بھارت میں انتہا پسند بی جے پی کی کامیابی

بھارت میں انتہا پسند بی جے پی کی کامیابی
 بھارت میں انتہا پسند بی جے پی کی کامیابی

  


بھارت کے عام انتخابات کا نتیجہ بالآخر سامنے آہی گیا ہے۔ سروے رپورٹس جو کچھ بتا رہی تھیں، بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو اس سے بھی کچھ زیادہ ہی سیٹیں مل گئیں۔ 543کے ہاؤس میں بی جے پی کو 283اور اس کی اتحادی پارٹیوں کو 54نشستیں مل گئیں۔ اس طرح ٹوٹل 337ہوگئیں۔ بی جے پی کو حکومت بنانے کے لئے اب مزید کسی چھوٹے گروپ کی حمایت درکار نہیں ہے۔ کانگریس بری طرح ہار گئی ہے، اگرچہ اس کی سربراہ سونیا گاندھی اپنی رائے بریلی کی نشست سے جیت گئی ہیں۔ کانگریس گزشتہ دس سال سے برسراقتدار تھی اور اس عرصے میں ملک کی عمومی حالت بالخصوص عام آدمی کی معاشی صورت حال ابتر سے ابتر ہوتی چلی گئی۔ یہ شکست تو فطری اور قابل فہم تھی، مگر کانگرس کو پورے ایوان میں صرف 58نشستیں ملنا تمام سیاسی تجزیہ نگاروں کے نزدیک قابل تعجب ہے۔ سونیا گاندھی اور اس کے بیٹے راہول گاندھی نے شکست تسلیم کرلی ہے۔

بھارت کے متعصب ہندو لیڈر نریندر مودی، جن کا تعلق ایک نچلے درجے کے تیلی خاندان سے ہے اور جن کے سیاسی سفرکا آغاز انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس (راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ) سے ہوا تھا، آج بھارت کے سب سے طاقت ور سیاست دان اور وزیراعظم بن گئے ہیں۔ وہ دو مرتبہ وزیراعلیٰ بھی رہے ہیں۔ان کے ساتھ کامیاب ہونے والے بی جے پی کے بیشترلیڈر اینٹی مسلم اور اینٹی پاکستان ہیں۔ سابق آرمی چیف وی کے سنگھ بھی،جن کی پاکستان دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، منتخب ہوگئے ہیں۔ انتخابات سے پہلے مسلمانوں کے بعض راہنماؤں بالخصوص امام جامع مسجد دہلی نے مودی کی گجرات میں مسلم آبادی کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے مسلمانوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بی جے پی کو ووٹ نہ دیں۔ مسلمانوں پر اس کا کتنا اثرا ہوا، اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے، البتہ یہ واضح ہے کہ اس کے نتیجے میں ہندو آبادی کا رخ بی جے پی کی طرف مڑ گیا۔

ان نتائج کے بعداب ملک بھر میں اقلیتیں پریشان ہیں۔ اگلے مراحل میں ان کا کیا بنے گا۔کانگریس ہو یا کوئی دوسری پارٹی، ہندو کی ذہنیت تو پاکستان دشمنی ہی پر مشتمل ہے۔ عام آدمی پارٹی نے دلی ریاست کے انتخابات کچھ عرصہ پہلے جیت لئے تھے، مگر ان عام انتخابات میں بری طرح ہار گئی ہے۔ صرف 4نشستیں حاصل کرسکی۔ پارٹی کا لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ اروندکجریوال اپنی نشست بھی کھو بیٹھا۔ پچھلی مرتبہ جب میاں نواز شریف صاحب ملک کے وزیراعظم اور شہباز شریف صاحب پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے اس زمانے میں بھی بی جے پی نے بھارتی انتخابات پہلی بار جیتے تھے۔ اٹل بہاری واجپائی ملک کے وزیراعظم تھے۔ہم اس بات کے قائل ہیں کہ ہمسائیوں سے اچھے تعلقات ہونے چاہئیں لیکن یہ بھی تو دیکھنا چاہیے کہ ہمسائے کا رویہ ہمارے ساتھ کیا ہے۔ ہم بلاوجہ کسی کے ساتھ جنگ چھیڑنے کے ہرگز حامی نہیں ہیں۔ لیکن یہ بھی کوئی عقل مندی وحمیت نہیں ہے کہ جو پوری سینہ زوری کے ساتھ آپ کی جان کا لاگو ہے، آپ اس کی بلائیں لینے کے لئے بے قرار ہوجائیں۔

کسی ملک میں کسی سیاست دان کی کامیابی پر اسے مبارک باد دینے میں کوئی حرج نہیں، مگر چھوٹتے ہی یہ درخواست پیش کردینا کہ جناب آپ ہمارے ملک کا دورہ فرمائیں، ایٹمی پاکستان کے قائدین کے مقام سے فروتر ہے۔ امن کی آشا سب نے دیکھ لی ہے۔ مودی ہو یا منموہن سنگھ یہ سب اینٹی مسلم، اینٹی پاکستان ہیں۔ البتہ ہر ایک کے ٹمپریچر میں خاصا فرق ہے۔ ہمیں غیرت مند قوم کی طرح سے اپنے بنیادی مسائل کے اوپر کھل کر بات کرنی چاہیے اور واضح کردینا چاہیے کہ تعلقات کے خوشگوار ہونے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہمارے حقوق پر غاصبانہ قبضہ ختم کیا جائے۔ میاں صاحب کو ایک جرأت مند سیاست دان کی طرح اپنی قومی ساکھ کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اس کے لئے اگر وہ ملک کی سیاسی، دینی وسماجی قوتوں کو آواز دیں گے تو ہمیں یقین ہے کہ کوئی بھی لبیک کہے بغیر نہیں رہے گا اور اگر ان کی روش وہی رہی جو پہلے تھی تو پھر ہمیں خدشہ ہے کہ وہ ملک کے ساتھ خود اپنے آپ کو بھی مشکلات میں پھنسالیں گے۔

مزید : کالم