ڈاکٹر وزیر آغا کی سالگرہ

ڈاکٹر وزیر آغا کی سالگرہ
ڈاکٹر وزیر آغا کی سالگرہ

  

آپ کو یہ سُن کر تعجب ہوگا کہ ڈاکٹر وزیر آغا زندہ تھے تو اُنہوں نے رسمی طور پر اپنی سالگرہ کا ”جشن“ کبھی منعقد نہیں کیا۔ انہیں اگر یوم پیدائش کی یاد دلائی جاتی تو کہتے زندگی کا ایک سال کم ہوجانے پر خوشی کیسی؟....وہ زندگی کو عطیہءخداوندی سمجھتے تھے، اس کے ایک ایک لمحے کو قیمتی تصور کرتے تھے اور ان کی خواہش ہوتی تھی کہ سارا وقت فطرت کے ساتھ ہم کلامی میں گزر جائے، چنانچہ وہ صبح کے وقت اپنے کھیتوں میں جاتے تو پرندوں کی چہچہاہٹ سن کر خوش ہوتے۔ زمین سے اُگتی ہوئی فصلوں کو دیکھ کر مسرت سے سرشار ہو جاتے۔ نسیم صبح اشجار کے پتوں کو سرسراتی اور موسیقی پیدا کرتی تو وہ خوشی سے جھوم اُٹھتے۔ واپس آتے تو مصنفینِ عالم کی تصنیفات کے ساتھ مجلس جماتے اور کتابوں سے باتیں کرتے۔ نیا خیال سوجھتا تو اسے اپنی ”نوٹ بُک“ پر لکھ لیتے ، پھر یہ اشارے میں کسی نئی کتاب کی طرح ڈال دیتے۔ اپنے سکوتِ سُخن جُو کی خاموش صدا کو گوشِ ہوش سے سنتے اور پھر کبھی نظم، کبھی انشائیہ، کبھی غزل ان پر اترنے لگتی۔کتابوں کے مطالعے کے دوران ہی نکات اُبھرنے لگتے تو وہ انہیں تنقید کی لڑی میں پرو دیتے۔

ان کا یوم پیدائش (18 مئی1922ئ) ہر سال آتا اور خاموشی سے گزر جاتا، لیکن اس دن کبھی کوئی تقریب منعقد نہ کی جاتی۔ شام کے وقت دوست احباب معمول کے مطابق جمع ہوتے۔ ادب اور زندگی کے زندہ موضوعات پر بحث مباحثہ ہوتا۔ مفکرینِ عالم کے خیالات زیر بحث آتے۔ دوستوں کی نئی تخلیقات اور نئے رسائل کے اچھے مضامین کا تذکرہ ہوتا اور زندگی کا اگلا سال شروع ہوجاتا۔ اب وزیر آغا جنہوں نے اپنی زندگی علم و ادب کے لئے وقف کر رکھی تھی، ہم میں موجود نہیں تو مئی کا مہینہ طلوع ہوتے ہی مجھے ان کی یاد آنے لگی۔ مَیں نے گزشتہ کئی روز وزیر آغا کے ساتھ غیاب میں نہیں، ان کی حضوری میں گزارے ہیں، اب ان کی سالگرہ منا رہا ہوں کہ وہ شخص جس نے اپنی زندگی میں ادب کا خیرِ کثیر تقسیم کیا ہے۔ دنیا سے اُٹھ گئے ہیں، لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ وہ میرے آس پاس کتابوں کی صورت میں موجود ہیں۔

 وزیر آغا18 مئی1922ءکو سرگودھا کے نواح میں چک56 جنوبی میں جو ان کے دادا کے نام پر وزیر کوٹ سے موسوم تھا، پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاو¿ں کے مدرسے میں حاصل کی۔ میٹرک سرگودھا سے، انٹر جھنگ سے اور بی اے اور ایم اے گورنمنٹ کالج لاہور سے پاس کیا۔ ان کے والد آغا وسعت علی خان (و، ع، خ) تصوف اور دہرانت میں دسترس رکھتے تھے۔ ان کی تربیت نے ہی وزیر آغازکے مزاج میں فطرت سے موانست کا زاویہ پیدا کیا اور سرکاری ملازمت کرنے کی بجائے کاشتکاری اور ادب کی طرف آگئے۔ ان کی زندگی پر ان کے والد و، ع، خ ان کے عم زاد شمس آغا اور ادبی دنیا کے مدیر مولانا صلاح الدین احمد نے اپنے مثبت اثرات ڈالے۔ مولانا نے انہیں ادبی دنیا کے دورِ پنجم میں اپنا شریکِ مدیر بنایا۔ 1924ءمیں ان کی وفات کے بعد وزیر آغا نے اپنا رسالہ ”اوراق“ جاری کیا جو قریباً چالیس برس تک ادب لکھنے والوں کو خیالات کی تازہ آکسیجن فراہم کرتا رہا۔ اس دوران انہوں نے اردو ادب میں طنز و مزاح کے موضوع پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انسانی زندگی میں مسرت کی ماہیت معلوم کرنے کے لئے کتاب” مُسرت کی تلاش“ لکھی اور شاعری کی تین اصناف گیت، نظم اور غزل کا مزاح برصغیر کی تہذیبوں کے حوالے سے متعین کیا۔

انسانی زندگی میں اشیائ، مناظر اور مظاہر کو شخصی زاویے سے دیکھنے کے لئے اردو ادب کی ایک ناموسوم صنف انشائیہ کو فروغ دیا۔ نظمِ جدید کی کروٹیں میں اردو کے چند ممتاز شعراءکی مخصوص تخلیقی جہت بازیافت کی۔ آزاد اردو نظم میں موضوعات اور اسالیب کا تنوع پیدا کیا اور شام اور سائے سے لے کر آخری کتاب”کاسہءشام“ تک جدید نظم اور غزل کے ایک درجن سے زیادہ مجموعے پیش کئے۔ ان کی کلیات ”چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل“ کے نام سے چھپ چکی ہے۔ اردو کے عام نقادوں کے برعکس وزیر آغا نے یک موضوعی کتابیں زیادہ لکھیں۔ ان میں اردو ادب میں طنز و مزاح اور شاعری کا مزاج، تخلیقی عمل، تصورات عشق و خرد اقبال کی نظر میں، غالب کا ذوقِ تماشا، مجید امجد کی داستانِ محبت، کلچر کے خدوخال کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ وزیر آغا پر پاکستان اور ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی سطح کے متعدد مقالات لکھے جا چکے۔ ان کے فکر و فن پر انور سدید، ڈاکٹر عاشق ہرگانوی، رفیق سندیلوی، ڈاکٹر ارمان نجمی اور ڈاکٹر اقبال آفاقی نے کتابیں لکھیں۔

7 ستمبر2010ءکو وزیر آغا وفات پا گئے تو اسے ادب کا بہت بڑا سانحہ قرار دیا گیا۔ ملک کے تمام بڑے شہروں میں ان کی یاد میں سیمینار منعقد کئے گئے۔ اخبارات نے ان کی خدمات کا اعتراف کشادہ نظری سے کیا۔ رسالہ ”ادب جدید“ اردوئے معلیٰ، قرطاس، روشنائی، اجرائ، کاغذی پیرہن،شب خون اور سب رس میں خصوصی گوشے اور خصوصی نمبر پیش کئے گئے ۔یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ پنجاب یونیورسٹی، قائداعظم لائبریری، حلقہ ارباب ذوق اور لاہور آرٹ فورم میں سیمینار منعقد کئے گئے ۔شاہد شیدائی نے اپنا رسالہ ”کاغذی پیرہن “وزیر آغا کی یاد میں شائع کرنے کا اعلان کیا۔ وزیر آغا کی وفات کے بعد ان کی سالگرہ کا دن آتا ہے، تو ان کی یاد بے ساختہ دل میں عود کر آتی ہے۔ آئیے! آج ان کے نام اور کام کی یاد تازہ کریں اور کچھ وقت ان کی کتابوں کے ساتھ گزاریں۔    ٭

مزید :

کالم -