تحصیل سٹی کی حدود میں تجاوزات کے خلاف آپریشن سست روی کا شکار

تحصیل سٹی کی حدود میں تجاوزات کے خلاف آپریشن سست روی کا شکار


لاہور(اپنے نمائندے سے )تحصیل سٹی کی حدود میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ،سیاسی شخصیات ، سرکاری افسران اور حکومتی اعلیٰ عہدے پر فائز شخصیات کے دباؤ تلے دب کر سست روی کا شکار ہو گیا ریونیو سٹاف بااثر شخصیات کے اشاروں پر ناچنے لگا روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق ڈی سی او لاہور احمد جاوید قاضی کی جانب سے تحصیل سٹی کے اسسٹنٹ کمشنر /ایڈمنسٹریٹر داتا گنج بخش ٹاؤن نیر عبداللہ گنڈا پور کو اینٹی انکروچمنٹ آپریشن کا ٹاسک سونپا گیا جس کے بعد تحصیلدار سٹی شفیق احمد چشتی سمیت دیگر ریونیو افسران و ریونیو سٹاف نے اسلام پورہ بازار، راج گڑھ،گنجہ کلاں اور سول سیکرٹریٹ کے قریب ابھی ابتدائی طور پر غیر قانونی تجاوزات اور تعمیرات کے خلاف آپریشن کا آغاز ہی کیا تھا کہ مقامی سیاسی،حکومتی اور مختلف محکمے کے سرکاری افسران کی جانب سے ناصرف سنگین نتائج کی دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں بلکہ مختلف محکموں کے بعض افسران کے ماتحت ملازمین زبردستی آپریشن رکوانے لگ پڑ رہے اور ایسی دھونس اور دھمکیاں دی جا تی ہیں کہ ریونیو سٹاف کے موقع پر ہی طوطے اڑ جاتے ہیں جس کے بعد اینٹی انکروچمنٹ آپریشن پسند نا پسند کی حد تک محدود ہو کر رہ چکا ہے تحصیل سٹی میں اینٹی انکروچمنٹ آپریشن بری طرح فلاپ ہو چکا ہے جس کی بڑی وجہ ریونیو سٹاف پر اوپر سے آنے والا پریشر اور دباؤ ہے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ریونیو افسران کی اکثریت کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو ڈی سی او لاہور کی جانب سے اینٹی انکروچمنٹ آپریشن جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے دوسری جانب مختلف سرکاری محکموں کے افسران اس آپریشن کو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے رکوانے میں مصروف ہیں قابل ذکر بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہی محکمہ کے اعلیٰ افسران ان کے سفارشی بن کر فون کر رہے ہوتے ہیں

مزید : میٹروپولیٹن 1