شرح سود میں مزید کمی کی جائے: پیاف

شرح سود میں مزید کمی کی جائے: پیاف

  

لاہور (کامرس ڈیسک)پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) کے چیئرمین میاں نعمان کبیرنے سیئنر وائس چیئرمین ناصر حمید خان اور وائس چیئرمین جاوید اقبال صدیقی کے ہمراہ پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں 0.75 فیصدکمی معیشت کے لئے اچھا قدم ہے مگر موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ ناکافی ہے اس میں مزید کمی کی جائے۔یہ کمی ہماری اکانومی کیلئے سودمند ثابت نہیں ہو گا بزنس کمییونٹی ۲ سے ۳ فیصد توقع کر رہی تھی مگر ایسا نہیں ہوا۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے مارک اپ ریٹ میں مزید کمی کی جائے۔ پوری دنیا میں مارک اپ کو خاصی حد تک کم کیا گیا ہے مگر پاکستان میں اس لیول تک کم نہیں کیا گیا جسکی توقع کی جا رہی تھی۔ ملکی معیشت جو پہلے ہی کاروباری مندے کی وجہ سے جمود کا شکار ہے اور نجی شعبہ قرضوں سے محروم ہے کیونکہ چودہ سے پندرہ فیصد سود ادا کرنے والا کوئی کاروبار منافع بخش نہیں رہ سکتا۔ بزنس کمیونٹی پہلے ہی بڑھتی ہوئی کاروباری لاگت، افراط زر اور روپے کی قدر میں کمی اور کرونا وائرس کی وجہ سے پریشان ہے لہٰذا شرح سود میں مزید کمی کرتے ہوئے اسے کم از کم سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے۔شرح سود زیادہ ہونے سے نہ صرف صنعتی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی ہو تی ہے بلکہ بہت سے چلتی ہوئی صنعتیں بھی بندہو چکی ہیں۔موجودہ صورتحال مخدوش ہے، اسٹاک مارکیٹ میں مندی،صنعتیں گو مگو کا شکار جبکہ معاشی اشارئیے کمزور ہو رہے ہیں جسکی وجہ سے ڈالر اور سونے کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں لہٰذا حکومت اس صورتحال کو فوری طور پر ایڈریس کرے اور شرح سود میں واضح کمی کرے۔

مزید :

کامرس -