ینگ ڈاکٹرز اور انتظامیہ آمنے سامنے

ینگ ڈاکٹرز اور انتظامیہ آمنے سامنے

لاہور(جاوید اقبال) چلڈرن ہسپتال میں انتظامیہ اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن آمنے سامنے آ گئے ہیں’’پھڈا‘‘ ہسپتال میں انتظامیہ کی طرف سے قائم کی گئی ماڈل فارمیسی کے قیام پر ہوا جس میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ان کی نشاندہی پر ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے قائم کی گئی ماڈل فارمیسی سے ڈرگ انسپکٹروں نے چھاپہ مار کر زائد المیعاد ادویات،ان کے نمونے جو فروخت نہیں ہو سکتے اور وہ ادویات جو سرکاری سطح پر غریب مریضوں کے لئے خریدی گئی تھیں ان سے ناٹ فار سیل کے سٹیکر اتار کر قیمتاً فروخت کیا جا رہا تھاان کو برآمد کیا اور فارمیسی سیل کر دی وائی ڈے اے کا کہنا ہے کہ فارمیسی کا ڈرگ سیلز لائسنس بھی نہیں تھا جس کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے یومیہ بنیادوں پر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے دوسری طرف ہسپتال کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر احسن وحید راٹھور کا کہنا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن چودھراہٹ قائم کرنے کے لئے ’’ڈرامہ‘‘ کر رہی ہے چلڈرن ہسپتال میں پرائیویٹ فارمیسی نہیں ماڈل فارمیسی ہے جو سرکاری ہے اور مریضوں کو ہی فارمیسی پر مارکیٹ سے 15فیصد رعایتی قیمت پر بھاری ادویات میسر ہیں انہوں نے کہا کہ دراصل واقعہ یہ ہے کہ وائی ڈے اے چلڈرن ہسپتال کے صدر ڈاکٹر یاسر نے بیک ڈور بند راستے سے زبردستی گذرنے کی کوشش کی ملازمین نے انہیں روکا تو انہوں نے دیگر ڈاکٹروں کو موقع پر طلب کر کے ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنوایا جس پر دونوں اطراف سے لوگوں میں ہاتھا پائی ہو گئی فارمیسی سرکاری ہے فارمیسی کا ڈرگ سیلز لائسنس محکمہ صحت کو اپلائی کیا ہوا تھا ینگ ڈاکٹرز نے زبردستی ڈرگ انسپکٹرکو طلب کر کے فارمیسی کو سیل کیا، ڈرگ انسپکٹر کو مجبور کیا انہوں نے کہا سیل کی ایک روز بعد ڈی سی او نے ہمارے موقف کو درست قرار دے دیا اور فارمیسی ڈی سیل کر دی انہوں نے کہا کہ وائی ڈی اے چلڈرن ہسپتال کا نظام تباہ کرنا چاہتی ہے فارمیسی سیل کرا کر غریب مریضوں سے سستی ادویات خریدنے کا حق چھیننا چاہتی ہے مگر ایسا نہیں ہونے دیں گے جس کے جواب میں وائی ڈے اے چلڈرن ہسپتال کے صدر ڈاکٹر یاسر کا کہنا ہے کہ ایم ڈی بتائیں گے کہ ماڈل فارمیسی کے نام پر جو لوٹ مار ہوئی اور موقع پر غیر قانونی طریقے پکڑے گئے اس میں کون کون ملوث ہے کون کون حصہ لیتا رہا اگر ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو وائی ڈے اے احتجاج کرے گی جو انصاف ملنے تک جاری رہے گا ایم ڈی ڈاکٹر راٹھور کاکہنا ہے کہ وائی ڈے اے درخواست دے تحقیقات کرا کر کارروائی کریں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1