گجرات پولیس کی کارکردگی باقی اضلاع کیلئے مشعلِ راہ

گجرات پولیس کی کارکردگی باقی اضلاع کیلئے مشعلِ راہ
گجرات پولیس کی کارکردگی باقی اضلاع کیلئے مشعلِ راہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

گجرات کے درویش صفت  ڈی پی او عمر سلامت بلاشبہ گجرات کے عوام کے لیے خداوند کریم کی خصوصی شفقت و مہربانی کا ثبوت ہیں جنہوں نے اپنی تعیناتی کے دو سال سے زائد عرصہ کے دوران ایسے ایسے کارہائے نمایاں سر انجام دیے جن کا ذکر کرنا شروع کر دیا جائے تو انہیں الفاظ کے احاطے میں لانا ناممکن نظر آتا ہے۔ برطانیہ سے کریمنالوجی میں ماسٹرز ڈگری حاصل کرنیوالے  ڈی پی او ہر دم عوام کو انصاف کی فراہمی کے لیے کوشاں رہتے ہیں جس  کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔   انہوں نے جرائم کی بیخ کنی کیلئے برطانیہ سے حاصل کی گئی تعلیم اور تجربے کی بنیاد پر گجرات کو جس انداز سے چلایا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ قانون اور جرم کی جنگ ابد تک جاری رہے گی مگر گجرات میں  ہزاروں اشتہاری مجرمان کو گرفتار کیا گیا اور لاتعداد اشتہاریوں کو انٹر پول کے ذریعے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ۔ یہ کامیابی فرد واحد کی کامیابی تو نہیں بلکہ ایک ٹیم ورک کا نتیجہ ہے جس کیلئے ان کے پی آر او چوہدری اسد گجر‘ پی ایس او عمران سوہی‘ مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے ایماندارانہ اور اپنے کپتان کے منصفانہ مزاج کے عین مطابق انہیں حقائق سے باخبر رکھا، عوام‘ میڈیا اور پولیس کے درمیان واقع خلیج کو ختم کیا اور شب و روز کی کاوشوں کے بعد گجرات کو اس مقام پر لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ پنجاب پولیس کے اعلی افسران بھی گجرات پولیس کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

جرائم کی بیخ کنی میں ایس ایچ او اور تفتیشی افسران کا مرکزی کردار ہوتا ہے بالخصوص تنویر عباس بھٹی‘ راجہ احسان‘ رانا عامر‘ مہر عتیق جیسے ایچ اوز  شب و روز اپنے کپتان کی ہدایات کے مطابق اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کامیابیاں اپنے دامن میں سمیٹتے رہتے ہیں۔ تھانہ صدر جلالپو رجٹاں کے ایس ایچ او تنویر عباس بھٹی جو چند یوم قبل ہی پنجاب کے اس بڑے تھانہ کے ایس ایچ او مقرر ہوئے نے ایک قلیل عرصہ میں تین درجن سے زائد نامعلوم ڈکیتی کے اصل ملزمان کو گرفتار کر کے وہ کارنامہ سر انجام دیا ہے جو کسی دوسرے کا نصیب نہیں یہی نہیں بلکہ متعدد اندھے قتلوں کا سراغ بھی لگا کر انہوں نے اصل مجرمان کو گرفتار کیا ۔ چوہدری برادران بالخصوص چوہدری حسین الٰہی اس حوالے سے قول وفعل کے غازی ثابت ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے حلقے کے ایس ایچ اوز کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھا ہے تو دوسری طرف عمر سلامت ڈی پی او اپنے ان مایہ ناز پولیس افسران پر فخر بھی کرتے ہیں اور انہیں انعامات سے بھی نوازتے ہیں جو دوسرے ایس ایچ او ز کیلئے مشعل راہ ہیں۔

بلاشبہ کامیابیاں طشتری میں رکھ کر نہیں ملتیں بلکہ اس کے لیے اپنا شب و روز کا چین‘ سکون اور نیند کو عوام کے لیے قربان کرنا پڑتا ہے کسی حد تک گجرات میں جھوٹے مقدمات درج کرانے کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے مقامی ایس ایچ او حضرات مقدمات کے اندراج سے قبل اپنی پوری تحقیقات کرنے کے بعد اصل ملزمان کو جدید ٹیکنالوجی اور اپنے تجربے کی بنیاد پر گرفتار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔  راجہ احسان ایس ایچ او اے ڈویژن‘ مہر عتیق‘ ایس ایچ او لاری اڈا‘بھی پولیس کا طرہ امتیاز ہیں اور اپنے کپتان کی ہدایات کے مطابق انصاف کی فراہمی میں مشغول رہتے ہیں ۔

ملکی حالات اور مہنگائی کی وجہ سے جرائم میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے مگر اسی تناسب سے گجرات پولیس بھی جرائم کی بیخ کنی میں اپنا مثالی کردار ادا کرتی نظر آتی ہے‘ یہاں ڈی ایس پی سٹی پرویز گوندل کا ذکر نہ کیا جائے تو ناانصافی ہوگی ، انتہائی محنتی اور فرض شناس ہونے کے ساتھ خدمت خلق کے جذبے سے سرشار اس آفیسر نے ہمیشہ صلح جوئی اور دشمنیوں کے خاتمے کیلئے موثر کردار نبھایا۔ ان کی تعیناتی سے قبل شہری علاقوں میں پتنگ بازی اپنے عروج پر تھی آئے روز حادثات معمول تھے تاہم ان کی بھر پور جدوجہد کے بعد آسمان سے پتنگیں ایسی غائب ہوئی ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ‘ ان سطور میں کسی کی خوشامد یا تعریف کرنا مقصود نہیں بلکہ حقائق بیان کرنا ہر اس غیر جانبدار صحافی کی ذمہ داری ہے جو اپنی دھرتی، اپنے وطن اور اپنے ضلع سے محبت کرتا ہے۔

پاکستان میں موسم گرما کا آغاز ہو چکا ہے اور اس موسم میں شہریوں  برداشت کی کمی واضح طو رپر نظر آتی ہے جس کی وجہ سے جرائم کا گراف بھی بلند ہو جاتا ہے خدا کرے ہم سب احکام خداوندی کے جذبہ سے سرشار ہو کر صلح‘ امن و آتشی کی بانسری بجاتے نظر آئیں کہ ہمارے پیارے ضلع گجرات میں ہر طرف امن کا بسیرا ہو ۔

نوٹ: یہ لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -