڑا جس نے ہمارے حکمرانوں کو خوابِ غفلت سے ہڑبڑا کر جگا دیا۔جس طرح کچی نیند سے بیدار ہونے والا شخص ٹامک ٹوئیاں مارتا ہے،اُسی طرح کے فیصلے حکومتوں نے بھی کئے۔میرج ہال بند کر دیئے،ہر قسم کے اجتماع پر پابندی لگا دی،سندھ حکومت مزید آگے گئی تو اُس نے عملاً لاک ڈاؤن کر دیا۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے جو خطاب کیا،اُس میں ایک زمینی حقیقت بہت صحیح بیان کی کہ ہم یورپ اور امریکہ کی طرح لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے، کیونکہ ہماری اکثریتی آبادی تازہ کماتی اور کھاتی ہے،اُسے گھروں میں بند کر کے جیتے جی نہیں مارا جا سکتا۔یہ بہت اہم بات ہے، زندگی چلتی رہنی چاہئے،زندگی کو اگر ہم روک دیتے ہیں تو اُس سے کئی خوفناک مسائل پیدا ہوں گے۔

ایسے فیصلوں سے گریز کی ضرورت ہے، جن سے افراتفری پھیلنے کا امکان ہو،عوام کو حوصلہ دینے کی ضرورت ہے۔ابھی تک عوام کے اندر ایسا کوئی اضطراب نہیں، جسے خطرے کی علامت سمجھا جائے، اُن میں شعور اُجاگر کرنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے، شعور اُجاگر کرنے کی بجائے اگر ہم لاک ڈاؤن کر کے انہیں گھروں میں مقید کر دیتے ہیں تو خانہ جنگی کی صورتِ حال پیدا ہو جائے گی،جو کسی بھی طرح مناسب نہیں۔ہماری سب سے بڑی غفلت یہ ہے کہ ہم نے تفتان بارڈر کے راستے ایران میں کرونا وائرس کے شکار افراد کو بغیر سکریننگ آنے دیا۔ جب پابندی لگائی تو وہ بھی نیم دلی کے ساتھ، لوگ قرنطینہ کے خیموں سے نکل کر پاکستان میں داخل ہوتے رہے۔ اب اُن افراد کا کوئی ڈیٹا ہے اور نہ اتا پتہ کہ وہ کہاں کہاں پہنچ گئے ہیں،ان کا سراغ لگانے کی کوشش ہونی چاہئے، تاہم یہ نہ کیا جائے کہ ایسی فضا پیدا ہو جائے،جس میں اشیاء نایاب ہو جائیں، ادویات اور ضروریاتِ زندگی کا سامان غائب ہو جائے۔اگرچہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اب بھی بلیک کرنے والا مافیا آٹے اور چینی کا بحران پیدا کر سکتا ہے، تاہم حکومت اس کے ساتھ سختی سے نمٹے گی،مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ حالات کو نارمل بھی رکھا جائے۔افراتفری اور بے یقینی میں تو آپ جتنا مرضی چاہیں چھاپے ماریں، گرفتاریاں اور سختیاں کریں،لیکن طلب اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اُسے پورا ہی نہیں کیا جا سکتا۔ جیسا کہ یورپ اور امریکہ میں ہوا ہے کہ بڑے بڑے سٹور خالی ہو گئے ہیں اور عوام اشیائے خورو نوش کے لئے دست و گریبان ہو رہے ہیں،ہماری تو آبادی ہی بہت زیادہ ہے، یہاں یہ صورتِ حال پیدا ہوئی تو لوگ کرونا کو بھول جائیں گے، باہمی لڑائیاں اور لوٹ مار اُن پر بازی لے جائے گی۔

مَیں سوچ رہا ہوں کہ سندھ خصوصاً کراچی میں تو ایمرجنسی نافذ کر کے بازار، شاپنگ مال، ریسٹورنٹس اور پبلک تفریحی مقامات کو بند کر دیا گیا ہے۔ انٹر سٹی ٹرانسپورٹ بھی بند کر دی گئی ہے، کیا اس فیصلے کے اثرات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے؟ مثلاً سبزی، فروٹ، کریانے اور جنرل سٹورز کی دکانوں کو تو کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے،لیکن کیا منڈیوں کو بھی کھلا رکھا جائے گا؟ وہ ٹرانسپورٹ جو اشیاء لے کر دوسرے علاقوں سے کراچی آتی ہے، وہ اگر بند ہو گئی تو کراچی میں اشیاء کی قلت پیدا ہونا معمولی بات ہے۔ ایک جنرل سٹور یا کریانے کی دکان میں کتنا سامان ہوتا ہے کہ وہ اُس طلب کو پورا کر سکے، جو حکومت کے اس فیصلے کے بعد اضطراب میں آئے ہوئے عوام میں پیدا ہو سکتی ہے۔ لامحالہ حالات انارکی کی طرف جائیں گے۔ ان پہلوؤں پر اتنی ہی سنجیدگی سے غورو فکر ہونا چاہئے،جتنی سنجیدگی سے کرونا کو روکنے پر ہو رہا ہے، کیونکہ اس میں اگر توازن نہ رکھا گیا تو کرونا تو شاید زیادہ پھیلے نہ پھیلے، ایک بڑا انتشار، ایک بڑا بحران ضرور پیدا ہو جائے گا۔دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ سندھ الگ پالیسی اپنائے ہوئے ہے، پنجاب اپنی ڈگر پر چل رہا ہے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا اپنی حکمت ِ عملی پر چل رہے ہیں، جبکہ مرکز کی اپنی ترجیحات ہیں،حالانکہ قومی سطح پر ایک مربوط پالیسی بننا چاہئے، کیونکہ کرونا اگر سندھ میں پھیلتا ہے تو سمجھو وہ پورے ملک کو متاثر کرے گا۔

