چشمہِ عِلم و عرفان

چشمہِ عِلم و عرفان
 چشمہِ عِلم و عرفان

  

تحریر: عباس سرور قریشی

کہیں دُور پہاڑوں میں ایک جھرنا نمودار ہوتا ہے جو مختلف مراحل طے کرتا ہوا، راستے کی صعوبتیں برداشت کرتا ہوا، اپنی لگن میں محو کبھی آبشار کی شکل اختیار کرتا ہے تو کبھی ندی کی، کبھی وہ نہر کا روپ دھارتا ہے تو کبھی ایک دریا کا، وہی جھرنا ایک خاص مقام پر پہنچ کر بقاء کے درجے پے فائز ہوتے ہوئے ایک ابدی حقیقت سمندر کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اپنے وجود کی تمام صورتوں میں وہ خلقِ خدا کی نجانے کتنی ضروریات کو کسی معاوضہ کے بغیر پورا کرتا ہے، پیاس کی تسکین، خوراک کی فراہمی، تو کبھی بدن کی پاکیزگی، ان اہم ضروریات کے پیش نظر انسان کا نعمت کے اس دھارے کے ساتھ رشتہ بہت پرانا ہے۔

بیشتر تہذیبیں اور عظیم شہر اسی نعمت جسے چاہے ہم ندی کہیں یادریا کے کنارے ہی پروان چڑھے ہیں۔ خلق خدا کی داد رسی اور اس سے اس قدر محبت کرنے والے سلسلے کی ہر کڑی محترم، ہر صورت خوبصورت، اس کے ہر قطرے کو سلام، جس ساعت وہ جھرنا وجود میں آیا اُس ساعت پر درود کہ اس ساعت کے آنے سے انگنت انسانیت کی ضروریات پوری ہوئیں۔

ایک جھرنا 43 سال پہلے شملہ پہاڑی پر نمودار ہوا اور مختلف جگہوں سے گزرتا چشت کے رنگ بکھیرتا محبت کی صدائیں بلند کرتا غمگین دلوں میں روشنیاں بھرتا ہوا منزل کی جانب بھڑتا رہا نہ جانے اس جھرنے کے فیض سے کتنی وادیاں سیراب ہوئیں، کتنے کھیتوں میں ہریالی آئی، کتنے باغوں میں بہار آئی، موسموں کی تلخی، راستے کے پتھر، تند ہوائیں اس بحر بیکراں کو رتی بھر بھی متزلزل نہ کر سکیں۔

جیسے جیسے وقت بڑھتا گیا مقصد کی سچائی زبان زدِ عام ہوتی چلی گئی، ایک صورت لوگوں کے دِلوں میں راج کرنے لگی، ایک آواز سماعتوں میں رس گھولنے لگی، جوق در جوق لوگ اپنے آپ کو اُس شخصیت کی گہرائیوں میں سُپرد کرنے لگے۔

عِلم و عرفان کا یہ دلکش چشمہ جو اپنی موج میں بہتا چلا گیا بلکہ بہتا چلا جا رہا ہے وہ سب امانتیں جو اُس کے ہاتھ سپرد تھیں انعام کے ساتھ ادا کرتا چلا جا رہا ہے، یہ چشمہ حق جو چشت کے حُسن و جمال کا مظہر بھی ہے اور نورِ یزداں کا سفیر بھی سُندر کی سرزمین کو سیراب کر رہا ہے، ایک زمانے سے سُندر گاؤں کو وجہ تسمیہ کی تلاش تھی۔ وجیہہ و سیماء رحمۃ اللہ تشریف لائے تو جواب مل گیا۔ سُندر کے بھی کیا کہنے، مسند سے چند گز کے فاصلے پر وہی حیات کی پہچان بڑے ادب اور خاموشی سے بہتا ہوا دھارا، چمکتا ہوا بلند سفید گنبد اور مسند نشین وہی صاحبِ نعمت جو اپنے بابا کے حبیب اُس امانت کے امین جو بحکُمِ اللہ برگزیدہ ہستیوں کے طفیل خلائق تک پہنچ رہی ہے۔ 

13 مارچ 2020 کو دل کی دھڑکنوں کی رفتار کچھ بدلی بدلی محسوس ہو رہی ہے خیالات مہکے مہکے سے ہیں چُپکے چُپکے سے دھڑکنیں کہہ رہی ہیں ”سلسلہ عرفانیہ چشتیہ کے ہر رنگ کو سلام اور آنے والی ہر ساعت پر درود“۔ 

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -