حکومت کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی ذمہ دار، اپنا کام کیا نہیں اور ہمیں کہتے ہیں عدالتیں بند کر دیں: چیف جسٹس

حکومت کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی ذمہ دار، اپنا کام کیا نہیں اور ہمیں کہتے ہیں ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس نے ملک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی کا یہی حال رہا تو بہت سی بیماریاں ملک میں آجائیں گی،حکومت نے اپنا کام کیا نہیں اور ہمیں کہتے ہیں عدالتیں بند کردیں جبکہ عدالتیں تو حالت جنگ میں بھی بند نہیں ہوتیں۔تفصیلات کے مطابق۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پی آئی اے کے سی ای او کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وزارت قانون کے خط کا معاملہ بھی زیر بحث آیا،جس میں ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو سول کیسز کی سماعت کم از کم تین ماہ کیلئے ختم اور عدالتی کارروائی بھی کچھ عرصہ کیلئے بند کرنے تجویز دی گئی تھی، وزارت قانون کی جانب سے نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں سے آگاہ کیا گیا،خط میں چیف جسٹس کو درخواست کی گئی کہ تمام عدالتوں کو تین ہفتوں تک سول نوعیت کے مقدمات نہ سننے کی ہدایت کی جائے، ضمانت اور ریمانڈ کے کیسز میں جوڈیشل مجسٹریٹس اور سیشن عدالتوں کے ججز جیلوں کے دورے کریں، رجسٹرار کو حکومتی خط چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے رکھنے کا کہا گیا۔چیف جسٹس پاکستان نے کرونا وائرس کے باعث وزارتِ قانون کی عدالتیں بند کرنے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ ہم تو عدالتی کام کیلئے یہاں موجود ہیں، حکومت نے کرونا سے متعلق کوئی اقدام نہیں کیا اورہمیں کہہ دیا کہ عدالتی کام روک دیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کرونا وائرس بیرون ملک سے بذریعہ ائیرپورٹ آیا، یہ پی آئی اے اور حکومت کی نااہلی سے ہوا جبکہ اس وقت ہر جگہ ملک میں کرونا کی بات ہو رہی ہے اوراگر سکیورٹی کا یہی حال رہا تو بہت سی بیماریاں ملک میں آجائیں گی۔چیف جسٹس نے دورانِ سماعت مزید ریمارکس دئیے کہ کرونا وائرس پاکستان میں پیدا نہیں ہوا، ملک میں کرونا وائرس آتا رہا، کسی کو فرق نہیں پڑا، قرنطینہ میں جا کر دیکھیں کتنے ابتر حالات ہیں، کیا ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز ہے؟۔چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ارشد محمود کو بطور سی ای او پی آئی اے عبوری طور پر فرائض انجام دینے کی اجازت دے دی۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید عدالت میں پیش ہوئے اور کہا 19 فروری کا حکم پرانا ہے، ایئر مارشل ارشد ملک اچھے اور قا بل انسان ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا پی آئی اے کے بارے میں کوئی ایک چیز بتائیں جو اچھی ہو، پی آئی اے لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہا ہے، کیا اس کو بند کر دیں۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پی آئی اے پاکستان کا فخر ہے، امریکی صدر کی اہلیہ نے بھی پی آئی اے کی فلائٹ پر سفر کیا تھا، اس وقت پی آئی اے کا انتظام ایئر مارشل نور خان کے پاس تھا، موجودہ سی ای او میں میری کوئی ذاتی دلچسپی نہیں، ہم اس معاملے کو طول نہیں دینا چاہتے، چاہتا ہوں عدالت جلد اس پر فیصلہ کرے۔ جسٹس اعجاز الحسن نے کہا پائلٹ اور یونین کی کھینچا تانی سے پی آئی اے متاثر ہو رہا ہے۔

چیف جسٹس

مزید :

صفحہ اول -