کرونا کا وار ، لیکن گھبرانا نہیں ہے

کرونا کا وار ، لیکن گھبرانا نہیں ہے
 کرونا کا وار ، لیکن گھبرانا نہیں ہے

  

تحریر: کاوش میمن

دنیا میں جہاں دیگر کئی مسائل نے جنم لیا ہوا ہے وہیں ایک اور مسئلہ دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کرگیا ہے۔ ووہان سے شروع ہونے والی ایک خطرناک بیماری کورونا وائرس انتہائی کم وقت میں دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل گئی، کئی ترقی یافتہ ممالک اس وائرس کے سامنے بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔ اب تک چین سمیت دنیا بھر میں 8000 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں سینکڑوں زیر علاج ہیں۔ دنیا بھر میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ چین، ایران، ترکی، اسپین اور امریکا سمیت دنیا کی دیگر کئی ممالک میں کاروبار اور تعلیمی ادارے مکمل بند ہیں۔ لوگ گھروں میں محصور ہیں اسٹاک مارکیٹس تباہی کے دہانے پر آگئی ہیں معیشت گڑتی چلی جارہی ہے اور یقیناً اس کا اثر اور نقصان غریب ممالک کو زیادہ ہوگا البتہ چین نے کافی حد تک اس وائرس کا مقابلہ کیا اور اب اس کو کنٹرول کرنے میں کامیاب بھی ہورہا ہے۔

چین کے عوام اور حکومت نے مل کر اعتماد کے ساتھ اس وائرس کا مقابلہ کیا، جہاں دنیا کے دیگر ممالک اس وائرس سے متاثر ہوئے وہیں پاکستان میں بھی اس کا پھیلاؤ شروع ہوچکا ہے اور اب تک 250 سے زائد کیسسز رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں سے اکثر افراد کا تعلق ایران سے ہے جو بلوچستان کے راستے پاکستان آئے۔ حکومت نے یہاں پر بھی اپنی لاپرواہی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے یہ وائرس پھیلتا چلا جارہا ہے۔

وفاقی حکومت ایک طرف تو ایئرپورٹس پر باہر ممالک سے آنے والوں کی اسکریننگ کا دعویٰ کرتی ہے جبکہ دوسری طرف پھر وہی پرانا راگ الاپتی ہے کہ گھبرانا نہیں ہے۔ تفتان میں انتظامیہ کی ناقص کارکردگی کا پول اس وقت کھلا جب  تفتان سے لوگوں کو بغیر اسکریننگ کے سندھ بھجیا جارہا تھا اور ایسا دیکھا بھی گیا جس کو وہاں کی انتظامیہ نے تسلیم بھی کیا۔

ہمیں علم ہے کہ بلوچستان میں پسماندہ صوبہ ہے اور اس کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا وہاں اتنی بڑی تعداد میں زائرین کی اسکریننگ ممکن نہیں لیکن وفاقی حکومت کہاں غائب ہے؟  کس سانحے کا انتظار کررہی ہے؟ بلوچستان حکومت کے پاس اگر وسائل نہیں تھے تو وفاقی حکومت کو مکمل تعاون کرنا چاہیئے تھا اور  لوگوں کو 14 دن تک قرنطینہ میں رکھ کر پھر سندھ منتقل کرنا چاہیئے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ 14 دن تک لوگوں کو قرنطینہ میں رکھا تو گیا لیکن غفلت اور لاپرواہی دکھائی گی جس کا نقصان صوبہ سندھ کو اٹھانا پڑا اور جو زائرین بلوچستان میں قرنطینہ میں 14 دن قیام کرکے آئے ان میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد سندھ حکومت متحرک ہوئی اور پھر زبردست اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

سندھ حکومت نے تعلیمی اداروں کے ساتھ شاپنگ مالز، ریسٹورینٹس اور پبلک پارکس کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ یقیناً ایک مثبت اقدام ہے کیونکہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ بہت تیزی کے ساتھ ہوتا ہے اور اگر حکومت یہ اقدامات نہیں کرتی تو مزید کسی بڑے نقصان کا اندیشہ تھا۔

ترقی یافتہ ممالک اس وائرس سے جنگ لڑنے میں ناکام رہے جبکہ ہمارے ملک میں تو صحت کے حوالے سے پہلے ہی بہت مسائل ہیں، جہاں پوری دنیا اس وائرس سے گھبرا رہی ہے اور سخت اقدامات کررہی ہے وہیں پر ہمارے خان صاحب قوم سے خطاب میں کہتے ہیں کہ ‘گھبرانا نہیں ہے’ کورونا وائرس پر قابو پالیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ کس طرح قابو پائیں گے؟ حکومت اب تک سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہی ہے اور نہ ہی کوئی ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے جس سے اس وائرس کو کنٹرول کیا جائے۔

سندھ حکومت ماضی میں صحت کے حوالے سے مسائل کا شکار رہی اور شدید تنقید کی زد میں بھی رہی اور ہم نے دیکھا کہ سندھ کے ہسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین تک دستیاب نہیں تھی لیکن کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے  مراد علی شاہ اور سندھ حکومت نے جو اقدامات کیے وہ یقیناً قابل تعریف ہیں۔ سندھ کے بیشتر ہسپتالوں میں کورونا وائرس ٹیسٹ کی سہولت کو مفت کیا گیا، وینٹی لیٹرز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا اور بھی دیگر کئی ایسے اقدامات کیے گئے جن سے شہریوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔

وفاقی حکومت کو بھی فوری طور پر ایسے اقدام اٹھانے پڑیں گے جس سے لوگوں کو محفوظ رکھا جاسکے، حکومتیں جہاں اقدامات کررہی ہیں وہیں عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ تعطیلات کو سیر سپاٹے کرکے انجوائے نہ کریں بلکہ گھروں رہیں اور خود کو اور اپنے بچوں کو اس وائرس سے محفوظ رکھیں.

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -