کورونا وائرس سے بچاؤ کا واحد حل احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد ہے: پروفیسر سعید خان

  کورونا وائرس سے بچاؤ کا واحد حل احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد ہے: پروفیسر ...

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) نوول کرونا وائرس سے بچاؤ کا اس وقت واحدحل احتیاطی اقدامات پر عملدرآمد ہے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں احتیاط اور خوف کے مابین فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے یہ بات ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پروفیسر محمد سعید خان نے بیر ٹ ہڈسن یونیورسٹی میں وائس چانس پروفیسر شکیل احمد خان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں خصوصی شریک کی حیثیت سے بات چیت کرتے ہوئے کہی اس موقع پر پروفیسر عقیل احمد اور دیگر بھی موجودتھے اجلاس کا مقصدیونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ اور کرونا وائرس کے متعلق پروفیسر محمد سعید خان کے تجربات سے استفادہ کرنا تھا پروفیسر محمد سعید خان نے اجلاس کو بتایاکہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ کرنسی نوٹس، دروازوں کے ہینڈل،لفٹ کے بٹن کمپیوٹر کی بورڈ و ماؤس،موبائل فون سمیت ایک دوسرے کو دی گئی اشیا کے ذریعے ہوسکتا ہے اسی وجہ سے حکومت کی جانب سے اقدامات کیے گئے ہیں ان اقدامات سے ڈرنے کی ضرورت نہیں انکی وجہ کرونا سے ہلاکت خیزی نہیں بلکہ اس کا تیز ترین پھیلاؤ ہے کیونکہ اس سے زیادہ ہلاکتوں کی شرح تو ڈائریا میں ہے جبکہ اس میں ہلاکت کی شرح تین فیصد ہے اور ریکوری ستانوے فیصد ہے انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت کے اقدامات اطمینان بخش ہیں ان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں انہوں نے کہاکہ کرونا کے تیزی پھیلاؤ کو روکنے میں دنیا کے طاقتور اور جدید سہولتوں سے آراستہ ملک ناکام ہوگئے ہمارا صحت کا انفرااسٹرکچر تو ان ملکوں سے مضبوط نہیں ہے ہم بدحواس ہوئے بغیر احتیاطی اقدامات کے ذریعے ہی دنیا کی تاریخ کی اس خطرناک وبا سے لڑسکتے ہیں وائس چانسلرپروفیسر شکیل احمد خان نے بتایاکہ بیرٹ ہڈسن یونیورسٹی نے طلبا کی تعطیلات کے دوران آن لائن کلاسز جاری رکھی ہوئی ہیں اس کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ پہلے سے آن لائن سسٹم موجود تھا انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی کی جانب سے طلبا میں نوول کرونا وائرس کے متعلق شعور وآگہی پید ا کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے جبکہ احتیاط کے متعلق آن لائن مقابلہ مضمون نویسی و پوسٹر سازی کی تجویز بھی زیر غور ہے علاوہ ازیں ہاتھ دھونے کیلیے صابن اور ہینڈ سینی ٹائزر اور دیگر اشیا دستیاب کردی گئی ہیں اورکسی بھی وجہ سییونیورسٹی آنے والوں باور کرایا جارہا ہے کہ انہیں ہاتھ دھوتے رہنا ہے اور خاص طور پر اس وقت ہاتھ اپنے چہرے کے قریب نہیں لے جانے جب تک اچھی طرح دھلے ہوئے نہ ہوں پروفیسر محمد سعید خان نے اس موقع پر کہاکہ طلبا اور اساتذہ اور دیگر اسٹاف کو ابلاغ کے مختلف ذرائع سے ہاتھ اچھی طرح سے دھونے کا طریقہ بتانے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ وضو میں ہاتھ دھونے کی طرح ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے مکمل طور پر رگڑنا، ایک ہاتھ کی شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کا دائرہ بنا کردوسرے کی کلائی پر مسح کرنے سمیت ایک ہاتھ کی ہتھیلی کے درمیان میں دوسرے ہاتھ کی پانچوں انگلیوں کو ملا کر رگڑنے سے امکان ہے کہ آپ کے ہاتھ کرونا وائر س سے محفوظ ہوسکتے ہیں اجلاس کے اختتام پر پروفیسر عقیل احمد نے کرونا وائر س کے سے متعلق جائزہ اجلاس میں شرکت پر پروفیسر محمد سعید خان کا شکریہ ادا کیا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -