ٹانک،دوبارہ آبادکاری پروگرام کے تحت ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار

ٹانک،دوبارہ آبادکاری پروگرام کے تحت ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار

  

ٹانک(نمائندہ خصوصی)دوبارہ آبادکاری پروگرام کے تحت ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار،سینکڑوں کی تعداد میں گاؤں بجلی کی سہولت سے محروم، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا۔ تفصیلات کے مطابق آپریشن کے بعد جنوبی وزیرستان میں دوبارہ ابادکاری کے بعد بجلی کے تمام ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار ہیں بجلی نہ ہونے کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ کئی تعمیراتی منصوبے چھ سال گررنے کے باوجود بھی تعطل کا شکارہیں جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقے مکین، عمر خیل بندخیل، بہادر خیل، میانر خیل، ازدی خیل،لدھا، سیگا، پٹ ویلائے، تنگی بندینزائے، ایمار راغزائے، امزارے، شنکائی، خونخیلہ، کڑامہ، عبداویدانی،ملک میلہ، کچہ لنگر خیل، سام، بدر چلویشتی، سینہ تیژہ، مرداڑ لگڈ اور دیگر درجنوں دیہات تاحال بجلی کی سہولیات سے محروم ہیں قبائلی رہنما ملک اے ڈی محسود نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی وزیرستان کیلئے دوبارہ آبادکاری پروگرام کے تحت اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز ریلیز ہوچکے ہیں لیکن جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام میں غیر معیاری اور انتہائی سست روی کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت جنوبی وزیرستان کے باشندوں کے معیار زندگی بلند کرنے کیلئے بلندو بانگ دعوے کررہی ہے جبکہ دوسری جانب مذکورہ سینکڑوں دیہات اس دور جدید میں بھی گپ اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں انکا کہناتھاکہ فوجی اپریشنوں کے خاتمے کے بعد علاقے میں امن تو لوٹ آیا ہے لیکن یہاں کے باشندے آج بھی بنیادی ضروریات زندگی کی سہولیات سے محروم ہیں انکا مزید کہناتھاکہ اعلی حکومتی عہدیدار اور منتخب عوامی نمائندوں نے اس علاقہ میں بسنے والے لاکھوں افراد کے فلاح وبہبود پر کوئی توجہ نہیں دی اور انکے مسائل کو حل کرنے سے چشم پوشی اختیار کی ہے انہوں نے وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، کور کمانڈر پشاور اور آئی جی ایف سی ساوتھ سے مذکورہ علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیاہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -