کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے !

کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے !
 کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے !

  


جس پاکستان کا خواب شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے دیکھا اور حضرت قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ نے جس الگ مملکت کا مطالبہ کیا تھا ، وادی کشمیر اس کا حصہ اور لازمی جزو تھا ،مگر افسوس ہمارے ازلی دشمن بھارت نے قیام پاکستان کے فوراً بعد ’’وادی کشمیر ‘‘پر غاصبانہ قبضہ کر لیا ،پھر کشمیری عوام نے بھارتی تسلط سے آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول کے لئے جو’’ عظیم جدو جہد ‘‘کی ،وہ آزادی کی تحریکوں میں نمایا ں مقام رکھتی ہے ۔ عرصے سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر کشمیریوں کی جدو جہد اور قربانیوں سے مُنہ موڑ کر مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا، مگر 30اپریل 2014ء کو سالار پاکستان جنرل راحیل شریف نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ’’یومِ شہدا‘‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بڑے ہی واضح الفاظ اور دلیرانہ انداز میں ’’مسئلہ کشمیر‘‘ کی بھرپور حمایت کرکے نہ صرف 18کروڑ پاکستانیوں کے دلوں کی ترجمانی کی، بلکہ ایک مرتبہ پھر ’’مسئلہ کشمیر‘‘ کو بین الاقوامی سطح پر ایک اہم ترین مسئلے کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے ۔

سپہ سالار نے اپنے خطاب میں بڑے واضح اندا ز میں کشمیر کے متعلق پاکستانی عوام کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ‘‘ہے، یہ بین الاقوامی طور پر ایک متنازعہ مسئلہ ہے ،اس کے پائیدار حل کے لئے اقوامِ متحدہ کی منظور کردہ قرار دادیں عملد رآمد کی منتظر ہیں ’’مسئلہ کشمیر‘‘ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے ۔کشمیری عوام کی لازوال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا ۔اُنہوں نے اس موقعہ پر اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے اور کسی بھی خطرے کی صورت میں پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لئے اپنا قومی فریضہ جر ات اور بہادری سے ادا کرنے کے لئے ہمہ وقت چوکس اور تیار ہیں ۔ جنرل راحیل شریف کے اس جرات مندانہ اور حقیقت پر مبنی خطاب نہ نا صرف مسئلہ کشمیر کی خطے کے لئے اہمیت کو اُجاگر کیا ہے ،بلکہ مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی بھرپور تائیدو حمایت کر کے عوام کے دل جیت لئے ہیں ۔

آج ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر اپنی اہمیت کے ساتھ موضوع بحث بن گیا ہے ۔پاکستان میں کسی بھی چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے پائیدا ر حل کے لئے ٹھوس انداز میں حمایت سے نہ صرف پاکستان ،بلکہ کشمیر اور دنیا بھر میں آباد کشمیریوں میں بھی بھارت سے آزادی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے ،جس کے تحریک جدو جہد پر گہر ے اثرات مرتب ہوں گے ۔ اس سے قبل بھی پاکستان کے چند اہم مدبر اور نظریاتی رہنما ،جو کشمیر کے لئے مسلسل آواز بلند کرتے چلے آرہے ہیں اور تحریک آزادی کو بھی جلا بخشی ہے ۔ خصوصاً ڈاکٹر مجید نظامی نے اس پیرانہ سالی میں تحفظ نظریہ پاکستان ، نفاذ اسلام اور آزادی کشمیر کے لئے سب سے پہلے آواز حق بلند کی ۔ وہ نظریہ پاکستان اور آزادی کشمیر کے لئے کام کرنے والے محبِ وطن پاکستانیوں اور نوجوانوں کی بھرپور راہنمائی کا فریضہ بھی سر انجام دے رہے ہیں ۔ جنرل راحیل شریف کے جرات مندانہ خطاب سے ڈاکٹر مجید نظامی کے اصولی موقف کو بھی تائیدو حمایت حاصل ہوئی ہے اور انشاء اللہ یہ مسئلہ ایک مرتبہ پھر پوری قوت کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر اُبھرے گا عالمی اداروں اور یو این اوکو اس مسئلے کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔

سپہ سالا ر جنرل راحیل شریف کا یہ خطاب معمولی حیثیت کا حامل نہیں ،بلکہ یہ 18کروڑ پاکستانیوں کے دل کی آواز ہے، جسے پاکستان کی بہادر مسلح افواج کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارتی حکمران ہوش کے ناخن لیں اور کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ ختم کر کے وادی کشمیر سے 8لاکھ بھارتی افواج کو نکالیں تاکہ’’ وادی جنت نظیر کشمیر‘‘ میں خون کی ہولی کھیلنے کا خوفناک کھیل بند ہو ۔ کشمیری عوام ایک دن بھی بھارت کی غلامی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ۔پچھلے 65برسوں میں بھارتی تسلط سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے انہوں نے لازوال قربانیاں پیش کی ہیں ۔ بھارتی افواج لاکھوں کشمیریوں کو شہید کرنے ، لاکھوں کو زخمی اور ناجائز گرفتار کرنے اور کشمیریوں کی جائیدادیں نذرِ آتش کرنے کے باوجود جذبہ آزادی کو سرد نہیں کر سکی ، بلکہ یہ جذبہ دن بدن مزید بڑھ رہا ہے ۔

جنرل راحیل شریف کے اس جرأت مندانہ موقف اور خطاب کے بعد پاکستانی حکمرانوں اور قومی اسمبلی کے اراکین پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے دو ٹوک اور ٹھوس مؤقف کی تائید میں اپنا نقطہ نظر واضح کریں ۔ پاکستانی حکمران دوست اسلامی ممالک سے فوری رابطہ قائم کر کے سلامتی کونسل کا ہنگامی فوری اجلا س طلب کرنے کا مطالبہ کریں تا کہ 57اسلامی ممالک کی تائیدو حمایت کے ساتھ ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر کویاو این اوکے ایجنڈا میں ترجیحی بنیادوں پر لا کر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کشمیری عوام کی حمایت میں پاکستان کا واضح موقف دنیا کے سامنے آسکے ۔

مزید : کالم