حرام

حرام
حرام

  

حرام وہ لفظ ہے جس کا ہم پاکستانیوں کی زندگی میں حلال سے زیادہ عمل دخل ہے ۔ پیدائش سے موت تک یہ چار حرفی لفظ ہماری زندگی سے جڑا رہتا ہے ۔ پیدائش کے فورا بعد نام رکھنے سے لے کر رسومات تک ہم حرام حرام کی گردان کرتے رہتے ہیں ۔ فلاں طرح کا نام حرام ہے ۔ فلاں عمل سے پہلے فلاں عمل حرام ہے ۔ فلاں رسم حرام ہے۔ بہت سے گھروں میں بیٹی ہوجائے تو خوشی حرام ہے اور بہت سے گھروں میں بیٹی کی پیدائش ہی حرام ہے ۔ ہم میں سے بہت سوں کے نزدیک کانونٹ اسکول میں بچوں کو پڑھانا حرام ہے ۔ بہت سوں کے نزدیک مخلوط تعلیم حرام ہے۔ ہم بڑے ہوجائیں تو بہت سی نوکریاں حرام ہیں۔ سود اگر دینا ہو تو حرام ہے ۔ ایک فرقے اور مسلک کے لئے دوسرا فرقہ اور مسلک حرام ہے ۔ ذات برادری سے باہر شادی کرنا حرام ہے ۔ اپنا الو ٹیڑھا ہو تو عورت کا ووٹ ڈالنا حرام ہے ۔خاتون کا مرد معالج سے معائنہ حرام ہے۔ کسی کے نزدیک مانع حمل عمل حرام ہے تو کسی کی نظر میں پولیو سے بچاو¿ کے قطرے حرام ہیں ۔ محض ” کچھ “ ہیں جن کے لئے خود کش حملے حرام ہیں ۔کچھ کے نزدیک سب کے نہیں ، اپنی فوج سے برسرپیکار ہونا حرام ہے ۔

حالیہ دنوں میں آنے والے فتووں کے مطابق تو بوفے کھانا بھی حرام ہے ۔مگر مزیدار بات یہ ہے کہ کیا حرام ہے، اس پر اتفاق بھی حرام ہے۔ حرام لفظ ایک اور انداز سے بھی ہمارے کانوں میں پڑتا رہتا ہے میرے گھرانے جیسے ٹپیکل گھرانوں میں بچوں کو امائیں جب زیادہ پیارآئے تو کہا کرتی ہیں حرام ہے جو تم نے کبھی ایک بار کی کہی سن لی ہو یا حرام ہے جو کبھی ضرورت کے وقت بجلی نہ جائے یا حرام ہے جو کبھی سکون میسر آیا ہو زندگی میں ۔

مگر اب ایک نیا مسئلہ حرام ہمارے سامنے ہے ۔ اور حرام ہے کہ اس پر بھی اتفاق نظر آیا ہو ۔ ایک جانب علمائے کرام کی ایک فوج ہے جس نے جیو نیوز کو دیکھنا حرام قرار دے دیا اور دوسری جانب جیو نیوز پر قوم سے مخاطب علماءہیں جنہوں نے اس کی نفی کردی ۔ ایک جانب انتہائی سزا کے خواہش مندوں کی فوج دھرنے کو تیار ہے تو دوسری جانب ایسے علمائے کرام بھی ہیں جن کی گزارش ہے کہ معاملہ رفع دفع کیا جائے ۔

دونوں جانب ، دونوں جانب کے علماءموجود ہیں۔ اتفاق اس بات پر ہے کہ جو ہوا ، نہیں ہونا چاہیے تھا مگر اس بات پر اتفاق نہیں ہے کہ اب کیا ہو اور کہاں تک ہو۔ یہ صورت حال افسوسناک ہے اور یہ بات اور بھی افسوسناک کہ مذہب جو یکجا ہونے کی وجہ ہے اس کے ٹھیکیداروں کے باعث اس معاملے پر اختلاف ہے ۔ مذہبی لوگوں میں اختلاف کھلے عام ذرائع ابلاغ پر زیر بحث آئے تو مذہبی دلیل کے سامنے مذہبی دلیل آتی ہے ان کا باہم ٹکراو¿ بہت تشویشناک ہے ۔ لیکن ساتھ ہی ایک اچھی بات ہے کہ ٹی وی نے اپنی اسکرین کا حمام خود کھول کراپنے آپ کو ننگا پیش کردیا ہے ۔ جس گستاخانہ مواد اور عمل کے باعث حرام حرام کی پکار شروع ہوئی ،تھی وہ عمل اس سے پہلے ریٹنگ کے بھوکے دیگر بھیڑیے بھی انجام دے چکے ہیں ۔ کہیں اسی انداز میں انجام دیا گیا تو کہیں اس سے ہزار ہا درجے بدتر انداز میں۔ منقبت بھی پڑھی جاتی رہی اورنوجوانوں کا رقص بھی ہوتا رہا ۔

اب رات آٹھ بجے والے سابق نگران وزیر کو جواب دینے صبح نو بجے والے سابق وزیر مملکت میدان میں آگئے ہیں ۔ کھیل وہی زنانہ لڑائی جیسا ....ہم نے ایک بار چلائی اور معافی بھی مانگ لی تم نے تین بار چلائی اور چپ سادھ لی ۔ ہم حرام تو تم حلال کیسے ؟ اور پھر کچھ مہربان یاد دلاتے ہیں کہ ایک دکان اور ہے اور وہ بھی اونچی بلکہ بہت اونچی دکان۔ پاکستان کی ٹی وی دکانوں میں سولہویں منزل پر قائم واحد دکان ۔ اس تمام لڑائی میں یہ ادارے ایک دوسرے کا گند ہمارے سامنے پیش کررہے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح میدان سیاست کے کھلاڑی ایک دوسرے کا لبادہ اتارتے ہیں اور عوام محظوظ ہوتے ہیں ۔ فتوی آجانے کے بعد ایک دل چسپ بحث سوشل میڈیا پر چھڑ گئی۔ سوال اٹھتے رہے کہ اگر جیو دیکھنا حرام ہے تو اس حرام عمل سے کیا ہوگا ؟ کیا ایک گھنٹہ جیو دیکھنا تنسیخ نکاح کا باعث تو نہیں ہوجائے گا؟ یا اگر جیو دیکھتے ہوئے چائے پی لی گئی تو کیا وہ شراب میں تو نہیں بدل جائے گی ؟ سوال یہ بھی اٹھایا گیا کہ اگر جیو کھانے کی میز پر بیٹھ کر دیکھ لیا تو چکن حلال رہے گا یا نہیں ؟ کسی متفکر مسلمان نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جیو دیکھا تو وضو ساقط تو نہیں ہوجائے گا ؟ یہ سوال بھی کچھ کے دل و دماغ کو پریشان کرتا رہا کہ حرام جیو دیکھنے کا کفارہ کیا ہوگا ؟ لیکن اس سوال کا جواب سوشل میڈیا کے مفتیان کرام کے پاس موجود تھا ۔ فتویٰ جاری ہوا کہ حرام عمل کے بعد کفارے کے طور پر اے آر وائے دیکھا جائے ۔ ثواب کے لئے ایکسپریس کی اسکرین اور اجر عظیم کے لئے آج سے جڑا جائے وغیرہ وغیرہ ۔

مجھے یاد ہے کہ میں چاچا جی کا مارننگ شو سات پچیس پر کارٹون ختم ہونے کے بعد ادھورا چھوڑ کر اسکول چلا جاتا تھا اور جب کبھی اسے مکمل دیکھنے کا موقع ملتا تو مستنصر حسین تارڑ کے اس شو میں خطاطی بھی سیکھنے کو ملتی ، فوٹو گرافی بھی ہوتی، کچھ فنون سکھائے جاتے ، دستکاری پر دسترس نظر آتی اور آج کے سنجیدہ اور بامقصد طلعت حسین ایک ابھرتے ہوئے صحافی کے طورپراسکرین پر جچتے تھے، مگر آج کل کے مارننگ شو کی چڑیلیں روحوں سے بد روحوں تک ساس بہو کے جھگڑوں سے میاں بیوی کی تمثیلی طلاق تک اور کرتے پاجاموں سے زیر جاموں تک سب کچھ شو پر زیر بحث لاتی ہیں ۔ جعلی عامل کا جعلی عمل ٹی وی کی اسکرین پر ضعیف الاعتقاد لوگوں کو صبح صبح دکھایا جاتا ہے، پھر دن بھر ٹی وی یہ رونا رویا جاتاہے کہ ملک کے فلاں علاقے میں جعلی پیر نے کسی کو معذور کردیا یا کسی کا جن نکالنے کے بدلے کسی کی جان نکال لی، سویرے سویرے آپ کو مارننگ شو کسی قبر کنارے مل جائے گا ۔ان لوگوں نے ٹی وی کو قبرستان پہنچادیا ہے ۔یہ ناتجربہ کاری اور لاعلمی کے کمالات ہیں ۔ لفظ کی حرمت ان شوز میں نہیں رہی کیونکہ ان شوز میں کہا کم جاتا ہے او ر ” شو“ زیادہ کیا جاتا ہے۔ ٹی وی مالکان کی سوچ ہے کہ جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے ۔ لیکن اب یہ سمجھ میں آجانا چاہیے کہ حرام ہے جو ایسی کوششیں حلال رہیں ۔ ان کے بعد تو مرغی حلال ہوتی ہے پھر جاکے حرام ، حلال ہوتا ہے ۔ اور ویسے مرغی تو حلال ہو گئی اب دیکھئے حرام کتنے دنوں میں حلال ہوتا ہے ۔

مزید : کالم