میری کتاب

میری کتاب

  

سورج کی پہلی کرن کمرے میں داخل ہوئی تو علی کی آنکھ کھل گئی اور وہ بستر سے چھلانگ لگا کر اْٹھا،کیوں کہ آج اسکول کی چھٹی تھی۔سوچا،گھر بیٹھے کیا کیا جائے۔ناشتے کے بعد باہر کھیل کود کا پروگرام بنالیا۔ٹوپی اْٹھائی اور بَلاّ ہاتھ میں لے کر کھیلنے کے لیے باہر جانے کی تیاری کی۔ابھی ٹوپی سر پر رکھنے ہی والا تھا کہ پاس ہی سے کسی کے کھانسنے کی آواز آئی۔اِدھر اْدھر دیکھا کوئی نظر نہ آیا،لیکن آواز برابر آتی رہی۔اچانک کتابوں کے شیلف(SHELF)پر سے ایک بوسیدہ کتاب گری۔

    علی نے حیرت سے دیکھا تو کتاب نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا:”میاں! دیکھتے کیا ہو،ہاتھ پکڑ کر سہارا دو۔“

    علی حیران رہ گیا اور ہاتھ بڑھا کر کتاب اْٹھائی۔پرانی کتاب نے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا:”میاں! میری زندگی کے چند روز باقی ہیں۔

    اس کے بعد مجھے ردی میں بیچ دیا جائے گا اور نہ جانے میرا وہاں کیا حال ہو گا۔میں نے بہت سے لوگوں کو علم کی روشنی سے منور کیا ہے،لیکن افسوس کہ آج میری بوسیدہ حالت کوکوئی سہارا دینے والا نہیں۔دیکھا جائے تو مجھ میں کیا نہیں ہے۔انسائیکلو پیڈیا نام ہے میرا،لیکن پرانی ہونے کی وجہ سے میری کوئی قدر نہیں ہے۔میاں! اب تو کمپیوٹر اور ٹی وی نے بچوں کا دھیان بالکل ہم پر سے ہٹا دیا ہے۔“یہ کہہ کر کتاب زاروقطار رونے لگی۔

    علی کو بہت افسوس ہوااس نے سوچا کہ اگر ہم اپنی پر انی کتابوں کو درست حالت میں رکھیں تو ہمارے بعد اور بھی لوگ انھیں ضرورت کے وقت پڑھ سکتے ہیں۔

    علی نے فوراً کتاب اْٹھائی اور جلد ساز کے پاس پہنچا۔جلد ساز کے پاس اور بھی بوسیدہ کتابیں اپنی باری کا انتظار کررہی تھیں۔جلد ساز نے علی کو دودن کے بعد آنے کو کہا۔دودن گزر گئے علی جلد ساز کے پاس گیا اور دیکھا کہ دکان پر کئی نئی کتابیں رکھی ہیں۔

    ان ہی کتابوں میں سے سیٹی کی آواز آئی اور ایک نئی کتاب نے علی کو اشارہ کیا:”پہچانا اے دوست! میں وہی انسائیکلو پیڈیا ہوں،جسے تم پرانی حالت میں چھوڑ گئے تھے۔تمھاری توجہ اور جلد ساز کی محنت سے آج مجھے نئی زندگی ملی ہے۔اب میں نئی صورت میں ہوں اور میری چمک دمک واپس آگئی ہے۔مجھے خوشی ہے کہ اب میں کار گر ہو گئی ہوں،مزید علم بانٹ سکتی ہوں۔“

    علی یہ دیکھ کر بہت خوش ہوا اور جھٹ سے کتاب کو سینے سے لگا لیا۔جلد ساز کا شکریہ ادا کیا اور اس کی اْجر ت ادا کی۔اب علی کے پاس ہر کتاب نئی تھی،کیوں کہ وہ کتابوں کی حفاظت اور ان سے محبت کرنا سیکھ گیا تھا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -