سمگلنگ ایک ناسور!

سمگلنگ ایک ناسور!

  

ضیاء الحق سرحدی

ziaulhaqsarhadi@gmail.com

وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے 72سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ افسوس کہ ان 72 سالوں میں ہم ملکی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار نہیں کر سکے اس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے ایک اہم وجہ سمگلنگ بھی ہے جس پر قا بو پا نے کے لئے ماضی میں یکے بعد دیگرے آنے والی کسی بھی حکومت نے سنجیدہ اورٹھوس اقدامات نہیں کئے حالانکہ سمگلنگ وہ نا سور ہے جو ایک طرف تو ملک کو کروڑوں روپے کی آمدنی سے محروم کر تی ہے تو دوسری طرف ملکی صنعتوں کو تباہ کر دیتی ہے۔ پاکستان اس کی بد ترین مثال ہے جہاں چین، ایران، کوریا، تائیوان، فرانس، امریکہ، روس اور بھارت کی بنی ہوئی مصنوعات آپ باآسانی ملک کے طول و عرض میں موجود باڑہ مارکیٹوں سے خرید سکتے ہیں جس کی وجہ سے ملکی تیار شدہ اشیاء مہنگی اور سمگل شدہ غیر ملکی اشیاء سستے داموں فروخت ہو رہی ہیں جوملکی صنعتکاروں کے لئے بڑی پریشانی کا باعث ہیں۔ سمگلنگ پاکستان کی تجارت اور معیشت پر قیام پاکستان سے اب تک چھائی ہوئی ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے اس مسئلے کو حل کر نے کے لئے کئی طریقے استعمال کئے لیکن سیاسی عزم کے فقدان کے باعث مثبت نتائج حاصل نہ کئے جا سکے۔پاکستان اپنے محل و قوع کے لحاظ سے ایسے خطے میں واقع ہے جہاں سمگلنگ اس کے چاروں طرف سے اشیاء کی سمگلنگ کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ پاکستان میں افغانستان اور ایران کے راستے بڑے پیمانے پر سمگلنگ کی جاتی ہے تو دوسری جانب بھارت سے بھی بڑے پیمانے پر اشیاء غیر قانونی طور پر درآمد و برآمد کی جاتی ہیں، اس کے علاوہ وسیع سمندری سرحد بھی سمگلروں کی جنت سمجھی جاتی ہے اور اس بحری راستے کے ذریعے بھی چھوٹی کشتیوں کے علاوہ بڑے بحری جہازوں کے ذریعے سمگلنگ کا سامان پہنچایا جاتا ہے۔سگریٹ، ٹائر، پٹرول و ڈیزل، آٹو پارٹس،اور دیگر کئی اشیاء کی پاکستان میں بڑے پیمانے پر سمگلنگ کا سلسلہ پورے زور شور سے جاری ہے، اس کے علاوہ

مختلف اشیاء کو انڈر انوائسنگ کے ذریعے درآمد کیا جا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کی وجہ سے قومی خزانے کر ہر سال 50ارب روپے کی خطیر رقم کا نقصان اٹھانا پڑرہاہے۔ ہمارے ہاں اس مقصد کے لئے دو درجن سے زائد سرکاری ایجنسیاں کام کر رہی ہیں جن کا آپس میں بھی کوئی قریبی یا گہرا رابطہ نہیں۔ وزارت داخلہ میں ایک انسداد سمگلنگ رابطہ کمیٹی (Anti Smuggling Coordination Committee) قائم ہے بنیادی طور پر اس کمیٹی کی ذمہ داری ہونی چاہئے کہ سمگلنگ کا انسداد کرے اور سمگلنگ کے خلاف مصروف عمل تمام سرکاری ایجنسیوں کی سرگرمیوں میں رابطے کا کام دے۔ سمگلنگ کے انسداد کے لئے آپریشنز کرنے والی ٹیموں کو زمینی، سرحدوں ساحل سمندر بندرگاہوں ہوائی اڈوں اور خشکی کے تمام داخلی راستوں پر خاصا مضبوط بنا نا چاہئے۔ بین الاقوامی سرحدوں کے غیر روایتی راستوں پر افراد متعین ہو نے چاہئیں تجارتی بنیادوں پر اشیاء کی غیر قانونی درآمد کو روکنے کے لئے بندر گاہوں، ہوائی اڈوں اہم ناکوں اور پلوں پر ایکسرے کر نے والی سکیننگ مشینیں نصب کی جانی چاہئے۔جبکہ سمگلنگ سرحدی مقامات کے علاوہ لانچوں، پاکستان کے مختلف انٹر نیشنل ایئر پورٹس کے ذریعہ بحری اور ہوائی راستہ سے بھی ہو رہی ہے ایک اندازے کے مطابق صرف بھارت سے 60 سے 100 ارب روپے کا سامان پاکستان میں غیر قانونی طریقے سے آتا ہے چین سے آنے والے غیرقانونی سامان کی مالیت کا اندازہ اڑھائی سے تین کھرب روپے لگا یا گیا ہے۔سمگلنگ کے نتیجے میں ملکی انڈسٹری شدید دباؤکاشکار ہے ان اشیاء میں نٹ ویئر، الیکٹرانکس، کمپیو ٹر، سٹیشنری، سنیٹری، آٹو پارٹس،ٹائر اینڈ ٹیوب، موٹر سائیکل، مصنوعی پھول،کراکری، فرنیچر، کمبل،کلاک، ٹیکسٹائل، ہوزری، ٹیلی کمیونی کیشنز سیٹ اور مصنوعی لیدر شامل ہے۔ سمگلنگ اس حد تک آگے بڑھ گئی ہے کہ بھارت اور دوسرے ملکوں سے اشیاء پر دوسرے ملکوں کے Made In کے ٹھپے لگا کر یہ مصنوعات پاکستان کی سرحدوں سے ملکی مارکیٹوں میں داخل ہو رہی ہیں۔لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ کنٹینرز کے کنٹینرز ملکی سرحدوں کے اندر داخل ہو رہے ہیں حالانکہ سرحدوں پر پہرے موجود ہیں لیکن غیر قانونی طور پر پاکستان کے اندر داخل ہونے والی ان اشیاء کو موٹر وے یا دوسری بڑی سڑکوں پر کوئی روک ٹوک نہیں کرتا جس کے نتیجہ میں آج پاکستان بھر میں ریڑھیوں اور ٹھیلوں کے علاوہ دکانوں اور کھوکھوں پرغیر قانونی یہ سمگلنگ کے ذریعے آنے والی اشیاء کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔لیکن سمگلنگ روکنے والے سرکاری ادارے یا تو آنکھیں بند کر کے بیٹھے ہیں یا یہ سامان اس لعنت کی روک تھام کے لئے مامور اداروں کی ملی بھگت سے پاکستان میں داخل