سندھ کی پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے ملنے والی سرحدیں تو بند نہیں ہو سکتیں، تو اسے کیسے روکا جائے گا؟ اِس وقت حکمت ِ عملی کا اصل تقاضا یہ ہے کہ کرونا کے مریضوں کو علیحدہ رکھنے کے لئے گنجائش میں اضافہ کیا جائے۔ ٹیسٹوں کے لئے درکار سامان سٹاک وافر تعداد میں رکھا جائے، ماسک کی فراہمی کو سہل اور سستا بنایا جائے اور سب سے بڑھ کر لوگوں کو اس حوالے سے آگاہی دی جائے کہ وہ اس بلا سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟ خوف و ہراس پھیلانا مقصود نہیں ہونا چاہئے۔ الیکٹرانک میڈیا کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔مَیں جب کسی چینل پر یہ ٹکر دیکھتا ہوں کہ ”کرونا بے قابو“ ہے تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اسے لکھنے والا کون ہے، کرونا کہاں بے قابو ہوا ہے؟ابھی تو یہ مکمل کنٹرول میں ہے۔ ڈیڑھ دو سو کیسز سامنے آئے ہیں، اُن میں بھی کئی مشتبہ ہیں، باقیوں کا علاج ہو رہا ہے۔ اگر ہم یہ کہیں گے کہ کرونا بے قابو ہو گیا ہے، تو اس کے اثرات منفی ہوں گے اور عوام میں خوف پھیلے گا۔

مجھے تو وزیراعظم کی تقریر کے اُس جملے سے بھی اختلاف ہے،جس میں انہوں نے کہا ہے، سب یاد رکھیں کہ کرونا نے ابھی پھیلنا ہے، اس کی بجائے اگر وہ یہ کہتے کہ ہم سب مل کر کرونا کو پھیلنے سے روکیں گے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ایک طرف وزیراعظم کہتے ہیں کہ ہمیں کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے اور دوسری طرف وہ عوام کو ڈراتے بھی ہیں۔ یہ تو ایک کھلا تضاد ہے۔اُن کی یہ بات درست ہے کہ کرونا کے98فیصد مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں، اس نکتے کو زیادہ بیان کیا جائے۔اُن کی یہ بات بھی قابل ِ غور ہے کہ نزلہ زکام میں مبتلا ہر شخص کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرانے نہ جائے،بلکہ دوسری علامتوں کا بھی انتظار کرے۔اگر وہ ظاہر ہوں تو پھر اس کا ٹیسٹ کرایا جانا ضروری ہے۔کرونا وائرس نے دُنیا بھر میں ایک ہلچل مچا رکھی ہے، تاہم باقی قومیں متحد ہو کر اس کا مقابلہ کر رہی ہیں۔اٹلی میں جہاں اڑھائی ہزار سے زائد افراد کرونا وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ لوگ روم میں اپنے گھروں کی بالکونیوں میں کھڑے ہو کر محبت اور امید کے گیت گا رہے ہیں۔وہ اس آفت سے گذرنا چاہتے ہیں،مرنا نہیں چاہتے۔چین کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے جو اس آفت کا سب سے پہلے شکار ہوا اور آج اس کے اُس شہر میں بھی زندگی نارمل ہو چکی ہے،جہاں سے اس وائرس کا آغاز ہوا تھا۔ یہ بُری بات ہے کہ ہمارے سیاسی اکابرین اس موقع پر سیاست کر رہے ہیں۔مسلم لیگ(ن) کہہ رہی ہے کہ پنجاب میں عثمان بزدار کی جگہ شہباز شریف ہوتے تو کرونا وائرس سے بہتر طور پر نمٹتے۔ یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔ موجودہ پنجاب حکومت بھی پوری کوشش کر رہی ہے کہ اس وباء کو پھیلنے نہ دے، ان کوششوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے نا کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ۔

مزید :

رائے -کالم -