کرونا وائرس اور پاکستان کی معیشت

کرونا وائرس اور پاکستان کی معیشت

  

آرٹیکل

بزنس ایڈیشن

حامد ولید

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کی صورتحال کے بارے میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتیں گے۔منگل کی شب ٹیلی ویژن خطاب میں کورونا وائرس سے متعلق اقدامات پر ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ حکومت اکیلے نہیں لڑسکتی اس میں تمام شہریوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام احتیاط کریں۔انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے معاملے پر افراتفری پیدا کرنے کی ضرورت نہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ملکی معیشت متاثر ہو گی جس کے لیے اقتصادی کمیٹی بنائی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہوائی کمپینوں سمیت متعدد صنعتوں کو کورونا وائرس سے نقصان ہوا ہے اور ہماری معیشت ویسے ہی دباؤ کا شکار تھی، پاکستان کی برآمدات پر کورونا وائرس کا اثر پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہر روز اقتصادی کمیٹی دیکھے گی کہ کون کون سے شعبے متاثر ہو رہے ہیں اور ان کی کیا مدد کرنی ہے۔وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں ذخیرہ اندوزی کے بارے میں تنبیہ کی کہ اقتصادی کمیٹی یہ بھی دیکھے گی کہ کھانے کی چیزیں مہنگی نہ ہوں، جیسے پہلے چینی اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی کی گئی تو ان کو تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ ریاست ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

کورونا وائرس کے حوالے سے آگاہی دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ تیزی سے پھیلتا ہے مگر اس کے 90 فیصد مریضوں کو صرف نزلہ اور زکام ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ وائرس سے متاثرہ صرف چار یا پانچ فیصد مریضوں کو ہسپتال جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور 97 فیصد مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ معلوم تھا کہ چین میں کورونا وائرس پھیلا ہے تو پاکستان بھی پہنچے گا، وائرس کے آغاز پر ہی مسلسل چین سے رابطے میں تھے اور ایران سے بھی مسلسل رابطے میں تھے کیوں کہ چین کے بعد پڑوسی ملک ایران میں بھی کورونا وائرس تیزی سے پھیلا۔انھوں نے کہا کہ حکومت نے کوآرڈی نیشن کمیٹی بنائی ہے جس کے 2 پہلو ہیں ایک صوبائی حکومتیں اور دوسرا این ڈی ایم اے ہے، ہم نے این ڈی ایم اے کو فعال کیا ہے اور حکومت نے وینٹی لیٹر آرڈر کر دیے ہیں۔

سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں منگل کو نئے مریض سامنے آنے کے بعد پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 237 تک پہنچ گئی ہے۔سندھ میں مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے بعد صوبائی حکومت نے صوبے میں ’لاک ڈاؤن‘ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت بدھ سے کاروباری مراکز، پارک اور ریستوران جبکہ جمعرات سے سرکاری دفاتر بند کر دیے جائیں گے۔ملک میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سندھ میں کووڈ-19 کے متاثرین کی تعداد 172 تک پہنچ گئی ہے جبکہ پنجاب میں 25 اور بلوچستان میں چھ نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت سندھ میں 170، پنجاب میں 26، بلوچستان میں 16، خیبر پختونخوا میں 16، اسلام آباد میں چار اور گلگت بلتستان میں کورونا کے تین مریض موجود ہیں۔اس طرح ملک میں کورونا وائرس سے کے زیر علاج مریضوں کی مجموعی تعداد 235 ہے جبکہ دو مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

قوم سے خطاب سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورت میں پاکستان کے پاس نہ تو اس سے نمٹنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی اس کام کے لیے وسائل موجود ہیں۔امریکی جریدے بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ کورونا غریب ممالک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہیعمران خان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ وائرس پھیلا تو ہم سب کو صحت کی سہولیات کی کمی کا سامنا ہو گا۔۔۔ ہمارے پاس اس سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں ہے، ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں۔عمران خان کے مطابق پاکستان کی 'صحت سے متعلق سہولیات کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ یہ صرف پاکستان ہی نہیں، میرے خیال میں انڈیا، خطے کے دیگر ملکوں اور افریقی ممالک میں بھی یہی صورتحال ہو گی۔انھوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ ہے وہ اس صورتحال کے پیش نظر ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں کی معافی جیسے اقدامات کے بارے میں سوچیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ’معیشت پر سست روی کے اثرات کو دیکھتے ہوئے انھیں سب سے زیادہ تشویش غربت اور بھوک پر ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر میرے خیال میں عالمی برادری کو ہمارے جیسے ممالک کے لیے قرضوں کی معافی جیسے اقدامات کے بارے میں سوچنا چاہیے، جو بہت خطرات سے دوچار ہیں۔ یہ ہمیں کم از کم اس سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔انھوں نے ایران کا خاص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 'میں ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے اُس کی وجہ سے ڈرا ہوا ہوں کیونکہ ایران پر عائد پابندیوں نے پہلے ہی اُنھیں غربت سے دوچار کر دیا ہے اور اُس کے اوپر یہ وائرس ہے۔ان کے مطابق یہ ایک واضح مثال ہونی چاہیے کہ جہاں کم از کم طور پر ایران پر عائد پابندیوں کو اٹھا لیا جانا چاہیے، کیونکہ وہاں کے لوگ یقیناً بہت برے حالات میں ہوں گے۔

چین سے شروع ہونے والے کرونا وائرس نے قریباً پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اگرچہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس مہلک وبا سے پاکستان میں 16 افراد متاثر ہوئے ہیں ان میں سے ایک صحت یاب بھی ہو گیا ہے۔ اس کے اثرات بالخصوص پاکستان کی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ، کویت، قطر، آسٹریلیا سمیت دنیا کی بڑی بڑی سٹاک مارکیٹس تیزی سے مندے کا شکار ہیں،عالمی معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان ہو چکاہے۔

ظاہر ہے کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج جس کی پہلے ہی حالت پتلی تھی پیرکو 2300 پوائنٹس گر گئی اور اس تنزلی کو روکنے کے لیے 45منٹ تک کاروبار بند کرنا پڑا۔ پیر کو صبح ہی حصص کی قیمتوں میں 5.83فیصد کمی نے تو پاکستان کی تاریخ میں ایک دن میں گرنے والی مارکیٹ کے ریکارڈ کو مات کردیا۔ اس سے پہلے سٹاک مارکیٹ فروری2009ء میں 5.1فیصد گری تھی۔ تاہم مارکیٹ دوبارہ کھلنے کے بعد حصص کی قیمتیں کچھ بہتر ہوئیں۔ اس کے ساتھ ہی ڈالر نے اڑان بھرلی ہے اور آغاز ہفتہ کو ہی 2 روپے 70 پیسے اور اس سے اگلے روز 75 پیسے مزید مہنگا ہو گیا۔

دنیا بھر میں اس مندے کی بنیادی وجہ تیل کی قیمتوں کا دھڑام سے گرجانا ہے۔ اب تک یہ تیس فیصد سے زائد گر چکی ہیں جو 1991ء کے بعد سب سے زیادہ گری ہیں۔ اوپیک پلس کے رکن کے طور پر سعودی عرب کا کہنا ہے کہ تیل کی پیداوار کم کر دی جائے لیکن روس اس سے انکاری ہے جس کے بعد خدشہ ہے کہ23ممالک پر مشتمل کارٹل کا معاہد ہ جورواں ماہ کے آخر میں اختتام پذیر ہونے والا ہے تو سعودی عرب اور روس کے درمیان تیل کی پیداوار زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے مقابلے سے بین الاقوامی قیمتیں مزید گریں گی۔

سعودی عرب پہلے ہی قیمتوں کی اس جنگ میں اپنے تیل کی قیمت 6 سے 8 ڈالر فی بیرل کم کر چکا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں گراوٹ پاکستان کے لیے اچھی خبر ہے، اس گراوٹ کو اگر گھریلو، صنعتی اور فرنس آئل سے بجلی پیدا ہونے والی بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو منتقل کیا جائے تو اس سے اکانومی کے حالات بہت بہتر ہو جائیں گے۔

سٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا ہے، اس میں شرح سود کو کم تو کیا ہے لیکن صنعتکاروں کی امیدوں پر پورا نہیں اترا ہے کیونکہ اس میں محض 75پوائنٹس کی کمی گئی ہے حالانکہ بزنس کمیونٹی 200پوائنٹس کی کمی کی توقع کر رہی تھی۔ عالمی کساد بازاری کے اس نئے دور میں غیر ملک پاکستان سٹاک ایکسچینج سے اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تغیر پذیر اقتصادی صورتحال میں موجودہ اقتصادی پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے۔

ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان کو پانچ ارب ڈالر کا فائدہ ہوگا۔ تیل کی قیمتیں گرنے کے ساتھ ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی نیچے آئینگی، اس طرح سرکلر ڈیٹ جس کی بنیاد پر آئی ایم ایف نے کنپٹی پر پستول تان رکھی ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کریں،اس میں بھی کمی ہو سکتی ہے۔ افراط زر میں کمی کے ساتھ شرح سودبھی نیچے گرنی چاہئے۔ پاکستان کیلئے یہ Bonanza ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشی معاملات درست کئے جائیں۔