ہو رہا ہے۔ ایرانی بندر گاہ بندر عباس سمگلروں کی آماجگاہ ہے اور اس روٹ سے آنے والا سامان زیادہ تر پاکستان میں آتا ہے۔سمگلنگ ہمارے ملک میں ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکا ہے جس نے ہماری معیشت کو تباہ وبرباد کر رکھا ہے۔وزیر اعظم عمران خان ہمیشہ اس ناسور کے خلاف برسرپیکار رہے ہیں۔اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے سمگلنگ کے خاتمے کے لئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔حالیہ صدارتی آرڈی ننس بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس سے نہ صرف سمگلنگ پر قابو پونے میں مدد ملے گی بلکہ جو لوگ اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں،انہیں کڑی سزائیں دے کردوسروں کے لئے ایک مثال بنانے میں بھی آسانی ہوگی۔سمگلنگ نہ صرف ملکی وسائل اور آمدنی کو متاثر کرتی ہے بلکہ ملکی صنعت کی تباہی کا باعث بھی ہے۔حکومت نے اس سلسلے میں سرحدوں پر سمگلنگ کی روک تھام کے لئے نہ صرف باڑ نصب کی بلکہ سرحد کے قریبی علاقوں پر حکومتی رٹ بحال کرکے وہاں پر باقاعدہ جزاوسزاولا نظام بھی نافذ کیا ہے۔ہمارے ہاں سزا کا نظام بھی عجب ہے۔یہاں بااثر سیاسی اور پیسہ رکھنے والے افراد کو کوئی پوچھنے والانہیں۔ہماری مغربی سرحد سمگلنگ کی بڑی منڈی بنی رہی۔سرکاری اثرورسوخ رکھنے والے بعض افراد بھی اس کام میں کسی سے پیچھے نہ تھے، اسی لئے وفاقی حکومت نے صدارتی آرڈی ننس جاری کرنے کا فیصلہ کیا تو کابینہ میں بیٹھے بعض وزراء نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا۔برقسمتی سے بھارت‘افغانستان‘ایران اور چین کی سرحدوں پر سمگلنگ ہو رہی ہے،جس سے قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔کوئٹہ اور پشاور میں تو باقاعدہ سمگلنگ شدہ مال کی منڈیاں قائم ہیں۔بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا کی معاشی بدحالی کی ایک وجہ سمگلنگ بھی ہے،کیونکہ تفتان‘پنجگوراور ماشکیل کے علاقوں میں سمگلرز نے ایسے خاص پوائنٹ مقرر کر رکھے ہیں جہاں پر سیکورٹی اداروں کی توجہ زرا کم ہوتی ہے۔اس لئے وہاں سے بلا روک ٹوک اشیاء لائی اور بھیجی جاتی ہیں۔اسی طرح افغان بارڈرپر بھی ایسے خفیہ راستے موجود ہیں جو بارڈر پر باڑ کی تنصیب کے باوجود کھلے ہیں۔درحقیقت سمگلنگ جیسے ناسور کے بارے قانون سازی نہ ہونے سے بڑے بڑے مگرمچھ دھڑلے سے یہ کام کرتے تھے۔کیونکہ وہ اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ پکڑے جانے کی صورت میں انہیں صرف معمولی سزا ملے گی۔اس لئے چند مہینے جیل میں گزار کر باہر آجائیں گے۔حکومت نے اب جو قانون بنایا ہے اس پر پورے خلوص نیت اور طاقت سے عملدرآمد کی اشد ضرورت ہے۔اگر موثر عملدرآمد نہیں ہوتا تو پھر مطلوبہ مقاصد کا حصول مشکل ہو جائے گا۔ماضی میں ہمارے سیاستدان اور تاجر ٹیکس سے بچنے کے لئے بھی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کا سہارالیتے رہے ہیں۔سو اب اس میں

خاص حد تک کمی واقع ہو چکی ہے لیکن ابھی مزید اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ضرور ت اس بات کی ہے کہ حکومت پاکستان، افغانستان، ایران، بھارت سمیت تمام پڑوسی کی حکومتوں کے ساتھ مل کر کوئی ایسی موثر پالیسی ترتیب دیں جس کے ذریعے

سمگلنگ کی لعنت سے چھٹکارا مل سکے جس سے نہ صرف ان تمام ممالک کے درمیان قانونی تجارت کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ اس سے پاکستان کے علاوہ خطے کے تمام ممالک کے ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -