جمعۃ المبارک کے اجتماعات،تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ نے عوام الناس سے بڑی اپیل کر دی

جمعۃ المبارک کے اجتماعات،تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ نے عوام الناس سے ...
 جمعۃ المبارک کے اجتماعات،تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ نے عوام الناس سے بڑی اپیل کر دی

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ نے عوام الناس سےاپیل کی ہے کہ جمعۃ المبارک کی نماز کے لیے گھر میں سنتیں ادا کریں اور مسجد با وضو آئیں، جمعۃ المبارک کے خطبات مختصر اور تقاریر کرونا وائرس سے متعلق مختصر ہدایات پر ہوںگی،مساجد میں آتے ہوئے استغفار ، درود شریف اور آیت کریمہ کا ورد کریں،جامعہ مساجد میں اجتماعات ہال کے بجائے صحن میں کیے جائیں،پاکستان میں مساجد بند کرنے کی ضرورت نہیں، رجوع الی اللہ اور احتیاطی تدابیر سے کرونا وبا سے نجات پائیں گے،مساجد بند کرنے کی افواہیں پھیلانے والےانتشار چاہتے ہیں،ملک میں تمام مدارس بند ہیں اور دوبارہ تعلیمی سلسلہ رمضان المبارک کے بعد شروع ہوگا،مخیر حضرت عوام الناس کی سہولت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں،ذخیرہ اندوزوں کے خلاف حکومت سخت اقدامات کرے۔

یہ بات چیئرمین پاکستان علماء کونسل و صدر وفاق المساجد و المدارس پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی ، پیر اسد اللہ فاروق ، سید ضیا اللہ شاہ بخاری ، مولانا محمد خان لغاری ،پیر محفوظ مشہدی ، مولانا زبیر عابد ، علامہ یونس حسن،مولانامحمدشفیع قاسمی،قاضی مطیع اللہ سعیدی،علامہ طاہرالحسن،علامہ غلام اکبر ساقی،قاری جاوید اختر قادری ، مولانا محمد حنیف بھٹی،مفتی محمدعمرفاروق،مولانا محمد اشفاق پتافی،مولانا زاہد کاظمی،مولانا اسیدالرحمان سعید،مولانامحمداسلم صدیقی،مولاناعبدالقیوم فاروقی،مولاناعبدالحکیم اطہر، مولانا محمد اسلم قادری ، قاری مبشر رحیمی و دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔قائدین نےکہاہےکہ مساجد اور ان میں عبادت کرنے والوں کوکرونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے،کرونا ایسی مہلک وبا کےپھیلاؤ کو کم کرنےکےلیےسماجی رابطوں میں کمی کو بنیادی تصور کیا جارہا ہے، اسی لیے ملک بھر میں مساجد کے اندر احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل درآمد ہورہا ہے، جمعۃ المبارک کے اجتماعات احتیاطی تدابیر اور وزارت صحت کی ہدایات کی روشنی میں منظم کیے جائیں گے,عوام الناس رجوع الی اللہ کریں، احتیاطی تدابیر تو کل علی اللہ کے خلاف نہیں ہیں، اس حوالے سے شر پھیلانے والوں کی باتوں پر کان نہ دھرے جائیں کیونکہ اس وقت پوری دنیا ایک بحرانی کیفیت سے گزر رہی ہےاور سب سے بڑا چیلنج کرونا وائرس سے انسانی جانوں کو بچانا ہے، اس مقصد کے لیے پاکستان بھر کے علماء و مشائخ اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔

قائدین نے کہا کہ ملک بھر میں کل نماز جمعہ میں عربی اور اردو خطبات مختصر ہوںگے ،اردوخطبات لوگوں کو اس وبا سے بچنے کے لیے آگہی پر مشتمل ہوںگے،احتیاطی تدبیر کے طور پر مساجد کے صحن میں نماز وں کا اہتمام کیا جائے،صفوں کے درمیان فاصلہ رکھا جائےگااورنمازجمعہ کی ادائیگی سے قبل سرف یا صابن سے فرش کواچھی طرح دھویا جائے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نمازجمعہ کی ادائیگی کے لیے جب مسجد آئیں تو وضوگھر سے کرکے آئیں اور سنتیں بھی گھر پر ہی ادا کریں،مساجد کے وضو خانے اور بیت الخلاء استعمال کرنے سے گریز کریں،مصافحہ کے بجائے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا جائے،مسجد کے اندر بھی لوگوں سے میل ملاقات کے بجائے ، اللہ کا ذکر تسلسل کے ساتھ کریں،علماء و مشائخ نے ملک بھر میں عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ مریض ، بزرگ حضرات مساجد کے بجائے اگر گھر میں نماز ادا کریں تو بہتر ہو گا،پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں،اس ناگہانی صورتحال کا مقابلہ کرنےاور کرونا وائرس کے خاتمے کے لیے پوری قوم کو عزم و ہمت کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،افواہیں پھیلانے والوں پر نظر رکھیںاور بغیر تحقیق کے کسی خبر کو نہ پھیلائیں،پوری قوم رجوع الی اللہ کرے، استغفار ، آیت کریمہ ، سورۃ فاتحہ و خلاص کا ذکر ہر جگہ پر کیا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ پاکستان میں سعودی عرب والے اضطراری حالات نہیں ہیں،سعودی عرب کی حکومت اور علماء نے جو فیصلہ کیا ہے وہ مقامی حالات کے تناظر میں ہے اور حرمین شریفین کے حوالے سے جو اقدامات کیے جارہے ہیں اس پر سعودی عرب کی حکومت نے علماء اسلام سے مشاورت کے بعد فیصلے کئے ہیں،ان اقدامات کو تمام امت مسلمہ کی تائید حاصل ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -