بسمہ اور دعا منگی کا اغوا، دو ملزمان گرفتار لیکن دراصل دعا منگی کو کہاں پر رکھا گیا تھا؟ ملزمان نے تفتیش میں سب اگل دیا

بسمہ اور دعا منگی کا اغوا، دو ملزمان گرفتار لیکن دراصل دعا منگی کو کہاں پر ...
بسمہ اور دعا منگی کا اغوا، دو ملزمان گرفتار لیکن دراصل دعا منگی کو کہاں پر رکھا گیا تھا؟ ملزمان نے تفتیش میں سب اگل دیا

  

کراچی (ویب ڈیسک) کراچی کے علاقے ڈیفنس سے گزشتہ برس 12 مئی کو بسمہ اور 30 نومبر کو دعا منگی کو اغوا کیا گیا تھا، جن کے اغوا اور تاوان وصولی کے مقدمات درخشاں تھانے میں درج کیے گئے تھے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق اغوا کی ان وارداتوں پر فوری ایکشن لیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے متعدد اجلاس طلب کیے اور دونوں کیسز کراچی پولیس، سندھ رینجرز، سی پی ایل سی اور حساس اداروں کو دیئے تھے۔جنہوں نے مل کر کیس کے مختلف پہلوﺅں پر کام کیا اور ملزمان کا سراغ لگایا، ان میں سے دو کو اسلحہ سمیت گرفتار کرلیا گیا، گرفتار ملزمان میں زوہیب قریشی ولد ممتاز قریشی اور مظفر عرف مودی ولد رفیق حسین شامل ہیں۔جبکہ تین مفرور ملزمان میں آغا منصور، شکیل اور کامران عرف کامی کی تلاش جاری ہے، ان کی فوری گرفتاری کے لیے پچاس لاکھ روپے بطور ہیڈ منی کی سفارش بھیجی جارہی ہے، تاکہ انہیں جلد ازجلد گرفتار کیا جاسکے۔

گرفتار ملزمان نے دوران تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کیا اور بتایا کہ زوہیب اور آغا منصور نے اغوا کا منصوبہ بنایا اور اس مقصد کے لیے ایک فلیٹ کرایہ پر لیا۔ جہاں مغوی لڑکیوں کو رکھا گیا، بعدازاں تاوان کی وصولی کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔ملزمان نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے اس دوران جدید ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ نے اس کیس پر کام کرنے والے تمام پولیس اور دیگراداروں کے افسران کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کے لیے 20 لاکھ روپے کیش انعام کی سفارش کی ہے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -