سی آئی اے اور امریکی فوج میں کشیدگی

سی آئی اے اور امریکی فوج میں کشیدگی
 سی آئی اے اور امریکی فوج میں کشیدگی

  

امریکی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاءکے سی آئی اے کے منصوبے نے فوج سے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ امریکی سی آئی اے کابل سے باہر اپنے اڈے بند کررہی ہے جس سے امریکی فوج میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ سی آئی اے کے اس اقدام سے امریکی فوج انٹیلی جنس کے حصول سے محروم ہوسکتی ہے۔اس سے قبل سی آئی اے ڈائریکٹر جان برنن نے فوجی افسران کو آگا ہ کردیا تھا کہ سی آئی اے اپنے اہم ماہرین کو اب کیس سے ہٹارہی ہے۔ موسم بہار میں طالبان کی جانب سے شدید کارروائیوں کا خدشہ ہے اور ایسے وقت پر سی آئی اے کے انخلا سے امریکی فوج شدیدتشویش کا شکار ہے

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے افغانستان میں اپنے تمام بیسز بند کرکے اہلکاروں کو کابل واپس بلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس خبر سے امریکی حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ، جنہیں خدشہ ہے کہ اس اقدام سے انہیں اہم انٹیلی جنس معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔انٹیلی جنس حکام نے سی آئی اے کے انخلا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس پر مکمل عمل کی مدت کا ابھی تعین نہیں ہوسکا ہے تاہم یہ اقدام افغانستان سے امریکی فوجی انخلا سے ہی متعلق ہے۔

 افغانستان ایک ایسا ملک ہے جس کی کوئی بندرگاہ نہیں۔ یہ ملک وسطی ایشیا مشرق وسطی جنوب ایشیا اور مغربی ایشیا کے سنگم پر ایک ایسی قبائلی سرزمین ہے جس پر سکندرِ اعظم اور چنگیز خان سمیت بہت سارے طالع آزماﺅں نے چڑھائی کی۔اس سرزمین سے اٹھنے والے غزنوی، غوری، مغل اور درانی قبائل نے اپنی مشرقی سرحد کے پار فتوحات سے بہت وسیع سلطنتیں بنائیں۔ حالیہ تاریخ میں انگریزوں، روسیوں اور اب امریکیوں نے بھی افغانستان کی ریاست پر اپنے پنجے گاڑنے کی ناکام کوشش کی۔ دراصل افغانستان کی جدید تاریخ کا آغاز1709 عیسوی میں ہوا جب پشتون قبیلے نے قندھار اور بعد میں درانی قبیلے نے 1747 میں کابل میں حکومتیں قائم کیں۔اس کے بعد افغانستان ایک گریٹ گیم کے نرغے میں آکر سویت یونین اور برطانیہ کی ہندوستان کالونی کے درمیان ایک Bufferریاست بنادیا گیا۔1842 میں انگریزوں نے کابل پر چڑھائی کی تو انکو منہ کی کھانی پڑی اور تاریخ دانوں نے اس کو موت کا سفر کہا بعد میں دوسری افغان جنگ میں بھی انگریز کامیاب نہ ہوسکے۔ اس کے بعد 1979 میں سویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کیا اور دس سال بعد کانوں کو ہاتھ لگا کر روسی واپس بھاگے اور اپنی سلطنت کو بھی اکٹھا نہ رکھ سکے امریکہ نے بد قسمتی سے تاریخ سے کوئی سبق نہ سیکھا اور اپنی دولت اور ہتھیاروں کے بل بوتے پر بش نے رعونت سے سرشار ہوکر اپنی افواج افغانستان میں اتار دیں۔ اب 11 سال کے بعد چالیس ممالک کی ٹیکنالوجی سے لیس سپر پاور کیلئے بھی مسئلہ یہ ہے کہ افغان کمبل سے جان کیسے چھڑائی جائے۔

افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر نے اس ملک سے امریکی فوجیوں کے مکمل انخلا کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے بیرونی خاص طورپر امریکی فوجیوں کے مکمل انخلا کے مذاکرات امریکی فوجیوں کے مشن کومتزلزل کردیں گے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جدید بین الاقوامی فوجیوں کی ذمہ داری افغان سیکورٹی فورسز کو ٹریننگ اور مشورہ دینا ہے ممکن ہے کہ وہ ایساف فوج کے کنٹرول اور اختیار میں چلی جائیں جس کی کمانڈ جنرل ڈینفورڈ کے ہاتھ میں ہے۔

اس وقت افغانستان میں 68 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جن کے انخلا سے حکومت افغان کی ناکامی اورسیکورٹی فورسزکاشیرازہ بکھرجانے یا اس ملک میں داخلی جنگ چھڑنےکی تشویش پیدا ہوگئی ہے ،یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان کسی فوجی سیکورٹی معاہدے پر ابھی تک کوئی اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے عدالتی تحفظ کے بارے میں دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف باقی ہے۔ ان تمام مسائل کے باوجود حکومت افغانستان نے امریکہ کو اس ملک میں نو فوجی اڈے قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اگرچہ امریکہ دوہزار چودہ کے بعد بھی اپنے فوجیوں کو باقی رکھنا چاہتا ہے لیکن ان فوجیوں کی تعداد اور ان کے شرائط کے بارے میں شک وتردید مبتلا ہے ، یہ ایسی حالت میں ہے کئی دنوں قبل امریکی فوج کے تین اعلی حکام اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ وہائٹ ہاو¿س دوہزار چودہ کے بعد افغانستان میں جن فوجیوں کی تعداد باقی رکھنا چاہتا ہے جلد ازجلد اعلان کرنا چاہئیے اعتراف کیا ہے کہ افغانستان کی جنگ میں واشنگٹن کے اہداف پورے نہیں ہوئے ہیں۔ امریکی فوجیوں کے اعلی حکام کے اس اعتراف سے کہ افغانستان میں امریکہ کے اہداف پورے نہیں ہونے اور ناکامی سے پتہ چلتا ہے کہ مستقبل میں امریکی فوجیوں کے باقی رہنے سے یہ ملک ان کی پالیسیوں اور اہداف کے مطابق کسی نتیجے تک پہنچ جائے گا۔

 افغانستان کے اکثر لوگ چاہتے ہیں کہ دوہزار چودہ کے بعد بھی امریکی فوجیوں کی تھوڑی بہت تعداد افغانستان میں باقی رہے ، واشنگٹن نے افعانیوں سے دوہزار چودہ کے بعد بھی امریکی فوجیوں کی ایک تعداد افغانستان میں باقی رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق باراک اوباما دوہزارچودہ کے بعد امریکہ کی قومی سلامتی ٹیم کی طرف سے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد باقی رکھنے کے بارے میں پیش کی گئیں تجاویز کاجائزہ لے رہے ہیں اور ابھی تک انھوں نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔

مزید : کالم