محکمہ ماحولیات، محکمہ انڈسٹریز،متعلقہ حکام سے جواب،تفصیلی رپورٹس طلب

   محکمہ ماحولیات، محکمہ انڈسٹریز،متعلقہ حکام سے جواب،تفصیلی رپورٹس طلب

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس جواد حسن نے پولی پروپرین بیگز کے استعمال پر پابندی کی درخواست پر محکمہ ماحولیات، محکمہ انڈسٹریز اور دیگر متعلقہ حکام سے جواب اور تفصیلی رپورٹس طلب کرلی فاضل جج نے شہباز مزمل نامی شہری کی اشفاق احمد کھرل کی وساطت سے دائر اس درخواست کی مزید سماعت کے لئے چیف جسٹس سے لارجربنچ تشکیل دینے کی سفارش بھی کی ہے، فاضل جج نے حکومت اور متعلق محکموں سے استفسار کیاہے کہ پلاسٹک بیگز کے استعمال کے خلاف قانونِ سازی کا عمل کہاں تک پہنچا معاملہ انتہائی اہم اور حساس نوعیت کا ہے،درخواست گزار نے کسی بھی قسم کے پلاسٹک کی فروخت پر پابندی کی استدعا کی،لاء افسر نے عدالت کوبتایا کہ اسی معاملے پر فل بنچ فیصلہ جاری کر چکا ہے،لاء افسر نے بتایا کہ بنچ پلاسٹک بیگز کے استعمال کے خلاف قانون سازی کی ہدایت کی،لاء افسر نے قانون سازی بارے متعلقہ حکام سے ہدایات لینے کے لئے مہلت مانگی،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے ہر قسم کے پلاسٹک بیگ کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے،پابندی کے بعد پولی پروپرین بیگز کی تیاری اور استعمال شروع کر دیا گیا،پی سی ایس آئی آر لیبارٹریز نے پولی پروپرین کو بھی پلاسٹک قرار دیا ہے،اقوام متحدہ اور دیگر ماحولیاتی فورمز نے ہر قسم کے پلاسٹک استعمال پر پابندی کی سفارش کی،رپورٹ کے مطابق آئندہ چند سالوں میں ہر شہری پلاسٹک آلودگی کا شکار ہوجائیگا،حکومتی ادارے پلاسٹک آلودگی ختم کرنے کیلئے اقدامات نہیں کررہے،عدالتی حکم پر ابھی تک پلاسٹک استعمال کیخلاف قانون سازی نہیں کی گئی، عدالت سے استدعا ہے کہ پولی پروپرین بیگز کے استعمال پر بھی پابندی عائد کرنے کا حکم دے اورپلاسٹک استعمال کیخلاف جلد قانون سازی کا حکم دے۔ سرکاری وکیل نے عدالت کوبتایا کہ اس معاملے پر عدالت عالیہ کے فل بنچ نے فیصلہ کیا، بہتر ہے فل بنچ ہی اس پر سماعت کرے،جس پرفاضل جج نے چیف جسٹس سے اس کیس کی مزید سماعت کے لئے فل بنچ تشکیل دینے کی سفارش کردی۔

رپورٹس طلب 

مزید :

صفحہ آخر -