فضل الرحمن کی شہباز، زرداری سے ملاقاتیں، تحریک عدم اعتماد پر پیشرفت کا جائزہ 

  فضل الرحمن کی شہباز، زرداری سے ملاقاتیں، تحریک عدم اعتماد پر پیشرفت کا ...

  

        اسلام آباد (نیوزایجنسیاں)جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری سے ان کی رہائش گاہوں پر ملاقاتیں کیں۔ تفصیلات کے مطابق ملاقاتوں میں دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال اور وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اہم پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے شہباز شریف سے کہا کہ ووٹنگ والے دن جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کو ملک بھر سے اسلام آباد پہنچنے کا کہا گیا ہے۔ ہم حکومتی اوچھے ہتھکنڈوں کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا حکومت بوکھلا چکی ہے ان کے اپنے اتحادی ان کو چھوڑ چکے ہیں جبکہ دو درجن سے زائد پی ٹی آئی کے اراکین بھی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کا بھرپور ساتھ دیں گے۔ انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کو رشوت دے کر اپنا ہم خیال بنایا جارہا ہے بلکہ اراکین اسمبلی عمران خان کی آمرانہ سوچ سے تنگ آچکے ہیں۔ عمران خان کو عزت دینا نہیں آتی جسکی وجہ سے لوگ ان سے ناراض ہیں اور انہوں نے از خود ہی اپوزیشن کے ساتھ رابطہ کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے انہیں مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں سے ہونیوالی ملاقات کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان زرداری ہاؤس میں ملاقات ہوئی جس میں وزیراعظم کیخلاف مجوزہ تحریک عدم اعتماد اور ملک کی حالیہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیاگیا۔

فضل الرحمن ملاقات 

اسلام آباد (آئی این پی)مسلم لیگ (ن)  کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے کہاہے کہ عمران خان کو آئینی اور سیاسی طریقے سے الگ نہ کیا گیا تو پاکستان کا وجود خطرے میں  رہے گا، یہ میری نہیں بائیس کروڑ عوام کی خواہش ہے کہ  وزیراعظم عمران خان کو جانا چاہیے، عوام کی رائے ہے کہ حکومتی اتحادی اپوزیشن کے ساتھ مل کر تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنائیں، عمران خان کو اپنی عزت، وعدوں اور دعوؤں کا کوئی پاس نہیں،تحریک عدم اعتماد کی کامیابی  کے بعد وزیر اعظم کے امیدوار کے  نام کاحتمی فیصلہ قائد مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف کرینگے ،بلاول بھٹو زرداری  اور مولانافضل الرحمان کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے لئے اپنا نام پیش کرنے پر  شکریہ ادا کرتا ہوں، اپوزیشن جماعتوں کو عوام کو عمران خان سے نجات دلانے کی  جدوجہد میں جلد   کامیابی نصیب ہو گی،ہمیشہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہوں، ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں کہ عمران خان نے کرپشن کی ہے اور اس پر مستقبل میں آئین و قانون اپنا راستہ خود لے گا۔جمعہ کو صدر مسلم لیگ (ن) میاں شہباز شریف نے نجی ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کا نفاذ اس وقت ممکن ہوگا جب تک کسی ممبر نے اپنے ضمیر کی آواز سنتے ہوئے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں حصہ لیا ہو۔ 63 اے پر عمل درآمد کے لئے کوئی وجہ لازمی ہونی چاہیے ابھی تک کوئی وجہ سامنے نہیں آئی ہے اس کا اطلاق بھی نہیں ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی اپنی عزت و وقار پر سمجھوتہ کر لیا اور وہ جو بیانات دے رہے ہیں وہ سپیکر قومی اسمبلی کی حیثیت سے نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے کارکن کی حیثیت سے دے رہے ہیں۔ سپیکر نے پارلیمان کی عزت و تقاضے کے منافی اقدامات اٹھائے ہیں جب کہ انہوں نے پارلیمانی روایات کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ سپیکر اسمبلی کے بارے میں پہلے میری رائے اچھی تھی لیکن اب ان کا اللہ بھلا کرے۔ شہباز شریف نے کہا کہ سندھ ہاؤس میں موجود تحریک انصاف کے ممبران نے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا ہے ان پرکسی نے دباؤ نہیں ڈالا اور نہ  ہی مجبور کیا جب کہ پارلیمانی سیاست میں لابنگ اور کنوینسنگ کرنا ہر کسی کا حق ہے۔ یہاں تک کے ایک امیدوار مخالف سے بھی ووٹ مانگنے جاتے ہیں۔ اپوزیشن اپنا آئینی اور قانونی حق استعمال کر رہی ہے جب کہ پی ٹی آئی کے ممبران خود قسمیں اٹھا رہے ہیں پیسے لینے کا کوئی شائبہ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں لوگ پی ٹی آئی کے ٹکٹ لینے سے ایسے توبہ کرینگے  جیسے کسی گناہ سے توبہ کرتے ہیں یہاں تک کہ اگر انہیں پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے ساتھ پرائز بانڈ بھی ساتھ دیا جائے تب بھی وہ انکاری ہو جائینگے۔ صدر مسلم لیگ(ن) نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت جاری ہے اور ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ مسلم لیگ (ق) ایک الگ جماعت ہے اور وہ اپنے فیصلے آزادانہ طور پرکرتی ہے  جب کہ ایم کیو ایم کے ساتھ بھی پی ڈی ایم جماعتوں کا براہ راست رابطہ ہے اور اس معاملے میں فضل الرحمان ان سے بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی اتحادی جماعت کے ساتھ بات چیت گارنٹی کی بات نہیں ہوئی ہے۔ دوسری جماعتوں نے اپنا فیصلہ خود کرنا ہے جب کہ مائنس ون کے معاملے میں وضاحت بھی وہی لوگ کرینگے جنہوں نے اس حوالے سے بیان دیا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ اگر عمران خان کو آئینی اور سیاسی طریقے سے الگ نہ کیا گیا تو پاکستان کا وجود خطرے میں ہے اور یہ میری نہیں بائیس کروڑ عوام کی خواہش ہے کہ عمران خان کو جانا چاہیے۔ عوام کی رائے ہے کہ حکومتی اتحادی اپوزیشن کے ساتھ مل کر تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اپنی عزت، وعدوں اور دعوؤں کا کوئی پاس نہیں ہے عمران خان اپنے انا میں ڈوبے ہوئے محسن کش اور احسان فراموش شخصیت ہیں۔ 

اپوزیشن لیڈر

مزید :

صفحہ اول -