صوفی شاعر حکیم ناصر خسرو کی یاد میں مذاکرہ اورمشاعرے کا انعقاد

  صوفی شاعر حکیم ناصر خسرو کی یاد میں مذاکرہ اورمشاعرے کا انعقاد

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام ”فارسی کے صوفی شاعر حکیم پیر ناصر خسرو“کی یاد میں مذاکرہ اور”مشاعرے‘کا انعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت ملک کے معروف دانشور شاعرپروفیسر سحر انصاری نے کی۔ مہمانانِ خاص بروشسکی زبان ریسرچ اکیڈمی کراچی کی چیئرمین شہناز ہونزائی تھیں۔ اس موقع پر پروفیسر سحرانصاری نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ قاہرہ میں ناصر خسرو نے زیادہ تر تعلیم اور علم فاطمید خانقاہوں میں حاصل کی۔ یہاں آپ نے معید فی الدین الشیرازی کی خانقاہ میں شیعہ اسماعیلی فرقہ بارے تمام علم حاصل کیا اور فاطمیدسلطنت میں اس کی ترویج کی۔ چونکہ یہ تعلیمات آپ کی بنیاد اور آبائی وطن سے تعلق رکھتی تھیں اسی وجہ سے ان کی ترویج آپ آپ کی زندگی کے اس دور کا مقصد بن گیا۔ آپ کو اسی دور میں خانقاہ کے ”داعی“ کے عہدے پر ترقی دی گئی اور آپ کو بطور ”حجت خراسان“ نامزد کیا گیا، لیکن آپ سیاسی حربوں اور خراسان عظیم میں سنی فرقے کی ۱۰۵۲ ؁ء مذہبی ارتقا کو برداشت نہ کر پائے اور یہاں سے رخصت حاصل کی۔ اسی خودساختہ جلاوطنی کے دور میں انہوں نے ۱۰۶۰ء ؁ میں یاماگان میں پناہ لی، جو بدخشاں کے پہاڑوں میں واقع ہے۔ یہی آپ نے اپنی زندگی کی آخری دھائیاں گزاریں اور اسی دور میں آپ کی شاعری، ادب، فلسفہ میں تصانیف تاریخ میں ملتی ہیں اور آپ کے کئی پیروکار اسی دور میں تیار ہوئے جو آنے والی نسلوں تک آپ کے علم کو پہنچانے کا سبب بنے۔اس موقع پر شہناز ہونزائی نے کہاکہ آپ کی دوسری تصانیف میں آپ کی شاعری کا مجموعہ ”دیوان“ کے طور پر شائع کیا گیا، جو آپ کے او اخر عمر میں تخلیق ہوا اور اس کے چیدہ موضوعات حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی جرات، انکے پیشرو (خاص کر امام مستنصر)، خراسان کا حال و حکمران، ہجرت، سفر، یاماگان کا خاموش ماحول، دنیا کی ہے ثباتی اور زندگی ہیں۔ آپ کے کلام میں موجود موضوعاتی تنوع میں خاص بات یہ ہے کہ ہر موقع کی مناسبت سے امید اور مایوسی کے عین بیچ سبق آموز گوہر بکھرے ہیں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -