ورلڈکپ تک ٹیم کو مظبوط کرنا وقار کیلئے بڑا چیلنج ہے وسیم اکرم

ورلڈکپ تک ٹیم کو مظبوط کرنا وقار کیلئے بڑا چیلنج ہے وسیم اکرم

               ممبئی ( نیٹ نیوز)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ وقاریونس سمیت نئے سپورٹ سٹاف کی تقرری خوش آئندہے،ورلڈکپ سے قبل ٹیم کو متحدرکھ کر فتوحات کی راہ پر گامزن کرنا وقاریونس کیلئے کسی امتحان سے کم نہیں ہوگا،گرانٹ فلاور بیٹنگ کی خامیاں جدید طرز سے دور کرسکتے ہیں،بیٹنگ کوچ مقامی ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا ۔بھارتی اخبار کو انٹرویو میں وسیم اکرم نے کہاکہ پی سی بی نے نئے کوچنگ سٹاف کی تقرری سوچ سمجھ کرہی کی ہوگی ،وقاریونس سمیت نئے سپورٹ سٹاف کی تقرری خوش آئندہے،اب آگے کی جانب دیکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کرکٹ مشکل دور سے گزررہی ہے اس دوران کئی مسائل نے جنم لیا ،بورڈ کو نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے جس سے نمٹنا ہوگا ۔وسیم اکرم نے کہاکہ ورلڈکپ سے قبل ٹیم کو فتوحات کی راہ پر گامزن کرنا وقاریونس کیلئے کسی امتحان سے کم نہیں ہوگا، وقاریونس کو سینئرز کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا ، شاہد آفریدی، یونس خان ، مصباح الحق کیلئے کشادہ دلی رکھنا پڑے گی ، ہیڈکوچ اور منیجر ٹیم کیلئے باچ کی طرح ہوتے ہیں جو معاملات کو بڑی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ گرانٹ فلاور بیٹنگ کی خامیاں دور کرسکتے ہیں،بیٹنگ کوچ مقامی ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا، پاکستان میں اچھے بلے بازوں کی کمی نہیں ، انضمام الحق ، محمد یوسف سمیت کئی کرکٹرز کی خدمات حاصل کی جاسکتی تھیں ۔انہوں نے کہاکہ ملک میں بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونا بڑاالمیہ ہے ،پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت مل کر اس طرف کوششیں کرے ، کرکٹ کی بحالی حکومت کے تعاون کے بغیر کسی صورت ممکن نہیں ، امیدہے کہ بھارت کی نئی حکومت اس حوالے سے اچھے اقدامات کرے گی جس سے کرکٹ ڈپلومیسی آگے بڑھے گی ۔وسیم اکرم نے کہاکہ مجھے بورڈ کی جانب سے کئی بار پیشکش ہوئی لیکن مین نے معذرت کرلی ، اب بنگلہ دیشی بورڈ نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن میں نے جزوقتی خدمات دینے کی حامی بھری کیونکہ میری ابھی دوسری شادی ہوئی ہے ، اپنی نئی اہلیہ اور بچوں کو وقت دینا چاہتاہوں جو کہ کوچنگ کے باعث نہیں دے پاﺅں گا۔

 

مزید : کھیل اور کھلاڑی