قومی صحافت کا پوسٹ مارٹم اور واجد شمس الحسن کی کتاب ’’بھٹو خاندان میری یادوں میں‘‘

قومی صحافت کا پوسٹ مارٹم اور واجد شمس الحسن کی کتاب ’’بھٹو خاندان میری ...
قومی صحافت کا پوسٹ مارٹم اور واجد شمس الحسن کی کتاب ’’بھٹو خاندان میری یادوں میں‘‘

  

آخر کار وہ کتاب منظر عام پر آ ہی گئی جس کا بڑی شدت اور بے چینی سے انتظار تھا، اور میں کراچی سے زنوبیہ الیاس/مجاہد بریلوی سے اپنے لیے سب سے پہلا نسخہ لینے میں کامیاب ہو گیا۔ میں نے اُن سے وعدہ کیا کہ اس کتاب پر تبصرہ بھی سب سے پہلے میں ہی لکھوں گا، اور الحمدللہ میں نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا کہ 24؍فروری کو میرا اوپیڈ ’’اے لائف وِدھ بھٹوز‘‘ ڈیلی ٹائمز میں شائع ہوا۔

واجد شمس الحسن اور اُن کی فیملی سے میرے تعلقات کئی برسوں پر محیط ہیں۔ میں نے انھیں ہمیشہ اپنے استاد اور سرپرست کے طور پر پایا ہے۔ میرے لیے ان کی شخصیت کئی پہلوئوں سے مشعلِ راہ رہی ہے۔ سب سے پہلے اُن کی صحافت میرے لیے نمونہ رہی ہے۔ صحافت کے اُتار چڑھائو میں جس طرح اُنھوں نے ثابت قدمی اور استقلال کے ساتھ اپنے پیشے کے ساتھ نباہ کیا بہت کم صحافیوں کے حصے میں یہ خوبی آتی ہے۔ دراصل صحافت کو ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے عزت و شرف حاصل ہے۔ دوسرا پہلو بھٹو خاندان سے اُن کا تعلق اور اس تعلق میں استواری ہے۔ غالب کے بقول ’’وفاداری بشرط استواری، اصلِ ایماں ہے‘‘۔

کتاب میں درج بھٹو خاندان کے حوالے سے بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں صاحبِ کتاب نے مجھ سے کئی بار زبانی تذکرہ کیا تھا، لیکن بہت سی نئی باتیں ایسی ہیں جن کو پڑھ کر میری بھٹو خاندان سے ذاتی عقیدت مزید بڑھ گئی ہے۔ بہت سی باتیں میرے لیے حیرت اور پریشانی کا باعث ہیں کہ ہمارے ملک کا میڈیا کیا بتاتا اور دکھاتا ہے جبکہ اصل میں حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ چند واقعات مشتے نمونہ از خروارےکتاب میں سے ایسے درج کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں جن کے متعلق ہمارا قومی میڈیا کس قدر جھوٹ اور فریب سے کام لیتا رہا ہے۔

اس کتاب میں ذوالفقار علی بھٹو پر پاکستان توڑنے کے الزام کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ میڈیا نے کس طرح سازش سے بھٹو صاحب کی نیک نیتی کو ملک دشمنی ثابت کرنے کی کوشش کی۔ الیکشن میں بھاری اکثریت لینے کے بعد بھٹو صاحب نے شیخ مجیب الرحمن کو دعوت دی کہ مغربی پاکستان میں ہمیں اکثریت ملی ہے اور مشرقی پاکستان میں آپ کی اکثریت ہوئی ہے تو آئیں ہم مل کر پاکستان کو متحد رکھنے کا راستہ نکالتے ہیں کہ اِدھر ہم خوش رہیں اور اُدھر تم خوش رہو اور ملکی سالمیت بھی برقرار رہے۔ صوبائی خودمختاری کے تحت ہم مل کر حکومت کرسکتے ہیں۔ لیکن بھٹو صاحب کے اس بیان کو عباس اطہر نے روزنامہ آزاد لاہور میں ’’اِدھر ہم، اُدھر تم‘‘ کی سرخی لگا کر حقیقت کے بالکل برعکس بنا دیا۔ اور یوں ملک کے ٹوٹنے کا ذمہ دار بھٹو صاحب کو قرار دلوا دیا اور اس سازش کا شکار سب سے پہلے تو دائیں بازو والے ہوئے، پھر دانشور اور بائیں بازو کا ایک طبقہ بھی اس کا شکار ہو گیا۔ 

ذوالفقار علی بھٹو پر شملہ معاہدے کے سلسلے میں ڈیل کا پروپیگنڈا بھی میڈیا پر ہوا۔ اور استاد دامن جیسے عوام پسند شاعر اس پراپیگنڈے کا شکار ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہوئے ’’اے کیہ کری جانا ایں! اے کیہ کری جانا ایں! کدے شملے جاناں ایں، کدے مری جاناں ایں، جدھر جانا ایں، بن کے جلوس جاناایں، دھسا دھس جانا ایں دھسا دھوس جاناایں، اڑائی قوم دا تو فلوس جاناایں، لائی کھیس جانا ایں، کھچی دری جاناایں، ایہہ کی کری جاناایں، ایہہ کی کری جاناایں‘‘۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کے امیج کی اس قدر پرواہ تھی کہ شملہ جانے والے وفد سے جہاز میں روانگی سے قبل ایئرپورٹ پر انھوں نے کہا تھا کہ اگرچہ ہم جنگ ہار چکے ہیں لیکن بھارت پہنچ کر ہمارے رویے سے ہار کا تاثر نہیں ملنا چاہیے، اور وہاں جا کر انڈین مصنوعات کوئی نہ خریدے ورنہ یہ تاثر ملے گا کہ ہم اپنے جنگی قیدیوں کے لیے نہیں بلکہ شاپنگ کے لیے وہاں آئے ہیں۔

اسی طرح مشرف، این آر او اور محترمہ بے نظیر بھٹو بارے جو پراپیگنڈہ قومی میڈیا میں کیا گیا تھا، اس سے تاثر ملتا تھا کہ محترمہ کسی ڈیل کے تحت پاکستان آئی تھیں۔ جبکہ صورتِ حال یہ ہے کہ مشرف نے امریکن سیکرٹری کونڈو لیزا رائس اور برطانوی وزیر جیک سٹرا کے ذریعے ابوظہبی میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف کے درمیان ہونے والی وَن ٹو وَن میں ملاقات میں مشرف نے کہا کہ وہ محترمہ کو پاکستان آنے نہیں دے گا۔ اسی میں محترمہ کی بہتری ہے کہ وہ پاکستان نہ آئیں۔ اگر کسی نہ کسی طرح وہ پاکستان آنے میں کامیاب ہو بھی گئیں تو انھیں الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اور نہ محترمہ اس طرح تیسری مرتبہ وزیراعظم بن سکیں گی۔ مشرف نے لالچ دیتے ہوئے کہا کہ وہ محترمہ پر چلنے والے مقدمات ختم کر دے گا جس پر محترمہ نے صاف بتا دیا کہ انھوں نے تو مشرف کو مقدمات ختم کرنے کا نہیں کہا، جبکہ تمام مقدمات جھوٹے ہیں، اور وہ سب مقدمات کا مقابلہ کریں گی۔ اگرچہ جنرل مشرف نے محترمہ کو دھمکیوں اور لالچ کے ذریعے الیکشن سے دور رکھنے کی کوشش کی جسے محترمہ نے خاطر میں نہ لاتے ہوئے مقدمات کا سامنا کرنے اور الیکشن میں لڑنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔ ملاقات کی اندرونی سٹوری بتا کر واجد شمس الحسن نے موجودہ دور میں وزیراعظم عمران خان کے این آر او نہ دینے کا راگ الاپنے کا بھی بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ 

واجد شمس الحسن صاحب نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ذوالفقار علی بھٹو، ایٹمی صلاحیت اور بے نظیر بھٹو کے کردار پر ڈالی گئی گرد کو بھی کتاب میں صاف کر دیا ہے اور بتایا ہے کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے کون کون سے خفیہ اور عملی اقدامات کیے۔ مزید براں ذوالفقار علی بھٹو نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو نصیحت کی کہ ایٹمی صلاحیت کو کبھی بھی کسی اسلامی ملک کو منتقل نہ ہونے دینا کیونکہ امریکی پاکستانی بم تو برداشت کرلیں گے لیکن وہ “اسلامی بم” کبھی برداشت نہیں کر سکیں گے۔ ایٹمی ٹیکنالوجی سے متعلق محترمہ بےنظیر بھٹو کے ایک بیان کی حقیقت بھی واضح کی گئی ہےکہ محترمہ بےنظیر بھٹو نے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ ڈاکٹر قدیر کو امریکہ کے حوالے کر دیں گی بلکہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ ان معاملات کی انکوائری ایک پارلیمانی کمیٹی سے کرائیں گی تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔

واجد شمس الحسن کی اس کتاب کا تعارف بلاول بھٹو زرداری نے لکھا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’’واجد شمس الحسن کی اپنی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں: صحافی ، سیاسی کارکن ، ضمیر کا قیدی، سفارتکار وغیرہ، لیکن میرے لیے سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اُن کا کردار میرے خاندان کے ایک ممبر کی حیثیت سے رہا ہے۔ مجھے زندگی بھر سے انھیں جاننے کی بے حد خوشی ہے، اور مجھے ان کی عاجزی، وفاداری اور احسان نے ہمیشہ اپنا گرویدہ بنائے رکھا۔

واجد شمس الحسن میری والدہ، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے لیے ایک سہارا تھے اور ہمارے لئے بھی ان کا سہارا برقرار ہے۔ قید و بند کی صعوبتوں سے لے کر جلاوطنی اختیار کرنے تک واجد شمس الحسن نے اپنے اصولوں اور عقائد کی بہت قیمت ادا کی ہے۔ لیکن پاکستانی عوام اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے ان کے پائے استقلال میں ایک بار بھی لرزش نہیں آئی۔ واجد شمس الحسن کی طرح جمہوریت اور پاکستان کی خدمت کرنے والے بہت کم ہیں۔‘‘

میں زیادہ دیر آپ کے اور کتاب کے بیچ حائل رہنا نہیں چاہتا بلکہ میری یہ خواہش ہے کہ ہر باشعور پاکستانی جو اس ملک و قوم کے لیے ذرہ برابر بھی اپنے سینے میں درد رکھتا ہے، وہ یہ کتاب ضرور اور بالضرور پڑھے تاکہ نہ صرف یہ کہ حقائق سے پردہ اُٹھ سکے بلکہ صحافت کی راہِ پُرخار پہ ثابت قدمی سے چلنے والے ایماندار اور بے لوث صحافیوں کا وقار بلند ہو سکے۔

.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 .

   اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -