عمران خان.... اصل ہدف سے ہٹ رہے ہیں؟

عمران خان.... اصل ہدف سے ہٹ رہے ہیں؟
عمران خان.... اصل ہدف سے ہٹ رہے ہیں؟

  

کیا عمران خان کو سیاسی طور پر الجھا دیا گیا ہے؟ شائد دوسرے لوگ بھی اس حوالے سے سوچتے ہوں، تاہم مجھے یہ سوال آ ج کل کچھ زیادہ ہی پریشان کر رہا ہے۔ شائد اس کی وجہ یہ ہے کہ مَیں عمران خان کے خیر خواہوں میں شامل ہوں اور دوسرے لاکھوں پاکستانیوں کی طرح مجھے بھی یہ امید ہے کہ عمران خان ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ جہاں ایک مقبول لیڈرکے چاہنے والے بہت ہوتے ہیں، وہاں اسے بھگانے والے بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ مَیں یہ بات اس لئے کہہ رہا ہوں کہ دیکھتے ہی دیکھتے خان صاحب نے اپنے خلاف کئی محاذ کھول لئے ہیں یا یہ کہنا مناسب ہو گا کہ انہوں نے کئی محاذوں پر لڑنا شروع کر دیا ہے۔ منظم فوج بھی جب ایک سے زیادہ محاذوں پر لڑتی ہے تو اُس کی کارکردگی وہ نہیں رہتی، جو ایک محاذ پر اور اپنے اصل ہدف تک محدود رہ کر دیکھنے میں آتی ہے۔ عمران خان تو ایک سیاست دان ہیں، خود کرکٹ کا اصول یہ ہے کہ اس میں مخالف ٹیم کی صرف کمزوریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کبھی اس کی بیٹنگ لائن تباہ کی جاتی ہے اور کبھی اپنی عمدہ بیٹنگ سے اس کی باﺅلنگ کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ عمران خان آج سیاست کے محاذ پر لڑتے لڑتے میڈیا اور عدلیہ سے بھی اُلجھ پڑے ہیں، اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ اُن کی توانائیاں اپنے اصل ہدف کی بجائے اِدھر اُدھر کے مسائل پر ضائع ہو رہی ہیں۔ سیاست دان کو صرف سیاست تک محدود رہنا چاہئے اور اپوزیشن میں رہتے ہوئے تو ٹارگٹ ہی حکومت کو بنانا چاہئے، تاکہ مملکت کے باقی ادارے آپ کی حمایت کر سکیں، مگر حیران کن حد تک عمران خان حکومت کو نشانہ بنانے کی بجائے اپنی توانائیاں ضائع کر رہے ہیں۔

عمران خان نے انتخابات کے فوراً بعد دھاندلی کا الزام لگایا تھا، بعد میں جو دیگر شواہد سامنے آئے اُن سے یہ ثابت بھی ہو گیا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ گویا یہ عمران خان کی پہلی فتح تھی۔ اُن کے اس مطالبے کو ہمیشہ پذیرائی ملی کہ چار حلقوں میں دوبارہ گنتی کرائی جائے، ان کا یہ موقف اس قدر مضبوط ہے کہ آج بھی حکومتی وزراءاسے جھٹلاتے ہوئے سو بار سوچتے ہیں، کیونکہ اگر دھاندلی نہیں ہوئی تو گنتی کرانے میں حرج ہی کیا ہے۔ شروع میں یہ واحد ہدف تھا، جسے عمران خان نے اپنی تحریک کا اصل مدعا قرار دیا۔ میڈیا کی طرف سے انہیں بھرپور حمایت ملتی رہی، اُن کی جماعت کے احتجاج اور دھرنوں کو میڈیا نے ہمیشہ بڑی خبر کے طور پر نشر کیا، بلکہ لائیو ٹیلی کاسٹ بھی کیا جاتا رہا، پھر نجانے خان صاحب اچانک کیوں دوسری راہ پر چل نکلے۔ انہوں نے اس دھاندلی میں عدلیہ کو بھی شراکت دار کہنا شروع کر دیا۔ انہوں نے عدلیہ کے بارے میں ”شرمناک“ کا لفظ استعمال کیا تو انہیں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا۔ ان کی وضاحت کو سپریم کورٹ نے تسلیم کرتے ہوئے نوٹس تو واپس لے لیا، تاہم عمران خان شاید اسے دل سے خارج نہیں کر سکے۔اب حالیہ دنوں میں انہوں نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بھی اس دھاندلی میں شراکت دار قرار دینا شروع کر رکھا ہے۔

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری جو ان دنوں امریکہ میں ہیں، عمران خان کے الزامات کو مضحکہ خیز قرار دے رہے ہیں۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ کون صحیح کہہ رہا ہے اور کون غلط؟ سوال یہ ہے کہ اس مرحلے میں عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنا کر خان صاحب کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ وہ اپوزیشن لیڈر ہیں اور ان کا اصل ہدف حکومت ہونی چاہئے۔ اگر وہ دھاندلی سے برسر اقتدار آئی ہے تو اس پر دباﺅ ڈال کر مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کی حکمت ِ عملی ہی واحد راستہ ہے، مگر خان صاحب اُسے چھوڑ کر دیگر اداروں کو اپنا ہدف بنا رہے ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ موجودہ حکمرانوں پر تو کوئی فرد جرم عائد ہی نہیں ہوتی، کیونکہ وہ تو اُس وقت اقتدار میں ہی نہیں تھے، جب دھاندلی کا سکرپٹ لکھا گیا۔ عدلیہ کے افراد یا میڈیا کے کسی چینل کے خلاف محاذ کھول کر خان صاحب اپنے اصل ہدف سے دور ہو گئے ہیں، جبکہ حکومت کو اس کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ جن اداروں کو عمران خان ہدف تنقید بنا رہے ہیں، وہ بالواسطہ طور پر حکومت کی جنگ لڑ رہے ہیں، کیونکہ اُنہوں نے عمران خان کو مدلل جواب دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے تک اُن کا موقف تھا کہ ریٹرننگ افسران نے دھاندلی میں اہم کردار ادا کیا۔ سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کے دوران بھی انہوں نے یہی موقف دہرایا تھا۔ جب تک افتخار محمد چودھری چیف جسٹس کے منصب پر فائز رہے ،انہوں نے ایسا کوئی الزام نہیں لگایا کہ وہ ریٹرننگ افسران کی دھاندلی میں شریک تھے۔ اب اچانک جب انہوں نے یہ کہنا شروع کیا ہے کہ افتخار محمد چودھری نے ریٹرننگ افسروں سے خطاب کر کے دھاندلی کا ایجنڈا دیا تو یہ بات کچھ عجیب لگتی ہے۔ بالفرض اس میں کوئی سچائی ہے بھی تو اُس کا اس موقع پر اظہار آپ کو کیا سیاسی فائدہ دے سکتا ہے، سوائے اپنے مخالفین میں اضافے کے۔ پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی تو موجود ہے، غالباً تھنک ٹینک کوئی نہیں۔ تھنک ٹینک ہوتا، تو شاید عمران خان کو اس طرح اپنے ہدف سے دور نہ ہونے دیتا۔ اپوزیشن لیڈر کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ وزیراعظم کی کارکردگی کو نشانہ بنائے۔ حیرت ہے کہ خان صاحب محمد نوازشریف کا ذکر تو بھول گئے ہیں،البتہ انہوں نے ایک سابق چیف جسٹس اور ایک میڈیا چینل کے مالک کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے۔ مجھے تو یہ صورت حال کسی بھی طرح پاکستان تحریک انصاف یا عمران خان کے حق میں ساز گار نہیں لگتی۔

مَیںاکثر سوچتا ہوں کہ عمران خان کے اردگرد مخدوم جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قریشی جیسے منجھے ہوئے سیاست دان موجود ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ وہ ایک ایسے راستے پر چل نکلے ہیں، جس کی کوئی منزل نہیں۔ عمران خان جب اپنی تقریروں یا بیانات میں عدلیہ کی سابق قیادت اور ایک چینل کو ہدف تنقید بناتے ہیں تو دیگر چینلوں پر واہ واہ تو ہو جاتی ہے، لیکن اس سے عمران خان کے سیاسی قد اور سیاسی شعور کے بارے میں لوگوں کی پہلے سے موجود آرا متاثر ہوتی ہیں۔ خان صاحب اگر ملک میں کوئی تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو وہ سیاسی حوالے سے آ سکتی ہے۔ وہ عوام کی امید اور تبدیلی کی علامت ہیں۔ عوام ان پر اندھا اعتماد رکھتے ہیں۔ جب عمران خان سیاسی طور پر بالادستی حاصل کر لیں گے تو پھر نظام کو بھی درست کر سکیں گے۔ وہ نظام کا پہیہ اُلٹا چلانے کی کوشش نہ کریں، یعنی پہلے نظام کو ٹھیک کر کے پھر سیاست کا سوچنا حقائق سے ماورا¿ سوچ ہے۔ جب سیاسی نظام درست ہو جائے گا تو ملک کا نظام خودبخود بہتری کی طرف چل پڑے گا۔ عمران خان اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں، مگر اپنا دامن ان کانٹوں سے بچائیں جو انہیں اصل ہدف سے دور کرنے کے مشن پر عمل پیرا ہیں۔

مزید : کالم