کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بلاول بھٹو زرداری نے ایسی بات کہہ دی کہ وزیراعظم عمران خان بھی خوش ہو جائیں گے

کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بلاول بھٹو زرداری نے ایسی بات کہہ دی کہ وزیراعظم ...
کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بلاول بھٹو زرداری نے ایسی بات کہہ دی کہ وزیراعظم عمران خان بھی خوش ہو جائیں گے

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن ) پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ یہ وقت وزیراعظم پر تنقید کرنے کا نہیں ہے،کورونا سے لڑنے کے لیے سب کو مل کرمشترکہ حکمت عملی طےکرنا ہوگی،اگر آج میں وزیراعظم کی پریس کانفرنس پر تنقید کروں گا تو کل اُن کے لوگ مجھ پر تنقید کریں گے،ہمیں سیاسی محاذ آرائی کی بجائے قومی یکجہتی کے ذریعےکرونا وائرس جیسی وباؤسےنمٹنے کی ضرورت ہے،کرونا وائرس کی روک تھام کےلئےسندھ میں اٹھائے گئےاقدامات کے دوران اگر کسی مزدور کے گھر میں کھانا نہیں ہوگا توصوبائی حکومت اسکےگھرراشن بھی پہنچائے گی جبکہ حکومت سندھ کروناوبا کی پیش نظر پاک آرمی کے ساتھ مِل کرکراچی میں فیلڈ ہسپتال بھی بنائے گی،سندھ حکومت کےاقدامات کااگردوسرے صوبوں یا وفاق نےجواب نہ دیاتووبا پر قابونہیں پایا جاسکےگا،ہم چاہتے ہیں کہ ملک بھر میں لاک ڈاوَن ہو اوراس ضمن میں وفاق ہماری مددکرے،شعبہ طب سےمنسلک تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو اس مہلک وبا کےخلاف فرنٹ لائن کے سپاہی کا کردار نبھا رہے ہیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتےہوئےبلاول بھٹو زرداری نےکہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ سندھ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ مل کر کرونا وائرس کے خلاف مقابلہ کر رہے ہیں، میں اس دوران مسلسل وزیراعلیٰ سے رابطے میں تھا اور آج ضروری سمجھا کہ اس پریس کانفرنس کے ذریعے پورے ملک کو پاکستان پیپلز پارٹی کا پیغام پہنچایا جائے، میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت بہت سنجیدہ صورتحال ہے اور ہر پاکستانی کو اسے انتھائی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا،ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ فقط اتنا بوجھ ڈالتا ہے، جتنی ہماری برداشت ہے،میں صرف اتناکہنا چاہتاہوں کہ کرونا وائرس سےزندگی کوخطرہ ہے،یہ فقط فلو یا زکام نہیں ہے،یہ فلو سے دس گنا زیادہ خطرناک ہے ،اس میں موت کی شرح حتمی نہیں ہے،یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ یہ وائرس فقط بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو متاثر کرتا ہے، اس وقت دو لوگ پاکستان میں کرونا وائرس کے باعث فوت ہوچکے ہیں،عوام کو خوفزدہ یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم آپ کے لیئے دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ آپ کی جان کا تحفظ کر سکیں، اس بیماری کو ہمیں روکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت تنقید، الزامات اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی ضرورت نہیں، ضرورت ہے کہ ملک بھر میں مل کر اقدامات کیے جائیں، ہم سب کو مل کر مشترکہ حکمت عملی طے کرنا ہوگی، تفتان سے 302 افراد سندھ آئے جن میں سے 151 میں وائرس کی تصدیق ہوئی آج بھی وفاقی حکومت کو کہتے ہیں ہمیں ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، اس وقت ملک میں کوآرڈینیشن کی ضرورت ہے، وفاقی حکومت اپنی بھرپور صلاحیتیں استعمال کرے۔انہوں نے سندھ حکومت کو ہدایت کی سندھ حکومت یقینی بنائےکہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو نہ نکالاجائے، تمام نجی اداروں کو بھی پابند کیا جائے کہ کسی کی تنخواہ نہ روکی جائے، ملازمین اگر نہیں بھی آرہے تو ان کو بھی پوری تنخواہ دی جائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا کو ایک گراف دکھاتے ہوئے بتایا کہ کرونا سے متاثر ممالک میں سے جاپان، ہانگ کانگ اور سنگاپور میں یہ وبا پھوٹنے کے بعد جلد از جلد و بلاتاخیر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے ہونے والے ممکنہ نقصان کو روکا گیا،ان ممالک کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات میں متاثرہ افراد کی تشخیص اور ان کو آئسولیشن میں رکھا،دوسرا اقدام ماس ڈسٹنگ کی، ووہان میں وبا پھوٹنے کے فوراً بعد حکومتِ سندھ نے اقدامات اٹھائے اور صورتحال کو سنبھال لیا، ایران میں یہ وبا پھوٹنے کے بعد ہم نے پھر حفاظتی اقدام اٹھائے اور ایران سے آنے والے افراد کو آئسولیشن میں رہنے کی ترغیب دی اور ٹیسٹ بھی کروائے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جب یہ وبا کمیونٹی میں پھیلنے کا خطرہ ہے،اس وقت جو کرونا متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے وہ فقط تافتان سے آنے والے لوگوں کی وجہ سے ہے، ان لوگوں کو کسی بھی طرح کے ٹیسٹس کے بغیر ہی ایک ساتھ رکھا گیا تھا،ہم ان کی صحت اور علاج کو یقینی بنا رہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس وقت میں وفاقی حکومت سمیت تمام متعلقہ اداروں پر زور دینا چاہتا ہوں کہ ہمیں وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیئے سیلف آئسولیشن اور کمیونٹی سطح پر میل جول کو روکنے پر فوکس کرنا چاہیئے،ہمیں ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا ہوگا،سندھ حکومت نے10 ہزار ٹیسٹ کٹس کا انتظام کیا ہے،وفاق صوبوں کو اس ضمن میں تعاون کرے،اس وقت ہماری جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بہترنتائج فقط اس صورت میں مل سکتےہیں جب ملک کے دیگر علاقوں میں اسی طرح کےاقدامات اٹھائےجائیں،تمام ممالک جہاں پریہ وباپھیلی وہاں حکومت نےاجتماعی حکمت عملی اختیار کی ہے،اس وقت سیاسی پوائنٹ سکورنگ،الزامات کی کوئی ضرورت نہیں،ہم اپیل کرتےہیں کہ ہماری وفاقی حکومت اپنی اپروچ میں تبدیلی لائےاورہماری مدد کرے،میں جانتا ہوں پاکستان اس وباکامقابلہ کرسکتاہے،ہم جانتےہم پردباوَبہت بڑھ جائےگالیکن ہمیں اقدامات اٹھانےہوں گے،وزیراعلیٰ سندھ اوران کی ٹیم نےیہ فیصلہ کیا ہےکہ ایکسپو سینٹر میں ایک بہت بڑا فیلڈ ہسپتال بنایاجائے گا،جس میں پاک فوج کی مدد لی جائے گی اوراس کےساتھ میڈیکل کےشعبےسےمنسلک افراد و اداروں کا تعاون بھی حاصل کیا جائے گا،ہم چاہتے ہیں کہ ملک بھر میں لاک ڈاوَن ہو اور اس ضمن میں وفاق ہماری مدد کرے۔

انہوں نے کہا کہ میں غریب افراد کو یقین دلاتا ہوں کہ لاک ڈاوَن کی صورت میں ان کے گھروں کی دہلیز پر راشن پہنچائیں گے اور اس سلسلے میں ہم امیر لوگوں سے بھی تعاون کے متمنی ہیں،ہم حکومت سندھ سے امید رکھتے ہیں کہ وہ یہ یقینی بنائے گی کہ اپنی نوکریوں پر نہ جانے والے محنت کشوں کو نوکریوں سے نہ نکالا جائے اور انہیں پوری تنخواہ بھی ملے،اس وباء کے خاتمے کے بعد حکومت سندھ نوکریاں دینے والے اداروں کی ہر ممکن مدد بھی کرے گی،ہماری معیشت کو اس وائرس کی وجہ سےجوحشرہونےوالا ہے اس کو سنبھالنے کے لیئے وفاق کو اقدامات اٹھانے ہوں گے،سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کرنا ناکافی اور بہت تاخیر سے اٹھایا ہوا قدم ہے،وفاق کو مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے،اگر آپ کہتے ہو کہ کرونا کا مقابلہ کرنے کے لیئے 100 ارب کی ضرورت ہے تو آپ کو اس وباء کے خاتمے کے بعد 600 ارب روپے کی ضرورت ہوگی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمیں دو محاذوں پر جنگ لڑنی ہے،ہمیں اپنے لوگوں کی جانیں بچانی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ معیشت کو بھی بچانا ہے،ہمیں ایک ہوکر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا،ہمیں ایک ہوکر سب کو سمجھنا ہوگا،ہمیں اپنے بزرگوں اور اپنے شہریوں کی صحت و زندگی کے لیئے 15 دنوں تک سوشل ڈسٹینسنگ اختیار کرنا ہوگی۔پی پی پی چیئرمین نےکہا کہ پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی کو ہدایات دیتا ہوں کہ وہ اپنےاپنےحلقوں میں جاکربیٹھیں اورگھرگھرجاکر اسی طرح آگہی مہم چلائیں اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں جس طرح وہ اپنی الیکشن مہم چلاتے ہیں۔ انہوں نے کرونا وائرس کے خلاف اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مصروف ڈاکٹرز اور نرسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں جو اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر اس مرض کے خلاف لڑ رہے ہیں،حکومت سندھ مزید ڈاکٹرز اورنرسز کی خدمات حاصل کرنے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔

میڈیا کی جانب سےپوچھےگئےایک سوال کےجواب میں بلاول بھٹَو زرداری نے کہاکہ یہ وقت وزیراعظم پر تنقید کرنے کا نہیں ہے,جب میں کہتا ہوں کہ پاکستان اس وباکامقابلہ کرسکتا ہےتواس میں وزیراعظم بھی شامل ہے،ہمیں ٹھوس اقدامات اٹھاناپڑیں گےلیکن وزیراعظم کےخطاب میں وہ اقدامات شامل نہیں ہیں ، ہم یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ ہم آہنگی کے لیئے اپنا کردار ادا کرنے کے لیئے تیار ہیں۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ کہ اگر درست وقت پر درست اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ہسپتال کرونا کے مریضوں سے بھر جائیں گے، جس کے بعد نہ صرف اس  وبا کے متاثرہ لوگ بلکہ دیگر مریضوں کو بھی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک کے نظام صحت اور معیشت میں کمزوریوں سے بخوبی واقف ہیں، لیکن اس کے باوجود ہمیں حالات سے مقابلے کی ضرورت ہے،ہمیں مقابلہ کرنا پڑے گا اور اس کے لیئے ہمیں قیادت کی ضرورت ہے،اس وقت ہمارے وزیراعظم اور وفاقی وزیرِ صحت عمران خان ہیں، ان پر کوئی تنقید نہیں کروں گا بلکہ ان سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ اس مشکل وقت میں لیڈ کریں گے، جتنی وہ ٹھوس اقدامات اٹھانے میں تاخیر کریں گے،اتنا زیادہ نقصان ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت سندھ اپنے وسائل پر قبا کا مقابلہ کر رہی ہے،صوبے کی عوام نے ان کے کندھوں پر ذمہ داریاں رکھی ہیں، جو وہ نبھا رہے ہیں، اچھا ہوتا اگر پورا ملک آج ایک پیج پر ہوتا۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کےمتعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کرونا وائرس کی صورتحال کی پیش نظر برسی کے موقعے پر ہونے والے جلسے کو ملتوی کیا گیا ہے اور حالات بھتر ہونے کے پعد پیپلز پارٹی اپنی سرگرمیاں شروع کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پاک فوج اور دیگر ادارے جس طرح سیلاب اور دیگر مشکلات کے دوران امدادی کاموں میں حصہ لیتے ہیں، ہم سب شانہ بشانہ کھڑے ہوکر کورونا کا بھی مقابلہ کریں گے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم سمیت یہ وقت کسی پر تنقید کا نہیں، ہم سیاست بعد میں کرلیں گے۔

مزید :

قومی -