کرونا کیخلاف عالمی جنگ ملکر لڑنا ہوگی، وفاق ایک مربوط پالیسی بنائے

کرونا کیخلاف عالمی جنگ ملکر لڑنا ہوگی، وفاق ایک مربوط پالیسی بنائے

  

تجزیہ؛محسن گورایہ

کورونا وائرس کیساتھ بڑھتی ہوئی جنگ جو اس وقت صرف ہماری نہیں ایک عالمی جنگ ہے۔ ڈاکٹرز،ہسپتال،صحت کے ملکی و عالمی ادارے اپنی جگہ پر اس کام میں جتے ہوئے ہیں مگر اس وقت ہمارے پاس واحد سب سے طاقتور ہتھیار معلومات ہے۔ لوگوں کو حقائق پر مبنی مشورے دینا تاکہ وہ اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کیلئے اقدامات کرسکیں۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی معاشرتی طور پر ذمہ دارانہ انداز میں عمل کریں، معاشرتی فاصلے، آئیسو لیشن یعنی خود تنہائی اور جو بھی دوسرے اقدامات اٹھانا ہیں، ان کو قبول کریں۔ایسے پیغامات اور پیغامات د ینے والوں پر بھروسہ کرنے کی ضرورت ہے،اسی لئے یہ ضروری ہے کہ عوامی صحت کے عہدیدار اور سیاستدان متحد آواز کیساتھ بات کریں ا و ر مستقل، مربوط پالیسیاں اپنائیں۔پاکستان مختلف الخیال اور اپنی اپنی زبانیں رکھنے والے چار صوبوں،آزاد کشمیر،گلگت بلتستان اور دیگرعلا قوں کا ایک ملک ہے۔ سیکڑوں علاقائی صحت یونٹ، لاتعداد شہروں اور بلدیات کے ہر دائرہ اختیار کی اپنی اپنی بولی اور سمجھ کے کا فی پیغامات نظر آ رہے ہیں۔ صوبائی خودمختاری اور اختیارات کی آئینی تقسیم کے نام پر کافی تعداد میں چومکھی لڑائیاں بھی جاری ہیں مگر یہ بات سب سے زیادہ اہم ہونی چاہئے کہ انسانی جان سب سے آگے ہے، کورونا وائرس ایک ہنگامی صورتحال ہے، اس میں وفاقی اور صو با ئی حکومتوں کو ایک پیج پر نہ صرف ہونے بلکہ رہنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں وفاق فوری طور پر ایک مربوط پالیسی مرتب کرے، ا گر ہم نے تعلیمی اداروں کو بند کر دیا ہے تو ایسے تمام اداروں کو بھی بند کرنے کی ضرورت ہے،جیسے ڈے کیئرز، ابتدائی سکولوں، ہائی سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیاں، چاہے وہ جہاں بھی موجود ہوں۔اگر ہم نے بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے تو بہت اچھا کیا مگر دفعہ چوالیس پر عمل بھی کرائیں، جس کا مطلب چار لوگوں سے زیادہ کے اکٹھا ہونے پر پابندی ہے ہم نے اس دفعہ کو ہمیشہ سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا آج ضرورت ہے اسے ملکی اور انسانی مقاصد کیلئے سختی سے استعمال کریں۔ ایک صوبے میں اس کو 50 اور دوسرے میں 250 کے گروپ نہ بنائیں۔ اسے ایک دائرہ اختیار میں لازمی اور دوسرے میں سادہ درخواست نہ کریں۔خود کو الگ تھلگ کرنے کے اصول ہر ایک مسافر اور شہری کیلئے ایک جیسے ہونے کی ضرورت ہے۔آزمائشی رہنما اصولوں کیساتھ بھی اسی طرح کی ضرورت ہے،انہیں ملک کے ہر ایک حصے میں ایک جیسا ہونا چاہئے، کوئی مبہم مہم نہ ہو جس سے لوگوں کو مایوسی اور پریشان ہونا پڑتا ہے۔ بنیادی پیغامات اور افعال کو پوری طرح مستقل اور ہم آہنگی کیساتھ بنانا ہوگا، پھر پھیلانا ہے۔ اچھل کود،سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا یہ وقت ہے نہ ہی یہ کہ پنجاب اس مہم میں آگے یا سندھ۔ہمیں اس جنگ سے مل جل کر لڑنا ہے۔

تجزیہ محسن گورایہ

مزید :

تجزیہ -