آسٹرین وزیر خارجہ کا واپڈاہاؤس کا دورہ، چیئرمین کی ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ 

    آسٹرین وزیر خارجہ کا واپڈاہاؤس کا دورہ، چیئرمین کی ترقیاتی منصوبوں پر ...

  

لاہور (سٹاف رپورٹر) آسٹریا کے وزیر خارجہ مسٹر میگ الیگزینڈرشیلن برگ نے واپڈا ہاؤس کا دورہ کیا۔ پاکستان میں متعین آسٹریا کے سفیر نکولس کیلر اور آسٹریا کا  اعلی ٰسطحی کارو باری وفد بھی ان کے ہمراہ تھا۔ دورے کا مقصد پانی اور پن بجلی کے شعبوں میں واپڈا منصوبوں میں کارو باری شراکت داری کے مواقع پرتبادلہ خیال کرنا تھا۔یورپ سے تعلق رکھنے والے کسی بھی وزیر خارجہ کا واپڈا ہاؤس کا یہ پہلا دورہ ہے۔ وفد میں آسٹریا سے تعلق رکھنے والی معروف کمپنیوں کے سینئر حکام شامل تھے۔ آسٹریا کے سفیرنے اِس دورے کوفلیگ شپ وزٹ کا نام دیا ہے۔ چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین اور اتھارٹی کے ممبرز نے واپڈا ہاس میں وفد کا استقبال کیا۔چیئرمین نے آسٹریا کے وزیر خارجہ اور تجارتی وفد کو واپڈا کے ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی۔ زیر تعمیر واپڈا منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین نے بتایا کہ واپڈا ڈیکیڈ آف ڈیمز کے ویژن کے تحت 26ارب ڈالر کی لاگت سے 10بڑے پراجیکٹس تعمیر کر رہا ہے۔ یہ منصوبے 2022 سے 2028-29 تک مرحلہ وار مکمل ہوں گے۔ اِن منصوبوں کی تکمیل سے پانی ذخیرہ کرنے کی موجودہ صلاحیت میں 11اعشاریہ 7 ملین ایکڑفٹ اضافہ ہوگا اور 11ہزار 3 سو 69میگاواٹ صاف، کم لاگت اور ماحول دوست پن بجلی پیدا ہوگی۔ واپڈا پراجیکٹس خصوصا دیا مر بھاشا ڈیم میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔اِس ضمن میں دیگر ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کی طرح آسٹرین کمپنیاں بھی انٹرنیشنل بڈنگ میں حصہ لے کر اِن مواقع سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ آسٹریا کے وزیر خارجہ نے پاکستان کی معاشی ترقی میں واپڈا کے کردار کو سراہا اور کہا کہ انہیں واپڈا کے ترقیاتی پروگرام کے متعلق جان کر بہت خوشی محسوس ہوئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آسٹریا کی کمپنیاں اِن پراجیکٹس میں پائے جانے والے کارو باری مواقع سے فائدہ اٹھا کر باہمی ترقی کے لئے واپڈا کی شراکت دار بن سکتی ہیں۔ آسٹریا کے سفیر نے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ یہ دورہ واپڈا اور آسٹرین کمپنیوں کے درمیان مضبوط تعلقات کو فروغ دے گا۔ بعد ازاں آسٹرین کمپنیوں نے اپنے اپنے اداروں کا تعارف پیش کیا اور واپڈا پراجیکٹس میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

 واپڈا ہاؤس

مزید :

صفحہ آخر -