ویانا میں کورونا مریضوں کے لیے انتہائی نگہداشت یونٹو ں میں بیڈ کم پڑ گئے 

ویانا میں کورونا مریضوں کے لیے انتہائی نگہداشت یونٹو ں میں بیڈ کم پڑ گئے 
ویانا میں کورونا مریضوں کے لیے انتہائی نگہداشت یونٹو ں میں بیڈ کم پڑ گئے 

  

ویانا(اکرم باجوہ)آسٹریا میں کورونا وائرس کے کیسز میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے باعث ہسپتالوں پر بھی دباو بڑھ گیا ہے اور اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ دارالحکومت ویانا میں ہسپتالوں کے نگہداشت یونٹوں مزید بیڈز نہیں ہیں ۔ویانا جنرل ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کا معالج تھامس سٹوڈنگر خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے وفاقی دارالحکومت ویانا میں انتہائی نگہداشت کے یونٹوں کی صلاحیت کی حدختم ہوگئی ہے۔

 انتہائی نگہداشت کے ڈاکٹر اسٹاوڈرجر کا کہنا ہے کہ عام طور پر ویانا میں اے کے ایچ میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ کچھ دن پہلے ہی انہوں نے متنبہ کیا تھا کہ ویانا کہ انتہائی نگہداشت یونٹوں کی صورتحال خراب ہے،اگر انتہائی نگہداشت یونٹو میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا تو مریضوں کے معمول کے علاج کو کم کرنا پڑے گا۔

ویانا میں فی الحال ایک ہزار 834 افراد کورونا وائرس کی وجہ سے ہسپتال میں زیر علاج ہیں جن میں سے 397 افراد انتہائی نگہداشت کے یونٹوں میں زیر علاج ہیں۔ ابھی تک آسٹریا میں پانچ لاکھ آٹھ ہزار سے زائد ٹیسٹ کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ صحت حکام کے مطابق 19 مارچ تک آسٹریا بھر میں 9024 افراد کورونا وائرس کے باعث مر چکے ہیں اور چار لاکھ68ہزار 275 صحت یاب ہوچکے ہیں۔اے پی اے کی خبر کے مطابق غیر ضروری آپریشن کو ویانا کے نجی ہسپتالوں میں آوٹ سورس کیا جارہا ہے۔ ویانا ہیلتھ ایسوسی ایشن (ڈبلیو ای جی ای وی) کے مارکس پیڈریوا نے جمعہ کو کہا ہے کہ ابھی تک بڑے پیمانے پر کورونا وائرس متحرک ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -