حکومت کا منحرف اراکین کیخلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ، شوکاز نوٹس بھی جاری، 7روز میں جواب طلب سندھ میں گورنرراج لگانے پر اتفاق نہ ہو سکا

حکومت کا منحرف اراکین کیخلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ، شوکاز نوٹس ...

  

        اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں ہارس ٹریڈنگ کے خلاف صدارتی ریفرنس لانے فیصلہ کیا گیا۔  سپریم کورٹ کے 2018 کے فیصلے کی روشنی میں ہارس ٹریڈنگ کے خلاف صدارتی ریفرنس لایا جائے گا۔ عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں دیگر آئینی اور قانونی آپشنز پربھی غور کیا گیا، مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان اور اٹارنی جنرل نے وزیراعظم عمران خان کو بریفنگ دی۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف قانونی کارروائی کے حوالے سے مشاورت اور آئندہ کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔تحریک انصاف نے منحرف اراکین کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ ایسے اقدامات کریں گے کہ مستقبل میں کسی کو ہارس ٹریڈنگ کی جرات نہ ہو۔  سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے بھرپور عزم کا اظہار کیا گیا۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق آرٹیکل63 اے کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ میں ریفرنس فائل کریں گے، عدالت عظمی میں آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس فائل کیا جائیگا۔تحریک انصاف کے اہم مشاورتی اجلاس میں وزیر داخلہ شیخ رشید، وزیراطلاعات فواد چودھری کے علاوہ اسدعمر سمیت دیگر وزرا نے شرکت کیوزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے سیاسی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں منحرف پارٹی اراکین اور اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں عمران خان نے منحرف اراکین کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف عامر کیانی اور مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کو قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا منحرف اراکین کے خلاف ایسے اقدامات کریں گے کہ مستقبل میں کسی کو ہارس ٹریڈنگ کی جرات نہیں ہو گی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 27 مارچ کے جلسے میں قوم تبدیلی کے ساتھ نظر آئے گی۔ذرائع کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا یہ چاہے جتنا بھی پیسہ لگا لیں ان کا مقابلہ کروں گا، یہ لوگ مائنس ون چاہتے ہیں ایسا کسی صورت نہیں ہو سکتا، شکر ہے یہ مطالبہ کر رہے ہیں اس سے ہم اور اوپر جائیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں شریک شرکاء  کی اکثریت نے سندھ میں گورنر راج لگانے کی مخالفت کر دی۔ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ نے گورنر راج کی سمری پیش کی، شیخ رشید سمیت دو وفاقی وزرا نے گورنر راج کی حمایت کی جبکہ اکثریت کی رائے تھی کہ گورنر راج لگانے سے قانونی پیچیدگیاں ہوں گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اکثریت کی رائے تھی کہ گورنر راج سے معاملات مزید خراب ہو سکتے ہیں جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے سندھ میں گورنر راج  نافذ کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے معاملے پر مزید غور کی ہدایت کر دی۔فواد چوہدری کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ کیا ایسے ممبران جو اپنی وفاداریاں معاشی مفادات کی وجہ سے تبدیل کریں ان کی نااہلیت زندگی بھر ہو گی یا انھیں دوبارہ انتخاب لڑنے کی اجازت ہو گی؟ سپریم کورٹ سے درخواست کی جائے گی کہ کے اس ریفرنس کو روزانہ کی بنیاد پر سن کر فیصلہ سنایا جائے۔وفاقی وزیر نے مزید لکھا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آرٹیکل 63-A کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 186کے تحت ریفرنس فائل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے رائے مانگی جائے گی کہ جب ایک پارٹی کے ممبران واضح طور پر ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہوں اور پیسوں کے بدلے وفاداریاں تبدیل کریں تو ان کے ووٹ کی قانونی حیثیت کیا ہے۔حکومت نے منحرف ارکان کی نااہلی سے متعلق آئین کے آرٹیکل 63اے کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کر دیا۔وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ سپریم کورٹ سے رائے مانگی جائیگی کہ جب ایک پارٹی کے ممبران واضع طور پر ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہوں اور پیسوں کے بدلے وفاداریاں تبدیل کریں تو ان کے ووٹ کی قانونی حیثیت کیا ہے؟   سپریم کورٹ سے درخواست کی جائیگی کے اس ریفرینس کو روزانہ کی بنیاد پر سن کر فیصلہ سنایا جائیدوسری طرف سندھ ہاؤس میں موجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف رہنماؤں کو پارٹی کی طرف سے شوکاز نوٹس جاریکر دیئے گئے ہیں جس میں ان سے سات روز کے اندر جواب طلب کیا گیا ہے  ان نوٹسز پر پارٹی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے دستخط کئے۔اسلام آباد میں وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ سندھ ہاؤس میں موجود منحرف اراکین کو شو کاز نوٹس دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیرصاحب پگاڑا نے حکومت کی سپورٹ کا واضح اعلان کیا ہے، فہمیدہ مرزا نے بھی سپورٹ کا اعلان کیا ہے، ہماری سیاست نہیں کہ کسی ممبر کو جا کر ڈرایا جائے، ایک سے زائد ممبران نے رابطے بھی کیے ہیں۔ مسلم لیگ کے مارچ میں جتنے بندے آنے ہیں ان کیلئے کھانے کا بندوبست کرنا مشکل نہیں ہوگا۔اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سندھ میں گورنرراج کا ارادہ تھا نا ہے، سندھ میں گورنرراج کی ضرورت ہی نہیں، ماضی کے تجربات کا جائزہ لیا، بلاول بھٹو، وزیراطلاعات سندھ سعید غنی پریشان نہ ہوں۔ یہ کہنا لوگوں کوجانے نہیں دیں گے محض پروپیگنڈا ہے۔ ہم عدم اعتماد کا مقابلہ کریں گے، جمہوری اندازمیں عدم اعتماد کوشکست دیں گے۔وائس چیئر مین پی ٹی آئی نے نرم لہجہ اپناتے ہوئے اراکین سے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ایم این ایز جو مختلف جگہوں پر ہیں،ان میں کچھ سندھ ہاؤس میں بھی ہیں، ہمارے ایم این ایز سمجھدار لوگ ہیں، سیاسی لوگ ہیں، ہمارے ایم این ایز جانتے ہیں قانون کیا کہتا ہے، آئین کیا کہتا ہے، ہمارے لوگ اگر ٹھنڈے دل سے ازسرنو جائزہ لیں تو شکوے دور ہوسکتے ہیں، کسی مخالف کی گود میں بیٹھ کر آپ اپنا مستقبل نہیں سنبھال سکتے۔وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ سندھ ہاؤس میں لوگوں کوقید کیا گیا ہے، ہم سمجھتے ہیں انہیں رہا کیا جائے اورآزادانہ فیصلہ کرنا چاہیے، سپریم کورٹ سے پوچھ لیا ہے، آئین ہارس ٹریڈنگ کی اجازت دیتا ہے یا نہیں، سپریم کورٹ کی تشریح کے مطابق آگے چلیں گے۔ شوکازنوٹس کا پراسس علیحدہ ہے، سپیکر ایک طرف ڈس کوالیفائی، دوسری طرف سپریم کورٹ تشریح کردے گا۔ اجلاس کب بلانا یہ سپیکر صاحب کا اختیارہے، رانا ثنا اللہ 25 مارچ کوآئیں انہیں پانی وغیرہ پلائیں گے، چاول کی دیگوں کا بندوبست اسد عمر کر دیں گے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں گورنررول ایک آپشن ہے، گورنررول آپشن پرفی الحال اس پرعمل نہیں کریں گے،27مارچ جلسے کی بھرپورتیاریاں جاری ہیں، 27مارچ کوپاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہونے جارہا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -