سپریم کورٹ نے راؤ انوار کیخلاف جوڈیشل کمیشن بنانے کا کیس نمٹا دیا

سپریم کورٹ نے راؤ انوار کیخلاف جوڈیشل کمیشن بنانے کا کیس نمٹا دیا

  

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے راؤ انوار کیخلاف 444 ماورائے عدالت قتل پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا کیس نمٹا دیا۔ بدھ کو دوران سماعت عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔ وکیل درخواست گزار نے کہاکہ پہلے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ جسٹس مشیر عالم نے کہاکہ کیا کوئی درخواستگزار ماورائے عدالت قتل کا براہ راست متاثرہ ہے؟۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہاکہ نقیب اللہ محسود کے والد بھی دراخواست گزار ہیں، نقیب اللہ کے قتل پر سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی۔ جسٹس مشیر عالم نے کہاکہ راؤ انوار گرفتار ہوئے، ٹرائل چل رہا ہے عدالت اب مزید کیا کرے؟ راؤ انوار پر 444 ماورائے عدالت قتل کا کیا ثبوت ہے؟ کیا درخواست گزاروں کو قتل ہونے والوں کے نام پتا ہیں؟۔ فیصل صدیقی نے کہاکہ تمام ریکارڈ سندھ پولیس کے پاس ہے عدالت نوٹس جاری کر سکتی ہے، عدالت انکوائری کرائے سب سامنے آ جائے گا، 444 قتل کی بات سندھ پولیس کی رہورٹ میں لکھی ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ کیا نقیب اللّٰہ محسود کے والد زندہ ہیں؟۔ فیصل صدیقی نے کہاکہ نقیب اللہ کے والد انتقال کر گئے، پیروی ان کے ورثاء کر رہے ہیں۔ جسٹس مشیر عالم نے کہاکہ مبینہ طور پر قتل ہونے والوں کے نام تک آپکو معلوم نہیں، مرنے والوں کا اتنا درد ہے تو نام بھی پتا ہونا چاہیے تھے۔ دلائل سننے کے بعد عدالت عظمیٰ نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ آخر -