ہم تو ڈوبے ہیں صنم…………؟

ہم تو ڈوبے ہیں صنم…………؟
ہم تو ڈوبے ہیں صنم…………؟

  

بابوں کی کہی باتیں ہمیشہ حقیقت بن کر سامنے آتی ہیں اور ثابت ہوتا ہے کہ وہ جو کہتے تھے،اس میں حکمت اس لئے تھی کہ تجربہ کی وجہ سے آنے والی نسل کو سمجھانا مقصود ہوتا ہے۔ایسی ہی ایک بات یہ بھی ہے”میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں،کمبل مجھے نہیں چھوڑتا“ یہ کہاوت ایک کہانی کی صورت میں ہے، جب سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے آدم زاد نے کمبل جان کر ریچھ سے جپھا ڈال لیا اور جب اسے احساس ہوا تو چیخنے لگا،ساتھی نے کہا اسے چھوڑ دو، تو جواب ملا،میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں، یہ کمبل مجھے نہیں چھوڑتا،ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہو رہا ہے اور ملکی سیاست میں  ہلچل جاری ہے،میں نے گذشتہ روز موقع پا کر سیاست پر لکھنے سے احتراز کیا کہ کرکٹ ٹیسٹ میچ کا موضوع مل گیا تھا،لیکن پتہ نہیں تھا کہ تیزی سے بدلتے حالات میں اگلے ہی روز کیا ہو جائے گا۔آج جب لکھنے بیٹھا تو خبروں کا عالم ہی اور ہے،اور جو خدشات ہیں اور میرے جیسے دوسرے معتبر حضرات محسوس کر رہے ہیں،وہ زیادہ شدت سے سامنے آنے لگے ہیں۔ اندازہ ہوتا ہے کہ ملکی سیاست تو جنون کی شکل اختیار کرتی چلی جا رہی ہے اور اگر حالات کو دانش مندی سے نہ سنبھالا گیا تو بہت بڑا تصادم ہو گا جو پاکستان کی تاریخ کا المناک ترین باب بن جائے گا۔سیاسی ہلچل تو ہمارا مقدر ٹھہری،لیکن جو اعصاب شکن ماحول ان دِنوں بنا ہے ایسا تو کبھی نہیں ہوا تھا۔اب تو لوگ یہ دُعا کر رہے ہیں کہ اللہ ان کے ان تمام نمائندں کو عقل ِ سلیم عطا فرمائے جو ان کے ووٹوں سے منتخب ہو کر ایوانوں میں پہنچے یا اونچے منصب پر فائز ہوئے۔

میں تو پرانی روایات کا قائل اور حامل ہونے کی وجہ سے اقدار پر عمل کرتا ہوں تاہم کئی بار تھوڑا  اجتناب ضروری بھی ہو جاتا ہے،میں خود کو بڑھاوا دینے کا قائل تو نہیں لیکن جب واقعات ایسے ہوں،جیسے اب ہو رہے ہیں تو پچھلا دور یاد آتا ہی رہتا ہے،میں نے اپنے صحافیانہ دور میں سابق صدر ایوب خان اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ملک گیر تحریکوں کی بطور رپورٹر کوریج کی اور اس دوران دوسری ایجی ٹیشنوں کا بھی گواہ ہوں۔میں نے پولیس تشدد سے گولی چلنے تک کے واقعات کا مشاہدہ کیا اور پھر یہ بھی دیکھا کہ اسلحہ بردار ”قومی اہلکاروں“ نے بپھرے ہجوم پر گولی چلانے سے گریز،بلکہ انکار کر دیا۔جنرل بلکہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے1958ء میں مارشل لاء لگا کر ملک پر قبضہ کیا اور پھر1962ء میں اپنی پسند کا آئین دیا اور اسی کے تحت نہ صرف حکومت کی،بلکہ بانیئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ہمشیرہ محترمہ مادر ملت فاطمہ جناحؒ سے صدارتی الیکشن بھی چھین لیا۔ یہ محترم بہت طاقتور صدر تھے، اختیارات کلی کے مالک کہ انہوں نے بنیادی جمہوریت کے نام پر جمہوریت نافذ کر کے بالغ حق رائے دہی کا حق ہی  محدود کر دیا اور صدارتی نظام نافذ کر دیا تھا، اس سب کے باوجود وہ ستائے عوام کے ملکی احتجاج کے سامنے رک نہ سکے، لوگ کہتے ہیں کہ ان میں کچھ حیا تھی تو وہ خود  اقتدار سے دستبردار ہو گئے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نوشتہ ئ دیوار پڑھ لیا اور خون خرابے سے بچے،لیکن اقتدار کی منتقلی عوام یا عوامی نمائندوں کی بجائے جنرل یحییٰ خان کے سپرد کر دی،ان کے دور میں جو ہوا وہ اب ایک تاریخ ہے۔ مجھے تو صرف یہ کہنا ہے کہ اس احتجاجی تحریک اور اس کے بعد پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کے دوران بھی خانہ جنگی اور بڑے تصادم سے گریز کیا گیا۔ذوالفقار علی بھٹو پر تو جیالوں نے بہت زیادہ دباؤ بھی ڈالا کہ وہ ان کو تحریک کا مقابلہ کرنے کی اجازت دیں، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا تھا اور اقتدار سے محروم ہو گئے،آنے والے محترم نے الزام یہی لگایا کہ تصادم روکنے کے لئے یہ ناگریز تھا۔ ابتدء میں جنرل ضیاء الحق نے یہی تاثر دیا کہ1977ء کے انتخابات متنازعہ ہو گئے ہیں اس لئے انتخابات کرا کے واپس بیرکوں میں  چلے جائیں گے، لیکن یہ وعدہ ایفا نہ ہوا کہ اعلان کردہ انتخابات میں انتخابی عمل کے دوران واضح ہو گیا تھا کہ پیپلزپارٹی پھر جیت جائے گی۔یوں بھی اگر یہی مقصود تھا تو مارشل لاء لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔ بہرحال یہ انتخابات منسوخ کئے گئے اور غیر جماعتی نظام کے تحت جمہوریت بحال ہوئی۔اس دوران بھٹو  کو پھانسی دی گئی اور جیالوں  نے جانیں قربان کیں۔تاہم ایسی صورت حال پیدا نہ ہوئی جیسی اب ہو چکی ہے۔

میں نے ان سطور میں ہمیشہ قومی مصالحت کی وکالت کی ہے کہ میرے سامنے داخلی سے زیادہ خارجی حالات ہوتے ہیں،اصولی موقف کے باوجود میں پاک فوج کا بہت بڑا مداح و خیر خواہ ہوں۔اگرچہ فوجی جرنیلوں نے ایک بار نہیں، تین بار مداخلت کی اور اقتدار پر قابض ہوئے اس کے باوجود1965ء اور1971ء کی پاک بھارت جنگوں کی کوریج کے باعث فوج کا احترام اور مقام کبھی بھی کم نہیں ہوا،لیکن موجودہ انصافی دور میں جس انداز سے فوج کے حوالے سے کنٹینر پر کھڑے ہو کر محترم حالیہ وزیراعظم/ چیئرمین تحریک انصاف نے ایمپائر کی انگلی سے لے کر ایک صفحہ تک کی بات کی اور جس انداز سے محترم وزیر داخلہ شیخ رشید نے فوج کے حوالے سے کھلم کھلا بات کی یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ حالیہ دور میں اسٹیبلشمنٹ کا نام لے کر بار بار ذکر ہوا اور بالآخر یہ وقت آ گیا کہ کہنا پڑا ”فوج کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں“ اور آج مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہے۔

