قائد اعظم سولر پارک ،ترقی اور خوشحالی کا نیا دور

قائد اعظم سولر پارک ،ترقی اور خوشحالی کا نیا دور
قائد اعظم سولر پارک ،ترقی اور خوشحالی کا نیا دور
کیپشن:   anwaar fareed سورس:   

  

ملکوںکی اقتصادی ‘تجارتی و صنعتی ترقی میں اس کی خارجہ پالیسی کو انتہائی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر خارجہ پالیسی درست خطوط پر استوار نہ ہو تو ملک نہ صرف اقوام عالم میں تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں بلکہ اندرونی و بیرونی محاذوں پراچھے اور قابل اعتماد دوستوں سے بھی محروم رہتے ہیں۔ آج کا پاکستان دہشت گردی ‘لوڈشیڈنگ اور اقتصادی مسائل سے دوچار ہے۔ توانائی کا بحران موجودہ حکومت کو ورثے میں ملا ،جوہماری اقتصادی و صنعتی ترقی کا پہیہ روکے ہوئے ہے۔ مرکز میں وزیراعظم محمد نوازشریف اور پنجاب میںوزیراعلیٰ محمد شہبازشریف برسراقتدار آنے کے شروع دن سے ہی توانائی کے بحران کے مستقل حل‘ بجلی کی پیداوار میں خودکفالت اور غیرملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لئے شبانہ روز محنت کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا چولستان کے صحرا میں جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے سولر پارک کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنا اس عزم کی عکاسی ہے کہ ملک سے اندھیرے دور کرکے روشنیاں لا ئی جائیں۔یہ منصوبہ صرف اور صرف سورج کی شعاﺅں سے چلے گا جس سے مجموعی طور پر ایک ہزار میگاواٹ بجلی ملے گی ، علاقے میں ترقی و خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا اوربے شمار افراد کو روزگار کے نئے مواقع ملیں گے۔قائداعظم سولر پارک کے منصوبے سے 25 برس تک بجلی حاصل ہوگی اور تیل یا گیس کا کوئی خرچ نہیں ہوگا۔

 وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اس سلسلے میں ایک پر وقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے قائداعظم سولر پارک میں 100 میگاواٹ کے پہلے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ ماضی میں کسی بھی لیڈرنے بہاولپور اور چولستان میں موجود روشنیوں کے اس خزانے کو دریافت کرنے کیلئے کوئی اقدام نہیںکیا جو وزیراعظم محمد نواز شریف نے کر دکھایا ہے۔ سورج کی شعائیں اور یہاں موجود ریت پاکستان کیلئے گیس اور تیل سے کم نہیں۔ یہ منصوبہ آئندہ کئی برسوں تک بجلی فراہم کرے گا اور ملک کو اندھیروں سے نکال کر اجالوں میں لے جائے گا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے عام انتخابات میں عوام سے توانائی بحران کے حل کا وعدہ کیا تھا اور سولر پاور منصوبہ اسی وعدے کی تکمیل کی جانب بہت بڑا قدم ہے۔ اگر ماضی میں حکمران سرابوں کی بجائے ان صحراﺅں میں ڈیرے ڈالتے تو ملک میں اندھیرے نہ ہوتے، ہسپتالوں میں مریض بجلی نہ ہونے سے دم نہ توڑتے، طالب علموں کو اندھیروں کے باعث مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور بجلی نہ ہونے سے مزدور نفسیاتی مریض نہ بنتا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت ملک کو لو ڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے دن رات کوشاں ہے اور وزیراعظم محمد نواز شریف نے چند روز قبل کراچی میں 660 میگاواٹ کے کول پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھا ہے جبکہ چند روز بعد وزیراعظم پورٹ قاسم میں 660 میگاواٹ کے ایک اور کول پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں جبکہ رواں ماہ کے آخر میںساہیوال میں 1320 میگاواٹ کے کول پاور پلانٹس کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے۔ ایک برس کے دوران متعدد پاور پراجیکٹس کا سنگ بنیاد صرف اور صرف محنت اور عوام کی خدمت کے جذبے کے تحت ہی ممکن ہوا ہے۔ چین پاکستان کی انتہائی بااعتماد اور بہترین دوست ہے جس نے آزمائش کی ہر گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ چین کی جانب سے 35 ارب ڈالر کا پیکیج تاریخ کا سب سے بڑا پیکیج ہے - چین کے پیکیج کے تحت ابتدائی طور پر فائنل کئے گئے منصوبوں پر تیزرفتاری سے کام کیا جائے گا ۔

100میگاواٹ سولر بجلی کا منصوبہ دسمبر 2014 میں مکمل ہوگا لیکن ہماری پوری کوشش ہے کہ اس منصوبے پر دن رات کام کرکے اکتوبر یا نومبر میں 100 میگاواٹ بجلی حاصل کی جائے جبکہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اس منصوبے سے 10 میگاواٹ بجلی رمضان المبارک میں حاصل کی جائے تاکہ بہاولپور اور اردگرد کے اضلاع کو ماہ مقدس میں بلاتعطل بجلی فراہم کی جاسکے۔ انشاءاللہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں ایک ہزار میگاواٹ کا سولر پاور منصوبہ ایک سے ڈیڑھ برس میں مکمل کرنے کی پوری سعی کی جائے گی جس سے اس خطے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام نے عام انتخابات میں وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کو تاریخی کامیابی سے ہمکنار کیا ہے اور آپ وہی اعتماد آج جنوبی پنجاب کے عوام کو سولر منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ کر انہیں لوٹا رہے ہیں۔

 بلاشبہ سولر پاور پراجیکٹ کا منصوبہ بہت بڑی کاوش ہے۔ اسی طرح نندی پور پاور پراجیکٹ پر بھی دن رات کام ہو رہا ہے اور جلد اس کی منصوبے سے بھی بجلی کی پیداوار شروع ہو جائے گی۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے گدو اور اوچ پاور پلانٹس کا افتتاح بھی کیا ہے۔ بجلی کے اندھیرے دور کرنے اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کا سفر شروع ہو چکا ہے ۔ یہ احتجاج ترقی، ملک کو روشنیوں کی جانب لے جانے، خوشحالی، چین کی جانب سے اربوں ڈالر کے منصوبے لگنے اور 18 کروڑ عوام کی فلاح و بہبود کے خلاف ہے۔ یہ عناصر پاکستان کے دشمنوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں جو کہ ترقی و خوشحالی کی منزل کا راستہ روکنے کے مترادف ہے۔ اگر عزت کے ساتھ اقوام عالم میں کھڑا ہونا ہے، ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو احتجاجی ایجنڈے کو یکسر مستردکرنا ہوگا۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے عام انتخابات میں عوام سے جو وعدے کئے تھے انہیں ہر صورت پورا کیا جائے گا اور ملک کو قائدؒ اور اقبالؒ کا پاکستان بنا کر دم لیں گے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ قائد اعظم سولر پارک کے قیام سے نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان بھر سے اندھیروں کو اجالوں میں بدلنے اور معیشت کا پہیہ رواں رکھ کر اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لئے سنگ میل ثابت ہوں گے۔

مزید :

کالم -