سورہئ حجرات اور موجودہ سیاسی منظر نامہ

سورہئ حجرات اور موجودہ سیاسی منظر نامہ
سورہئ حجرات اور موجودہ سیاسی منظر نامہ

  

موجودہ سیاسی منظر نامے میں ایک چونکا دینے والی بہترین بات چودھری شجاعت حسین نے کہی ہے جو ایک سیاسی رہنما ہونے کے ناتے  بہت حیرت افزا بھی ہے اور خوشگوار بھی جب کہ ہر طرف چہ میگوئیوں، الزام تراشیوں، قیاس آرائیوں، بدگمانیوں  نے ساری فضا کو دھندلا رکھا ہوا ہے۔انہوں نے سورہئ حجرات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم صاحب کو مشورہ دیا کہ اللہ نے قرآن میں ایک دوسرے کو برے القاب سے بلانے پر تنبیہ فرمائی ہے اس لئے اس سے گریز کریں جو بہت مناسب اور برمحل ہے۔اس سورہ کی آیت نمبر گیارہ میں تین بنیادی اخلاقی برائیوں کی بات کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے  ایک دوسرے کا مذاق مت اڑاؤ،ایک دوسرے پر عیب مت لگاؤ، اور کسی کو برے لقب سے مت پکارو۔اب اگر اس آیت مبارکہ کی روشنی میں موجودہ سیاسی حالات کا جائزہ لیں تو ہماری سیاست کی پوری تاریخ انہی اخلاقی برائیوں کے گرد گھومتی نظر آئے گی۔ سیاسی قیادتوں نے خود کواور عوام کو اسی طرز سیاست اور گفتگو کا عادی بنا لیا ہے، جس کے بغیر تقریر میں جان ہی نہیں پڑتی۔

عدم اعتماد کی تحریک کا اعلان ہوتے ہی ملک بھر میں جلسے جلوس اور مارچ کا بازار گرم ہو چکا اور الیکشن جیسی صورت حال پید اہوگئی ہے۔وزیراعظم بھی عوامی اجتماعات میں اپوزیشن پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں اور اپوزیشن بھی  ہر صورت عدم اعتماد کی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کروانے کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہی ہے۔ صورت حال کا ایک غیر جانبدار کی حیثیت سے مشاہدہ کریں تو اس بات سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وزیراعظم عمران نے خان نے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان اور  امت مسلمہ کا مقدمہ جس جرات اور بیباکی سے لڑا ہے اس کی مثال سابقہ قیادتوں،بلکہ مسلم ممالک کی دیگر قیادتوں  میں ڈھونڈنا بہت مشکل ہے جس کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں ایک مقبول مسلم لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔دنیا بھر کے سربراہان مملکت سے ملاقاتیں اور بیرون ممالک دوروں میں قومی لباس زیب تن کرنا بھی ان کی بلا شبہ ایک بہت بڑی انفرادیت ہے،لیکن اسی تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو داخلی اعتبار سے ملکی حالات شروع دن سے  ہی بے  قابو دکھائی دئیے ہیں، جنہیں کسی بھی مرحلے پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔ عام آدمی کی زندگی پچھلے چار سالوں میں کتنی اذیت اور مشکلات کا شکار ہو گئی ہے اس کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔

اس صورت حال میں ایک شخص جو خارجی اعتبار سے اس قدر کامیاب رہا ہے اسے کون سی قوتیں ہیں جو اندرونی طور پر ناکام دیکھنا چاہتی ہیں یہ سوال بہر حال بہت معنی خیز ہے۔معاشی عدم استحکام کی تیز ترین  لہر میں معاشرے کو ایک قوم بنانے کا خواب کیسے شرمندہئ تعبیر ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف ان کے مقابلے میں وہ لوگ اکٹھے ہوئے ہیں، جو  سیاسی طور پر ایک دوسرے کے بدترین مخالف رہے ہیں۔ اب اس اتحاد کی بات کریں تو اس میں وہی زرداری صاحب  پیش پیش ہیں، جنہوں نے کچھ عرصہ قبل اپوزیشن کے غبارے سے  یہ کہہ کر عین ا س وقت ہوا نکال دی تھی جب وہ خود کو فتح کے بہت قریب سمجھ رہے تھے کہ پہلے نواز شریف کو  واپس بلائیں پھر تحریک آگے بڑھائیں گے،لیکن حیرت ہے کہ  ان کی یہ شرط تو پوری نہیں ہوئی، لیکن اب وہ خود تحریک کے روح رواں بنے ہوئے ہیں جو اس سیاسی کھچڑی کے ابال کا  اہم پہلو ہے، اور دیگر جماعتوں کا ان کے ٹریک ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے بھی اعتماد کر لینا ضرور کسی پس پردہ کہانی کا  پیش خیمہ لگتا ہے۔ادھرصرف ایک اپنی ہی سیٹ جیت کر وزیر داخلہ بننے والے شیخ صاحب مرکز اور صوبے میں نمائندگی رکھنے والی جماعت کو طعنے دے رہے ہیں کہ چند سیٹوں پر وزارت اعلیٰ کا مطالبہ کر کے بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔مولانا فضل الرحمن عرصہ دراز بعد بہت جارحانہ اننگز کھیل رہے ہیں کہ پہلی بار انہیں گراؤنڈ سے باہر بیٹھنا پڑا ہے، جبکہ وہ ہمیشہ بیٹنگ کریز پر ہی  رہنا پسند کرتے ہیں۔ اگر وزیراعظم انہیں جلسوں میں  برے لقب سے مخاطب کر رہے ہیں تو وہ بھی انہیں عرصہ دراز سے یہودی ایجنٹ کہہ کر بہتان باندھتے رہے ہیں۔ میاں شہباز شریف ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر ہونے کے باوجود بطور اپوزیشن لیڈر وہ فعال اور جاندار کردار ادا نہیں کر سکے، جس کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہوتے ہوئے ان  سے توقع کی جا رہی تھی، جس کی وجہ شائد  ان کے گرد بنے گئے ان کیسز کا جال بھی ہے، جس میں وہ بری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔

چولہے پر رکھی ہوئی اس سیاسی کھچڑی  کے ابال میں چھوٹی جماعتوں کا کردارہمیشہ کی طرح ایک بار پھر بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ وہ اپنا وزن کس پلڑے میں رکھتی ہیں۔دونو ں فریقین کے بظاہر اطمینان سے صورت حال کی کوئی حقیقی تصویر کھینچنا قبل از وقت ہے۔ اسلام آباد میں عوام الناس کے بڑے بڑے اجتماعات کے اعلانات کسی بھی طرح خوش آئند  نہیں کہے جا سکتے۔اس ساری منظر کشی میں اگر واقعی اپوزیشن اپنی تحریک میں جان ڈالنا چاہتی ہے تو اسے میاں نواز شریف کو واپسی  کے لئے  فوری آمادہ کرنا چاہئے جو اس وقت بھی فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔کشیدگی کے اس ماحول میں بلاول کی ”کانپیں ٹانگنے“ والے جملے نے خوب ماحول بنایا اور سوشل میڈیا باقاعدہ کشت زعفران بنا رہا۔سیاست میں داؤ پیچ کی اہمیت اپنی جگہ،سیاسی پارٹیوں کی ثابت قدمی آخری دم تک سوالیہ نشان سہی، ارکان کی چھپن چھپائی اور خرید و فروخت کے دعوے اور الزامات بجا، لیکن بہر حال یہ اعصاب کی جنگ ہے اور ایسی صورت حال میں  سپورٹس مین کا پلڑا ہی ہمیشہ بھاری رہتا ہے،لیکن بات  چوہدری شجاعت صاحب کی سورہئ حجرات کی طرف توجہ دلانے سے شروع ہوئی تھی اسی پہ ختم کرتے ہیں کہ کیا پاکستانی سیاست سے ہم  قرآنی حکم کے مطابق بہتان بازی، الزام تراشی،برے القاب اور بدگمانیوں کو نکال کر اپنا سیاسی وجود قائم رکھ سکتے ہیں ……؟  

مزید :

رائے -کالم -