روس یوکرین جنگ، اردوان کی پیوٹن کو پھر ثالثی کی پیشکش

  روس یوکرین جنگ، اردوان کی پیوٹن کو پھر ثالثی کی پیشکش

  

        کیف، انقرہ، واشنگٹن، بیجنگ، ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) یوکرین پر روسی فوج کے حملے تین ہفتے بعد بھی جاری ہیں۔ ماریوپول نوے فیصد تک تباہ ہو گیا۔اقوام متحدہ کے مطابق اب تک 30 لاکھ سے زائد افراد یوکرین سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ نیٹو کے رکن ملک چیک ری پبلک نے مزید یوکرائنی مہاجرین کو لینے سے انکار کر دیا۔ چیک وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اب تک 2 لاکھ 70 ہزار یوکرینی چیک ریپبلک آچکے ہیں۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ہم مزید مہاجرین کو نہیں سنبھال سکتے۔ادھر امریکی ایوان نمائندگان نے روس اور بیلاروس سے تجارتی تعلقات معطل کرنے کا بل منظور کر لیا۔ بل کے حق میں 424 جبکہ مخالفت میں صرف 8 ووٹ پڑے۔پیٹل ہل میں خطاب کرتے ہوئے بائیڈن نے چین کو بھی دھمکی دی کہ روس کی فوجی مدد پر چین کو بھی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔دوسری طرف روسی صدر ولادی میرپیوٹن نے اعتراف کیا ہے کہ پابندیوں سے روسی معیشت کو نقصان پہنچا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب ڈرنے کا وقت چلا گیا، پابندیوں کے بعد نئے تجارتی مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ترک صدر نے روس اور یوکرین کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کر دی۔ پیوٹن سے ٹیلیفونک گفتگو میں رجب طیب اردگان کا کہنا تھا کہ وہ ترکی میں روسی اور یوکرینی صدور کی ملاقات کرانے کیلئے تیار ہیں جبکہ یوکرینی صدارتی ترجمان کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ امن معاہدے کیلئے مزید کچھ دن لگ سکتے ہیں۔مزید برآں امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ نے یوکرین کی جنگ پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق جمعہ کو دونوں رہ نماؤں کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی۔امریکی انتظامیہ کے عہدیداروں نے واضح کیا کہ بائیڈن چینی صدر کو یہ پیغام دینے کی تیاری کر رہے ہیں کہ اگر چین کی حمایت الفاظ سے نکل کر عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کے نتائج برآمد ہوں گے۔سکریٹری آف اسٹیٹ انٹنی بلنکن نے کہا کہ بائیڈن واضح کریں گے کہ چین روسی حملے کی حمایت کرنے کے لیے کسی بھی اقدام کی ذمہ داری قبول کرے گا۔

روس یوکرین جنگ

مزید :

صفحہ اول -