پٹ سن کی نئی قسم گولڈن جیوٹ بہترین پیداواری صلاحیت کی حامل

پٹ سن کی نئی قسم گولڈن جیوٹ بہترین پیداواری صلاحیت کی حامل

  

فیصل آباد(اے پی پی)ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آبادکے زرعی سائنسدانوں و ماہرین زراعت نے پٹ سن کی جو قسم گولڈن جیوٹ19 متعارف کروائی ہے اسے بہترین پیداواری صلاحیت کی حامل اور میدانی و دریائی علاقوں میں کاشت کیلئے انتہائی موزوں قراردیدیا ہے۔نظامت امور کاشتکاری محکمہ زراعت فیصل آباد کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت پٹ سن کی 12 فیکٹریاں ہیں جن میں سے صرف 4 کام کررہی ہیں اور ان میں سے بھی زیادہ تر اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے ریشہ درآمد کرتی ہیں جس کی وجہ ہماری ملکی معیشت کو سالانہ کم از کم 105 ملین امریکی ڈالرز کابوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے حالانکہ مقامی طور پر پٹ سن اگا کر ملکی ضروریات کو با آسانی پوری کیا جاسکتا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ دنیا میں پیداوار اور استعمال  کے لحاظ سے کپاس کے بعد پٹ سن کا دوسرا نمبر ہے اور مصنوعی ریشے کے برعکس یہ ایک ماحول دوست فصل ہے جس کے سنہری و سفید ریشے سے بوریاں، باردانہ کا دوسرا سامان، سوتلی، رسے، قالین، چٹائیاں، ٹاٹ، غلچھے،سجاوٹی اشیا، خوبصورت بیگ و دیگر مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نشیبی اور دریائی علاقوں میں اس کی کاشت وسط مارچ سے شروع کی جاسکتی ہے تاہم ریشہ کیلئے وسط اپریل سے آخر مئی اور بیج پکانے کیلئے وسط مئی سے وسط جون تک کا وقت  انتہائی موزوں ہے۔

مزید :

کامرس -