شام میں ایران کی اصل جنگ امریکاسے ہے،جنرل محمد اسکندری

شام میں ایران کی اصل جنگ امریکاسے ہے،جنرل محمد اسکندری

تہران(این این آئی)ایرانی پاسداران انقلاب کے بیرون ملک سرگرم عسکری گروپ القدس فورس کے مرکزی نگران جنرل محمد اسکندری نے کہا ہے کہ شام میں جاری لڑائی دراصل ایران کی امریکا کے خلاف جنگ ہے جو شام کے محاذ پر لڑی جا رہی ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے وسطی ایران کے شہر ملائیر میں شامی حکومت کی امداد کے لیے فنڈ ریزنگ مہم کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جنرل اسکندری نے اعتراف کیا کہ ہم دمشق کو باغیوں کے خلاف جنگ کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔ یہ جنگ شام کی نہیں بلکہ ایران کی ہے،انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران شام میں امریکا کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ بشارالاسد کی حمایت میں ایران نے 42 بریگیڈز اور 138 بٹالینز فوج بھیجنے کی تیاری کر رکھی ہے تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں.

کہ دمشق حکومت کو اتنی بڑی تعداد میں فوجی کمک کب پہنچائی جائے گی، انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران شام کی جنگ میں براہ راست ملوث ہے، ہم نے بشار الاسد کی فوج اور ان کی حامی عسکری تنظیموں کو صرف فوجی سامان ہی فراہم نہیں کرنا بلکہ ان کی ہر پہلو سے مدد کرنا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں گذشتہ کچھ عرصے سے بڑے شہروں میں ’’متاثرین شام‘‘ کے نام سے فنڈز جمع کرنے کی ایک غیر معمولی مہم جاری ہے گو کہ اس مہم کو شامی عوام کے نام سے متعارف کرایا جا رہا ہے، مگر جمع ہونے والے فنڈز شامی حکومت کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ملائر شہر میں فنڈ ریزنگ مہم کے لیے منعقدہ تقریب میں جنرل محمد حسین ہمدانی اور جنرل محمد اسکندری نے خطاب میں عوام سے شام کے لیے بڑھ چڑھ کر عطیات دینے کی اپیلیں کیں۔

مزید : عالمی منظر