ہمارے ابو اور امی

ہمارے ابو اور امی

  

    میرا نام لامیہ ہے اور میں دس سال کی ہوں۔سب کہتے ہیں کہ میں بولتی بہت ہوں۔بات یہ ہے کہ میں سوچتی بہت ہوں،اس لئے بولتی بھی بہت ہوں۔میں سوچ رہی تھی کہ یہ جو میرے ابا ہیں،وہی جو ہر ایک کے ہوتے ہیں۔کسی کے بابا تو کسی کے ڈیڈی اور کسی کے پپا۔یہ سب کتنے پیارے ہیں۔صبح سویرے اْٹھ جاتے ہیں پھر ہم سب بہن بھائیوں کو سکول،مدرسے،یا کالج وغیرہ چھوڑ کر اپنے کام پر چلے جاتے ہیں،جہاں وہ شام تک کام کرتے ہیں۔

    آپ نے کبھی سوچا بھی ہے کہ اتنا سارا کام وہ کیوں کرتے ہیں!یہ پیارے پیارے ابو اپنے بچوں کے لئے اتنی ساری محنت کرتے ہیں،ان کے سکول کی فیس جمع کراتے ہیں،ان کو نئی نئی کتابیں،کاپیاں،پنسل،ربر،شاپنر،کلرز،سکول بیگ اور نہ جانے کیا کیا لا کر دیتے ہیں اور روزانہ سب بچوں کو جیب خرچ کے پیسے بھی دیتے ہیں اور جب ہم کہتے ہیں تو ہم کو سیر کے لئے بھی لے جاتے ہیں اور کبھی کبھار منع کر دیں تو ہم ان سے ناراض ہو جاتے ہیں،حالانکہ ہم کو سوچنا چاہیے کہ ہو سکتا ہے،وہ تھکے ہوئے ہوں یا پریشان ہوں یا ان کو کوئی اور کام ہو۔

    یہ کتنی غلط بات ہے کہ ہم ان سے ناراض ہو جاتے ہیں اور ہاں،عید کی شاپنگ،نئے نئے کپڑے،نئے جوتے اور کتنی ساری چیزیں دلاتے ہیں تو کیا ہم کو ان کا خیال نہیں رکھنا چاہیے؟

    اب آپ کہیں گے کہ بھلا ابو کا خیال کیسے رکھیں؟یہ تو مجھے بھی نہیں معلوم تھا،میں نے دادو سے پوچھا۔انہوں نے بتایا کہ جب ابا سو رہے ہوں تو ہم شور نہ مچائیں،ہر وقت اْلٹی سیدھی ضدیں،فرمائشیں نہ کریں۔جب آفس سے یا دکان سے یا جہاں بھی وہ جاتے ہیں،کام سے واپس آئیں تو ان کو سلام کریں اور پانی پلائیں۔اگر آپ کی دادو آپ کو اور بھی کوئی طریقہ بتائیں تو آپ اس طرح بھی خیال رکھ سکتے ہیں۔

    ہماری پیاری پیاری امی،مما،اماں بھی تو ہیں۔ کبھی سوچا بھی ہے کہ یہ ہر وقت کیا کرتی رہتی ہیں!کبھی باورچی خانے میں مزے مزے کے کھانے پکا رہی ہیں تو کبھی کسی کو ہوم ورک کرا رہی ہیں۔کبھی آپی کو سلائی سکھا رہی ہیں تو کبھی خالہ،پھپو کا کام کرا رہی ہیں۔کبھی چھوٹے منو پپو کو سنبھال رہی ہیں تو کبھی خریداری کرکے آتے ہی باورچی خانے میں گھس جاتی ہیں۔ایسا کیا ہے جو ہر وقت باورچی خانے میں ہی لگی رہتی ہیں۔وجہ یہ ہے کہ ان کو اپنے بچوں سے بہت پیار ہوتا ہے۔وہ ان کے لئے مزے مزے کے کھانے بناتی ہیں۔

    کتنی بھی گرمی ہو گرم گرم پراٹھے اور روٹیاں بنا کر دیتی ہیں۔صبح ہم بھوکے نہ چلے جائیں،اس لئے صبح سویرے اْٹھ کر ہمارے لئے ناشتہ بنا لیتی ہیں پھر ابو اور سب گھر والوں کے دوسرے کام بھی کرتی ہیں۔کتنی غلط بات ہے کہ ہم پھر نخرے کریں کہ ہم کو یہ نہیں کھانا وہ نہیں کھانا،کچھ اور چاہیے۔

    ہم کو ان کا بہت خیال رکھنا ہے۔ان کی کاموں میں مدد کرنی چاہیے اور جو ہم پھیلائیں خود ہی سمیٹنا بھی چاہیے،تاکہ ہم بھی اچھے بچے بن سکیں۔

    آپ سب کا کیا خیال ہے کیا میں واقعی زیادہ بولتی ہوں،لیکن اگر میں یہ سب آپ کو نہیں بتاتی تو آپ کو کیسے پتا چلتا کہ امی اور ابو اپنے بچوں اور اپنے گھر والوں کے لئے ہی دن رات کام کرتے رہتے ہیں تو ہم کو بھی ان کا خیال رکھنا ہے۔

     میں نے جب اسے پہلی بار ا اپنے گھر دیکھا تو اس کی عمر تقریباً آٹھ یا نو سال کے درمیان تھی۔ وہ گہرے سانولے رنگ کی تھی۔مجھے اس کے چہرے میں کسی قسم کی کشش اور خوبصورتی کی رمق ڈھونڈنے سے بھی نظر نہیں آئی۔ اس کی بیوہ ماں ہمارے گھر کی صفائی ستھرائی کے لیے کام پر رکھی گئی تھی۔ وہ اس کے پیچھے پیچھے ہمارے 

مزید :

ایڈیشن 1 -