چو

میری تشویش یہ ہے کہ برسر اقتدار حضرات جس انداز سے سیاست کھیل رہے ہیں،وہ ایک بڑے اور خوفناک تصادم کے خدشات پیدا کر چکا ہے،خصوصاً گزشتہ روز(جمعرات) جو کچھ ہوا وہ طرفین کی ضد ظاہر کرتا ہے،عمران خان نے جلسے کئے، 27مارچ کو ڈی چوک پر دس لاکھ حامی اکٹھے کرنے کا اعلان کیا،جبکہ اپوزیشن نے جوابی جلسوں اور لانگ مارچ کے علاوہ عدم اعتماد کا کارڈ بھی کھیلا۔ تجربہ کار کھلاڑیوں نے کپتان کی ضد اور اَنا کے سامنے ایک ایسی دیوار کھڑی کر دی کہ اب وہ اپنے تمام کروفر اور حمایت کے دعوؤں کے باوجود ایسی راہیں تلاش کرنے لگے ہیں، جو قطعاً سود مند نہیں ہیں۔جمعرات کو واضح ہو گیا کہ تمام تر دھمکیوں کے باوجود خود کپتان کے اپنے رویے اور ان کے قریبی مشیروں اور وزیروں کی وجہ سے خود ان کی جماعت سے منسلک اپنے اراکین باغی ہو گئے ہیں اور تعداد اتنی ہے کہ حقیقی معنوں میں وہ اکثریت کھو چکے،ایسے میں تو صدرِ مملکت کا فرض بنتا ہے کہ وہ وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے کہیں، چہ جائیکہ سپیکر اسد قیصر یہ اعلان کریں کہ وہ سپیکر کی حیثیت سے ریکوزیشن والا اجلاس بلا کر فوراً ملتوی کر سکتے ہیں اور ان کے اس عمل کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا،ایسا کہتے وقت وہ یہ بھول گئے کہ یہ اختیار اجلاس کی ریکوزیشن کے حوالے سے تو ہے لیکن اب تو تحریک عدم اعتماد پیش ہو چکی، اس کا فیصلہ  چودہ روز کے اندر ہونا ہے،اجلاس بلانا ان کی آئینی ذمہ داری ہے اور پھر یہ بھی لازم ہو جائے گا کہ وہ عدم اعتماد پر بھی فیصلہ کرائیں،لہٰذا ان کو ایسا کہنے سے پہلے آئینی مشورہ حاصل کرنا چاہئے تھا،اس کے علاوہ وزیر داخلہ شیخ رشید خود کو سب سے سینئر اور تجربہ کار کہتے ہیں،ان کو کیا ہوا کہ انہوں نے سندھ میں گورنر راج لگانے کا مشورہ دے دیا۔اس غلط اقدام سے تصادم لازم ہو جائے گا اور نتیجہ ملک و قوم کے حق میں بہتر نہ ہو گا۔یہ تو وہ بات ہے ”ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تم کو بھی لے ڈوبیں گے“ قوم اور ملک کے مفاد میں تو یہ ہے کہ محترم وزیراعظم اب متحدہ کی بات مان لیں اور نئے انتخابات کی طرف خود ہی پیش قدمی کریں کہ بحران ٹل سکے۔اگر کوئی ایسا فیصلہ نہ ہوا تو پھر صنم والی بات ہی ہو گی، اللہ محفوظ رکھے۔اس کالم کے مکمل ہونے سے پہلے الیکٹرانک میڈیا پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کے جارحانہ احتجاج کی خبریں سامنے آ گئی ہیں،ایسے کارکنوں کو روکنا کس کا فرض ہے؟ وہ تو اسلام آباد کے سندھ ہاؤس پر دھاوا بول کر اندر داخل ہو گئے!

مجھے بھارتی رویے پر لکھنا اور پھر سے میزائل اور اس کے پس منظر کی بات کرنا تھی، لیکن سیاسی کمبل نے جان نہیں چھوڑی۔

مزید :

رائے -کالم -