کرونا وائرس کی وبا نے دنیا بھر میں خوف و ہراس کی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ اس مہلک وبا کے باعث کئی ملکوں کی معیشتوں پر بھی برے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔معاشی ماہرین کرونا وائرس کے باعث دنیا کی معیشتوں پر بدترین خطرات کی پیشن گوئیاں کر رہے ہیں۔عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی سابق سربراہ کرسٹینا لیگارڈ کے مطابق: ’بیماریاں سرحدوں اور پاسپورٹس کو نہیں جانتی اور نہ ہی ان کا لحاظ کرتی ہیں۔‘امریکی ٹی وی سی این بی سی سے گفتگو میں انہوں نے دنیا کے ملکوں کو ایسے اقدامات اٹھانے کا مشورہ دیا جن سے گھریلو ماحول، ان میں رہنے والے لوگوں اور کاروباری اداروں کو محفوظ رکھا جا سکے۔کرونا وائرس کی وبا نے دنیا بھر میں سب سے پہلے سیاحت سے منسلک شعبوں کو متاثر کیا ہے۔مختلف ممالک نے اپنی سرحدوں پر آمدورفت کی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ جبکہ دوسرے ملک بھی ایسی پابندیوں پر غور ہو رہا ہے۔کئی ہوا باز کمپنوں کے آپریشنز مختلف حکومتوں کے فیصلوں کے باعث محدود ہر کر رہ گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مختلف بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے مالی اعانت کے پیکجز کا اعلان کر دیا ہے۔ ان اداروں میں ورلڈ بنک، آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بنک (اے ڈی بی) سرفہرست ہیں۔

پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والوں اور مشکوک افراد کی تعداد باقی ممال کے مقابلے میں ابھی بہت زیادہ نہیں ہے۔ جبکہ ملک میں اس مہلک وائرس کے باعث کسی ہلاکت کی اطلاع بھی نہیں ہے۔تاہم دنیا کے مختلف ملکوں خصوصا پڑوسی ممالک میں کرونا وائرس کی وبا سے ہونے والے نقصانات کے اثرات پاکستان میں بھی نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔کرونا وائرس کی وبا پاکستان کی دوسرے ملکوں سے ہونے والی تجارت کو سب سے زیادہ متاثر کر رہی ہے۔’پاکستان کی بیرونی تجارت کا بڑا حصہ ایران، افغانستان اور یورپی ممالک سے تعلق رکھتا ہے۔ان ملکوں نے تجارت پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ جس سے پاکستان متاثر ہو رہا ہے۔ جو مستقبل میں زیادہ ہو سکتا ہے۔

اس صورت حال کی طوالت پاکستان کے لیے کافی خطرناک ہو سکتی ہے۔اگر تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں معاشی حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو وہ ترقیاتی منصوبے کم کر دیں گے۔ جس کے نتیجے میں بڑی بڑی کمپنیاں بند ہوں گی۔ اور ان کے ملازمین کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ایسی صورت میں بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی بے روزگار ہوں گے۔ اور باہر سے آنے والے زرمبادلہ میں کمی واقع ہو گی۔ جو پاکستان کی معیشت کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی معاشی ماہرین اور معاشی اداروں کے خیال میں پاکستان کی معیشت بھی کرونا وائرس کی وبا سے متاثر ہوئے بغیر نہیں 

 رہ سکے گی۔ایشیائی ترقیاتی بنک (اے ڈی بی) کی ایک حالیہ رپورٹ نے پاکستان کو کرونا وائرس کی وبا سیکم متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے۔تاہم رپورٹ کے مطابق: ’بدترین صورت حال میں پاکستان  کی معیشت کو کرونا وائرس کی وبا سے پانچ بلین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔‘رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جن شعبوں کو زیادہ نقصان پہنچنے کا احتمال ہے ان میں زراعت، کان کنی، ہوٹلز اور ریستوران، تجارت، ذاتی اور عوامی سروسز، کاروبار اور تجارت، ہلکی اور بھاری مینوفیکچرنگ اور ٹرانسپورٹ شامل ہیں۔اے ڈی بی کے علاوہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک ٹیم نے بھی پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران کرونا وائرس کی وبا سے پاکستان کی معیشت کو متاثر ہونے سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے جو صورت حال پیدا ہوئی اس سے پاکستان کو فی الحال فائدہ ہو سکتا ہے۔’دنیا کے اکثر ملکوں کی معیشتیں کمزور ہوئی ہیں۔ اور ان میں تیل پیدا کرنے والے ملک بھی شامل ہیں۔ جس کی وجہ سے تیل کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں۔ اور مزید کمی بھی خارج از امکان نہیں ہے۔پاکستان کے لیے فائدے کی بات ہے۔ اور اس سے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات پڑ سکتے ہیں۔

سستا تیل خریدنے سے پاکستان کا خرچہ کم ہو گا اور یوں ادائیگیوں کا توازن (بیلنس آف پیمنٹس) بہتر ہو جائے گا۔ جبکہ بیرونی اکاؤنٹس کے خسارے میں کمی واقع ہو گی۔

اگر حکومت پاکستان تیل کی قیمتوں میں کمی کو عوام تک منتقل کر دے تو اس سے ملک میں افراط زر میں کمی لائی جا سکتی ہے۔اور سٹیٹ بنک آف پاکستان سود کی شرح میں بھی کمی کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ جس سے کاروبار بڑھے گا۔کرونا وائرس کی وبا سے پیدا ہونے والے حالات طویل ہونے کی صورت میں پاکستانی معیشت پر برے اثرات پڑیں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -