لفظی دنگل سے اصل دنگل کی طرف

لفظی دنگل سے اصل دنگل کی طرف
لفظی دنگل سے اصل دنگل کی طرف

  

قومی سیاست دھندلی ہی نہیں،بلکہ گری ہوئی نظر آ رہی ہے ہمارے ملک میں ایک حلقہ ایسا بھی ہے جو سیاست دانوں اور ان کی سیاست کو قومی مفادات کے خلاف تصور کرتا ہے،پھر پارلیمانی جمہوریت کی بجائے بااختیار صدارتی نظام کے حمایتی بھی موجود ہیں،فوجی حکمرانی کے حق میں باتیں کرنے والے بھی دیکھائی دیتے ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ یہ تینوں طرزِ حکمرانی یہاں پاکستان میں آزمائے جا چکے ہیں۔ جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان،جنرل ضیاء الحق اور پھر جنرل مشرف کا فوجی حکمرانی کا تجربہ بھی ہمارے سامنے ہے پھر ہم جنرل ایوبی صدارتی نظام، جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کا بااختیار جمہوری اور کسی حد تک صدارتی نظام بھی دیکھ چکے ہیں۔پارلیمانی جمہوریت کا تجربہ بھی ہمارے سامنے ہے۔1973ء کے آئین کے تحت پارلیمانی جمہوریت اور پھر اسی آئین کے تحت موجودہ ”مخلوط طرزِ حکمرانی“(Hybrid) کا تجربہ بھی دیکھ چکے ہیں، ہر ایک طرزِ حکمرانی کے محاسن اور کمزوریاں واضح ہو چکی ہیں لیکن ایک بات پر سب کا اتفاق پایا جاتا ہے کہ پاکستان جن صوبائی اکائیوں کا نام ہے ان اکائیوں کو متحد و منظم رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ کسی آئین پر متفق ہوں،خوش قسمتی سے ہمارے پاس ایک آئین (آئین1973ء) موجود ہے جس پر تمام اکائیاں متفق ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ جب بھی یہاں فوجی آمریت قائم ہوئی تو وہ بھی اپنے استحکام واستقرار کے لئے ”عوامی امنگوں“ کی باتیں کرتے رہے حتیٰ کہ فوجی آمریت بالآخر جمہوری حکمرانی کے قیام پر منتج ہوئی۔ہر دفعہ ہم بالآخر آئین اور جمہور کی حکمرانی کی طرف بھی لوٹ کر آئے ہیں۔

ہمارا موجودہ نظام،مخلوط طرزِ حکمرانی سردست کامیاب نظر نہیں آ رہا ہے اس کی بہت سی وجوہات ہیں،لیکن سب سے بڑی وجہ لائی جانے والی حکمران قیادت کی ناکامی اور نااہلی ہے،جس کے باعث عامتہ الناس میں بے چینی اور بے یقینی پائی جاتی ہے، قومی معیشت پر شدید بوجھ ہے عوام میں معیشت کے حوالے سے شدید اضطراب پایا جاتا ہے،سیاسی قیادت کا ایک دنگل برپا ہے متحدہ اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم کے خلاف”تحریک عدم اعتماد“ کے پیش کئے جانے کے بعد معاملات میں بے چینی و اضطراب پڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔معاملات پر بے یقینی کی دھند چھائی ہوئی ہے اس وقت طاقت کے تین مراکز نظر آ رہے ہیں۔سب سے موثر اور طاقتور گروپ حکمران جماعت کے باغیوں پر مشتمل ہے جو سندھ ہاؤس میں ملا ہے اس گروپ کے کچھ اراکین نے کھل کر اپنی حکمران جماعت کے طرزِ عمل و فکر پر تنقید کی ہے ویسے سننے میں آ رہا ہے کہ حکمران جماعت کے کچھ اراکین مسلم لیگ(ن) اور کچھ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ رابطوں یا ”محفوظ ہاتھوں“ میں بھی ہیں۔حکمران جماعت کے باغیوں پر مشتمل یہ گروہ تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرانے میں کلیدی اہمیت حاصل کر چکا ہے۔دوسرا گروہ مسلم لیگ(ق) کی شکل میں حکومتی اتحادیوں پر مشتمل ہے،جس میں مسلم لیگ(ق) کے ساتھ ساتھ،ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور بی اے پی کے اراکین پارلیمان شامل ہیں۔ چودھری پرویز الٰہی دو جہتی پالیسی کے تحت معاملات کو لے کر چل رہے ہیں ایک طرف وہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ ”مشترکہ لائحہ عمل“ اختیار کرنے کے لئے سلسلہ جنبانی کر رہے ہیں انہیں اپنی قیادت میں اکٹھا کرنے اور متحدہ موقف اپنانے کے لئے مستعد ہیں۔دوسری طرف وہ اپوزیشن کے ساتھ بھی بھاؤ تاؤ کر رہے ہیں۔

پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سمیت وفاقی اور صوبائی وزارتوں کے حصول کے لئے مصروفِ عمل ہیں ان کی سرگرمیاں کبھی بلند آہنگ نظر آتی ہیں اور کبھی ڈوبتی ہوئی لگتی ہیں۔تیسرا بڑا طاقت کا مرکز آصف علی زرداری چلا رہے ہیں ان کی ساری سرگرمیاں ابھی تک تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لئے  ہیں انہوں نے بڑی شاندار حکمت عملی کے تحت نہ صرف حکمران جماعت کے باغیوں کو اپنی چھتری تلے جمع کر دکھایا ہے،بلکہ حکمران اتحادیوں کے ساتھ سلسلہ جنبانی قائم کر کے انہیں بھی حکومت کے خلاف اکٹھا کرنے کی کوشش کر دکھائی ہے۔اگر شخصی اعتبار سے دیکھیں تو زرداری صاحب ہر دو صورتوں میں اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔معاملات جس انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں،حکمران معاملات کو جس انداز میں لے کر چل رہے ہیں اس سے معاملات تشدد اور ہلاکت کی طرف جاتے نظر آ رہے ہیں، حکومتی ناکامی کی طرف جاتے نظر آ رہے ہیں۔ اپوزیشن نے تحریک جمع کرا کے سیاسی سمندر میں ایک طوفان برپا کر دیا ہے، ہرآنے والا دن معاملات کو بگاڑ کی طرف جاتا نظر آ رہا ہے حکمرانوں کی بے بسی نظر آ رہی ہے، بوکھلاہٹ نظر آ رہی ہے، اپوزیشن قد آور اور مضبوط دکھائی دینے لگی ہے،جس کا بھاری کریڈٹ آصف علی زرداری کو جاتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ تو احوالِ واقعی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی نظر آنے لگی ہے۔

دوسرا ذرا ایک فرضی منظر سامنے لاتے ہیں کہ آصف علی زرداری نواز شریف، مسلم لیگ(ن) کے ساتھ سی مسئلے پر اختلاف کے باعث، تحریک عدم اعتماد سے علیحدگی کا اعلان کر دیتے ہیں تو اپوزیشن کی کیا صورت حال ہو گی؟ سردست یہ ایک فرضی منظر ہے،کیونکہ آصف علی زرداری ایک بار پھر ثابت کر چکے ہیں کہ وہ”ایک زرداری سب پر بھاری“ کامیاب سیاست دان ہیں،انہوں نے جو کچھ کرنا تھا ایک بار پھر ثابت کر چکے ہیں۔مہربانوں کے سامنے سرخرو نظر آ رہے ہیں۔بہرحال یہ فرضی منظر کشی ہے،جبکہ صورت حال یہ ہے کہ حکمران جماعت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے حکمران قیادت دشنام طرازی پر اتر آئی ہے جو بوکھلاہٹ کا کھلا اظہار ہے۔شیخ رشید کی طرف سے سندھ میں گورنر راج کی تجویز اسی بوکھلاہٹ کا اظہار ہے ویسے تو اسی طرح کے مشیروں نے حکومت کو اس مقام تک پہنچایا ہے کہ اتحادی بھی انہیں چھوڑتے جا رہے ہیں اور پارٹی کے اپنے اراکین بھی عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ہمارے وزیراعظم ذہنی طور پر ابھی تک کرکٹ کے میدان سے باہر نہیں نکلے ہیں وہ باؤلنگ کی باتیں کر رہے ہیں۔کوئی سنجیدہ حرکت یا طرزِ فکر ان کی طرف سے دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔سیاست میں بدکلامی اور تشدد کے فروغ کے بعد اب معاملات کو ڈی چوک میں حل کرنے کی باتیں سیاسی دیوالیہ پن کا واضح ثبوت ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کا کھیل اسمبلی میں کھیلا جانا ہے۔عمران خان صاحب کی حکومت کا فیصلہ عوام نے نہیں،بلکہ عوامی نمائندوں نے کرنا ہے،آئین کے مطابق ہونا ہے لیکن وہ اسمبلی کی بجائے ڈی چوک میں فیصلہ کرنے پر تلے نظر آ رہے ہیں،ہر آنے والا دن نئی نئی خبریں لا رہا ہے، انکشافات ہو رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ تشدد کے امکانات بھی بڑھتے چلے جا رہے ہیں،لفظی تشدد تو پہلے ہی دنگل کی شکل اختیار کر چکا ہے اب ہم اصلی دنگل کی طرف جاتے نظر آ رہے ہیں۔اللہ خیر کرے

مزید :

رائے -کالم -