سندھ کا نتیجہ

سندھ کا نتیجہ
سندھ کا نتیجہ

  

انتخابات 2013کے نتائج نے اس حوالے سے تبدیلی کے رجحان کو ضرور اُجاگر کیا ہے کہ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف متبادل سیاسی قوت بن کر اُبھری ہے اور قومی اسمبلی میں اس کی نشستوں کی اچھی تعداد اور خیبر پختونخوا میں اس کی حکومت سازی کی برتری نے یہ خدشہ دور کر دیا ہے کہ اگر اتنی انتھک محنت اور نہایت مو¿ثر انتخابی مہم کے باوجود عمران خان کے لئے انتخابی نتائج پہلے کی طرح حوصلہ شکن ہوئے تو عمران خان شاید سیاست ہی چھوڑ جائیں گے۔

مگر اب نہ صرف یہ خدشہ باقی نہیں رہا بلکہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیاہے۔ پیپلز پارٹی ناکام ہو گئی اور سچ مچ زرداری خاندان کی پارٹی کے طور پر سندھ تک محدود ہونے کے بعد اپنے وجود کو دلدل سے کنارے تک لے جانے کی جستجو کرے گی۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کا مظاہرہ کیا اور پنجاب سے باہر دیگر صوبوں خصوصاً سندھ میں بہتر حکمت عملی اور تنظیم کے ساتھ کام کرنے اور صرف وڈیروں اور بااثر افراد کے اثرات پر انحصار نہیں کیا ، تو وہ ملک گیر قومی پارٹی کی حیثیت سے اپنے آپ کو منوا لے گی، وگرنہ قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کے باوجود شریف خاندان کی پارٹی کی حیثیت سے پنجاب تک محدود ہو کر رہ جائے گی اور دیگر صوبوں میں رسماً باقی رہے گی۔

ان دونوں پارٹیوں کے بیک وقت ناکام ہوجانے کی صورت میں اب تشویش کی بات نہیں ہے کہ عوام کے پاس متبادل کے طور پر عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف موجود ہے۔

پاکستان تحریک انصاف جہاں بذاتِ خود تبدیلی کے رجحان کی علامت ہے کہ وہ پہلے کبھی اقتدار میں نہیں رہی اور اس کے بیشتر لوگ سیاست میں نئے چہرے ہیں، وہیں عمران خان کی شخصیت اور باتوں نے پاکستان کے ایسے نوجوانوں کی اکثریت کو اپنی طرف کھینچا ہے جنہوں نے پہلے کبھی سیاست میں قدم نہیں رکھا تھا بلکہ پولنگ اسٹیشن کی شکل تک نہیں دیکھی تھی۔

انتخابی مہم کے آخری دنوں میں 7مئی کو لاہور میں عمران خان کا حادثے سے دوچار ہونا شاید وہ لمحہ تھا جب قوم خصوصاً نوجوانوں کے اندر چھپے محبت کے حیرت انگیز جذبات عیاں ہوئے۔ اس کا صحیح اندازہ ممکن ہے عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف دونوں کو نہ ہو کہ پاکستان قوم انہیں اچھے مستقبل کی اُمید کے طور پر دیکھتی اور دل سے چاہتی ہے ۔ اگرچہ کہنے کو وہ بلند اسٹیج پر چڑھنے کے لئے لفٹر سے نیچے گرے تھے مگر قوم کی محبت نے انہیں لمحوں میں کسی لفٹر کے بغیر نیچے سے اُٹھا کر بلندی پر پہنچا دیا۔

پاکستانی سیاست میں اسے بھی ایک مثبت تبدیلی کہا جا سکتا ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت رنگ و نسل، زبان و قومیت اور عقیدے و مذہب کے امتیازات سے بالاتر ہو کر عمران خان کو مستقبل کی قیادت دینا چاہتی ہے اور اس کا واضح اظہار انتخابی نتائج سے ہوا ہے ۔

مگر عمران خان فیکٹر کے سوا 2013کے انتخابی نتائج میں کوئی نیا پن اور اچھوتا پہلو نہیں ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو اندازوں کے مطابق سرفہرست رہنا تھا اور وہ رہی۔ البتہ پیپلز پارٹی اور چوہدری برادران کی مسلم لیگ (ق) کو خوش گمانی تھی کہ عمران خان کی پنجاب میں پیش قدمی سے مسلم لیگ (ن) شاید اس طرح دیوار سے لگ جائے کہ ان کے لئے محفوظ راستہ نکل آئے، چنانچہ باہمی طورپر عہدوپیمان بھی ہوئے تھے اور ایڈجسٹمنٹ کر کے ایک جان دو قالب ہونے کا مظاہرہ بھی کیا گیا تھا، مگر اہلِ پنجاب نے دونوں کو ایک ساتھ روند ڈالا اور زیادہ تر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف میں سے کسی ایک کو چننے پر نگاہ رکھی۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ پیپلز پارٹی کا پنجاب سے جب بھی بوریا بستر گول ہوگا اور وہ سندھ تک محدود ہوجائے گی، تو جیسا کہ ماضی میں ہوا، یہاں سندھ میں وہ سندھیوں کی ”واحد قومی پارٹی“ کے احساس کے ساتھ اُبھرے گی ، نئے انداز اور نئے عنوانات کے ساتھ یہ احساس زیادہ شدت سے بیدار کیا جائے گا، چنانچہ 2013میں یہی ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپنی پوری انتخابی مہم کو جہاں ایک بار پھر بھٹو خاندان کے ساتھ سندھی عوام کے تعلق پر استوار کیا اور ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی تصاویر اور نام کو استعمال کر کے اپنی خراب کارکردگی کو چھپایا، وہیں سندھیوں کی ”واحد قومی پارٹی “کا احساس پیدا کر کے ووٹ حاصل کئے گئے۔ وگرنہ سب جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی سندھی عوام کی نظروں میں مجرموں کے کٹہرے میں کھڑی تھی۔ لیکن بھٹو خاندان کے نام، سرداروں اور وڈیروں کے اثرات اور بیوروکریسی و پولیس میں اپنے حامیوں کی بڑی تعداد میں موجودگی کے علاوہ نواز لیگ کے مقابلے میں سندھیوں کی ”واحد قومی پارٹی“ کے احساس کو کارگر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، تاہم ان موثر حربوں کو بروئے کار لانے سے قبل بھی پیپلز پارٹی کے حریفوں کی ان گنت کمزوریوں اور خامیوں کے سبب یہ اندازہ تھا کہ پیپلز پارٹی ہی سندھ کی اکثریتی پارٹی بنے گی اور اتنی نشستیں ضرور حاصل کر لے گی کہ سرِ فہرست رہے۔ تاہم جیکب آباد میں الٰہی بخش سومرو، خیرپور میں غوث علی شاہ، نوشہرو فیروز میں ظفر علی شاہ، دادو میں لیاقت جتوئی، میرپورخاص میں قربان علی شاہ، ٹنڈو الہیار میں راحیلہ مگسی اور ٹھٹھہ میں ماروی میمن کو شکست دینا مشکل کام تھا لیکن اس نے 1977کے انتخابات کی دھاندلیوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے یہ مشکل نشستیں بھی جیت لیں۔

اسی طرح سے سندھ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ اس کی خراب کارکردگی میں برابر کی حصے دار ایم کیو ایم کے بارے میں کوئی یہ دعویٰ نہیں کر رہا تھا کہ وہ غیر معمولی شکست سے دوچار ہوگی، بس اتنی سی تبدیلی کی توقع کی جارہی تھی کہ وہ چند نشستیں ہار سکتی ہے اور جہاں جیتے گی وہاں سخت مقابلے کے بعد جیتے گی....اور یہ بات بھی اس چیز سے مشروط تھی کہ فوج پولنگ اسٹیشنوں کے اندر بھی موجود رہے۔ لیکن مقتدر حلقوں نے اتنی ذرا سی تبدیلی کا احساس اُجاگر ہونے کا موقع فراہم کرنا بھی قبول نہیں کیا۔ قبل ازیں نگراں حکومتوں کی تشکیل کا انداز بھی بتا چکا تھا کہ ایسا ہی ہوگا۔

یہ اور بات کہ اندرونِ سندھ کے بیشتر مقامات پر پیپلز پارٹی کی دھاندلیوں اور کراچی ،حیدرآباد میں ایم کیو ایم کے جبر کے خلاف احتجاج کی بڑی لہر اُٹھی ہے جس نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو اپنی اپنی جگہ حواس باختہ کر دیا ہے، خصوصاً فنگشنل لیگ کی کال پر 16مئی کو اندرونِ سندھ احتجاجی ہڑتال کی شدت اور خیرپور میں 3افراد کی ہلاکت سے حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو سکتا ہے ۔

سندھ میں نواز شریف نے جہاں الٰہی بخش سومرو، غوث علی شاہ، ظفر علی شاہ اور لیاقت جتوئی جیسے آزمودہ اور electable (جیتنے والے) لوگ میدان میں اُتارے تھے اور پیر پاگارو اور مرتضیٰ جتوئی کے خاندانوں سے جنہیں یقینی طور پر جیتنا تھا، مفاہمت قائم کی تھی اور کئی جگہ جلسوں سے خطاب کے لئے بھی وہ سندھ میں آئے، وہیں عمران خان نے سندھ کو عملاً خالی چھوڑ دیا تھا اور ایک دو نشستوں کے سوا ان کے اُمید وار کہیں بھی قابل ذکر، قابل توجہ اور متاثر کن نہیں تھے ، چنانچہ اسی حساب سے نتیجہ آیا۔

اگر سندھ میں انتخابات کے ذریعہ تبدیلی لانے کے نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے تو مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف دونوں نے مناسب تیاری اور منصوبہ بندی کے بغیر یہ سمجھ لیا تھا کہ محض آصف زرداری اور ان کی پارٹی سے ناراضگی کے سبب سندھ میں بھی پیپلز پارٹی ہار جائے گی ،جبکہ شہروں میں ایم کیو ایم کے جبر کو اب عوام از خود مزید برداشت کرنے سے انکار کرتے ہوئے باہر نکل آئیں گے۔ مگر انہوں نے شاید یہ نہیں سوچا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی قیادت کے پاس ایسی صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لئے کئی حربے اور نسخے موجود ہےں۔

دیکھنا ہے کہ مستقبل کے سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومت کے ساتھ نواز شریف اور عمران خان کا اپنی اپنی جگہ رویہ کیا ہوگا؟ بہت حکمت، بہت ہوشیاری، بہت تدبر، بہت غوروفکر کے ساتھ فیصلے کرنے ہوں گے، مگر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ تمام وصف بیک وقت دونوں میں کتنے موجود ہیں۔   ٭

مزید :

کالم -