بحران کا حل، آئین کی پاسداری

بحران کا حل، آئین کی پاسداری

  

تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال تمام فریقوں سے ہوش مندی اور آئین کی پاسداری کا تقاضا کر رہی ہے۔زمینی حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی اپنی صفوں سے نکل کر کئی ارکانِ قومی اسمبلی دوسری طرف جا چکے ہیں،چند ایک نے تو اپنی ”بغاوت“ کی میڈیا پر آ کر تصدیق بھی کر دی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو تکنیکی بنیادوں پر حکومت اپنی اسمبلی کے اندر اکثریت کھو چکی ہے تاہم آئینی اور قانونی طور پر معاملہ تب ہی طے ہو گا جب قومی اسمبلی کا اجلاس ہو گا اور اُس میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی جائے گی،اصل چیلنج اس مرحلے تک بخیرو عافیت پہنچنا ہے۔اس سلسلے میں آئین کو رہنما بنایا جانا ضروری ہے،کیونکہ اس حوالے سے آئین میں سب کچھ صراحت سے بیان کر دیا گیا ہے، اپنی اپنی دور کی کوڑی لانے کی بجائے اگر آئینی حدود میں رہ کر ہر فریق اپنا کردار ادا کرے تو کوئی ایسا بحران پیدا نہیں ہو گا،جس سے پورے نظام کو خطرات لاحق ہو جائیں۔سندھ ہاؤس میں منحرف حکومتی ارکان کی موجودگی کا انکشاف ہوا تو وزیر داخلہ نے یہ کہہ کر حالات کی سنگینی کو بڑھا دیا کہ انہوں نے وزیراعظم کو سندھ میں گورنر راج لگانے کی تجویز دی ہے۔گورنر راج کے لیے آئین میں حدود و قیود متعین کر دی گئی ہیں۔ طریقہئ کار بھی بیان کر دیا گیا ہے،یہ کوئی اتنا آسان کام نہیں کہ وزیر داخلہ تجویز پیش کریں اور وزیراعظم اُس پر عملدرآمد کر دیں۔اس کے اثرات کیا ہوں گے اور سندھ میں اس کا ردعمل کیا ہو گا۔شاید اس ہیجانی فضا میں حکومت کے کار پردازان کو اِس بارے میں سوچنے کی فرصت نہیں۔سندھ ہاؤس میں مقیم حکومت کے منحرف ارکانِ اسمبلی میڈیا کے ذریعے سامنے آ چکے ہیں اور انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے وہاں قیام پذیر ہیں،کیونکہ انہیں حکومتی ردعمل سے جان کا خطرہ ہے۔اگرچہ حکومتی شخصیات کی جانب سے نوٹوں کے جہاز بھر کر لانے کے الزامات لگائے گئے ہیں اور ان ارکان کو کروڑوں روپے میں خریدنے کی سازش کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے،تاہم اس ضمن میں ابھی تک کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں لائے گئے۔مفروضوں کی بنیاد گورنر راج لگانے کی تجویز دینا کسی بھی طرح مناسب نہیں،اس سے موجودہ بحران زیادہ پیچیدہ ہو جائے گا۔ 

صورت حال ہر گذرتے دن کے ساتھ اس لیے گھمبیر ہوتی جا رہی ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر جو آئینی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے تھا،اسے لٹکایا جا رہا ہے۔اس سلسلے میں میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی حتمی تاریخ طے نہیں ہو رہی اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا روڈ میپ نہیں دیا جا رہا،سب سے بڑی ذمہ داری قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر پر عائد ہوتی ہے۔الیکشن کمیشن نے بھی کہہ دیا ہے تحریک عدم اعتماد یا وزیراعظم کے انتخاب سے اُس کا کوئی تعلق نہیں، یہ صرف سپیکر قومی اسمبلی کی ذمہ داری ہے۔جناب سپیکر نے ایک دن پہلے ایک ٹی وی چینل کو ایک ایسا بیان دیا جس نے ابہام بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے،انہوں نے کہا قومی اسمبلی کا اجلاس بُلا کر میں جتنے دن کے لیے چاہوں ملتوی کر دوں، یہ میرا اختیار ہے جسے کوئی چیلنج نہیں کر سکتا،انہوں نے تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی حکمت عملی بیان کرنے سے بھی انکار کیا۔اس میں کوئی شک نہیں سپیکر کو قومی اسمبلی کے اندر مکمل اختیارات حاصل ہیں،تاہم اُن کے اختیارت بھی آئین کے تابع ہیں، وہ ماورائے آئین کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے۔آئین میں واضح ہے کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے کتنے دن بعد اُسے اسمبلی میں پیش کیا جانا ضروری ہے،مدت کا تعین آئین میں کر دیا گیا ہے تو پھر سپیکر قومی اسمبلی یہ کیسے کہہ سکتے ہیں میں جتنے دن کے لیے چاہوں اجلاس ملتوی کر سکتا ہوں۔ اصولی طور پر سپیکر قومی اسمبلی کا کسٹوڈین ہوتا ہے وہ کسی جماعت کا کار کن نہیں رہتا،اُسے قومی اسمبلی کے معاملات پارٹی خواہشات کی بجائے آئین کی رو سے چلانا ہوتے ہیں،اس لیے اس وقت جو بحرانی کیفیت بڑھ رہی ہے،اُس سے نکالنے کی سب سے بڑی ذمہ داری جناب سپیکر پر عائد ہوتی ہے۔ان کی غیر جانبداری اور آئین پر عمل کرنے کا عہد ملک کو اس بحران سے نکال سکتا ہے۔انہیں قومی اسمبلی کے روز تحریک عدم اعتماد کے موقع پر قواعد اور قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال کرنا چاہیے۔ اُن کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ تمام ارکان اسمبلی کو ایوان کے اندر آنے کی اجازت دیں اور اگر باہر اُن کے لیے رکاوٹیں ہیں تو انہیں ختم کرنے کے لیے اپنا اختیار استعمال کریں،اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے۔ خدانخواسطہ اس حوالے سے کوئی رخنہ آیا تو ناقابل ِ تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔حکومت اور اپوزیشن کو بھی معاملات کو اس سمت میں نہیں لے جانا چاہیے جہاں سے واپسی کا راستہ ہی نہ ملے۔ ایوان کے باہر تحریک عدم اعتماد کے موقع پر لاکھوں افراد کو پہنچنے کی کال دینا غیر دانشمندانہ عمل ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس موقع پر اجتماعات کو رکوانے کے لیے دائر کی گئی درخواست کو اس بنیاد پر خارج کر دیا ہے کہ پرامن احتجاج ہر پاکستانی کا حق ہے،البتہ اس موقع پر اگر امن و امان کی صورت حال پیدا ہوئی تو اس کی ذمہ دار حکومت اور اسلام آباد کی انتظامیہ ہو گی۔ادھر پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ملک بھر سے قافلوں کو اسلام آباد پہنچنے کی کال دے دی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اس موقع پر اگر عوام میں ٹکراؤ ہوا تو اُس کی ذمہ دار حکومت ہو گی،جبکہ صورت حال یہ ہے کہ خود حکومت نے27 مارچ کو ڈی چوک اسلام آباد میں ایک بڑے جلسے کی کال دے رکھی ہے۔ دونوں طرف ایک جذباتی اور پُرجوش فضا ہے،جس پر سخت بیانات مزید تیل ڈال رہے ہیں، جمہوری ممالک میں ایسی صورت حال پیدا نہیں ہوتی، وہاں تحریک عدم اعتماد کو ایک معمول کی کارروائی سمجھا جاتا ہے،آئینی طریقہئ کار کے مطابق ایوان کا اجلاس ہوتا ہے، ارکان فیصلہ دیتے ہیں اور اسے قبول کر لیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ابھی یہ بالغ نظری شاید پیدا نہیں ہو سکی۔آئین میں سب کچھ موجود ہونے کے باوجود ہم ایسے بھٹک رہے ہیں،جیسے ہمیں راستے کا علم ہی نہ ہو۔امید کی جانی چاہیے کہ ہماری سیاسی قوتیں آئین کو مقدم جانیں گی اور ایسا قدم نہیں اٹھائیں گی جو ہمیں منزل سے کہیں دور لے جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -